انسان اور حالات - عین علی

میں تحریر کا فن تو نہیں جانتا بس کچھ شوق اور اس سے زیادہ کسی کا میری ذات پر مان اور خواہش کا احترام ہے۔ ہاں! اتنی چاہت اور نیت ضرور ہے کہ میرے لفظوں سے اگر کسی کا بھلا نہیں ہوتا تو کم از کم کسی کی گمراہی کا سبب بھی نہ بنیں۔ انسان ہوں اور حالات کا شکار بھی، مگر اپنی ذات سے باہر نکل کر دیکھتا ہوں تو ہر انسان کسی نہ کسی حال کی گرفت میں قید دکھائی دیتا ہے۔ بہت کم ایسے ہیں جو حال میں خوش دکھائی دیتے ہیں، شاید ہم لوگ خوش ہونا بھول گئے ہیں یاں خوش رہنا نہیں چاہتے۔

اکثریت کے مسائل کی بنیادی وجہ روزگار کا ہونا یا نہ ہونا ہے۔ کیونکہ آج کے اس دور میں پیسے پر یقین شاید اللہ کی ذات پر یقین سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔ بلاشبہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پیسے کا ہونا بہت اہمیت رکھتا ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ پیسہ نہ ہونا انسان کی ناکامی اور اس کے تمام مسائل کی وجہ ہے۔

اسلام کی تعلیمات کامیابی اور ناکامی کے اسباب کچھ اور بتاتی ہیں۔ انسان کو درپیش حالات یا تو اللہ کی جانب سے اس کی آزمائش ہیں یا پھر اس کے اچھے برے اعمال کا نتیجہ۔ اگر حالات اسے اپنے رب کے اور قریب کردیں تو وہ جان لے کہ اللہ اسے آزمانا چاہتا ہے اور کامیاب کرنا چاہتا ہے۔ اگر بات اس کے برعکس ہو تو وہ اس کے اعمال کی سزا ہے۔ کسی کی بتائی گئی یہ بات آج تک دل و دماغ پر نقش ہے۔

دراصل ہماری نظریں اللہ سے ہٹ کر لوگوں پر جم گئی ہیں۔ ہم نے کامیابی کا معیار جنت کے باغوں کے بجائے چند گھنٹوں کی چھاؤں کو بنا لیا ہے، جو خود موسم کے محتاج درخت تلے ہے۔ مالی لحاظ سے خود سے بہتر لوگوں پر حسرت بھری نظر رکھنے والے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا شمار ان حاسدوں میں کروا لیتے ہیں جن کے بارے میں قرآنِ پاک پناہ مانگنا سکھاتا ہےاور یہی وہ چیز ہے جو انسان کو نا شکرا بناتی ہے۔

اچھا بننا، اچھی زندگی گزارنا، اپنی ذمہ داریوں کو آسانی سے پورا کرنا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے مگر ان کو پانے کے لیے صحیح راستے کا انتخاب، اللہ کی ذات پر یقین اور اس کی تقسیم کو تسلیم کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر اس تقسیم اور اس میں چھپی حکمت کو انسان سمجھ جائے تو اپنی ہر کمی پر اللہ کی رضا میں راضی ہونا آ جائے گا۔

مگر افسوس صبح خالی پیٹ اڑان بھرنے اور شام کو سیر ہو کر اپنے گھونسلوں میں لوٹنے والے پرندوں کےقصے سنانے والوں کا بھی اللہ کے رازق ہونے پر یقین کمزور ہوتا نظر آتا ہے۔وہی تعلیم جو انسان کو اپنی پہچان کرواتی ہے، اچھے برے کی تمیز اور زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، آج اسی کے حصول کا مقصد صرف اور صرف ایسی نوکری حاصل کرنا رہ گیا ہے جو انسان پر روپے پیسوں کی نہ ختم ہونے والی بارش کر دے۔چاہے اس کے لیے اسے اپنی عزت ہی کیوں نا داؤ پر لگانی پڑے۔

اب تو گھر گھر تربیت کا معیار یہ بنتا جا رہا ہے کہ بچہ بچہ اللہ کو بھول کر کاغذ کے چند ٹکڑوں کے عوض اپنے معصوم خوابوں کا سودا کرے۔ جب بچپن ہی میں ضرورت مقصد بن جائے تو جوانی کا اللہ ہی حافظ ہوگا!

المیہ ہے کہ اب ہم میں ایسے افراد بہت کم رہ گئے ہیں جو کسی دوسرے کو دیکھ کر دل سے خوش یی محسوس کرتے ہوں۔ اپنے سے اوپر دیکھنے کے بجائے ایسے لوگوں کو شکر گزاری کی نیت سے دیکھتے ہوں جن کے دنیاوی حالات ہم سے کم بہتر ہوں۔ ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ ہمارے گھروں میں بے برکتی، چاہے وہ کسی بھی صورت اور نوعیت کی ہو، کیوں ہے؟ سکون اجنبی سا لفظ کیوں بن گیا ہے؟ اللہ کی رضا ہمیں ظلم اور بوجھ کیوں محسوس ہونے لگی ہے؟ لوگ صرف شراب نوشی اور زنا ہی گناہ سمجھتے ہیں؟ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کیا گناہ نہیں؟ اللہ کی طرف سے اس کے کسی بندے کو نعمت مل جائے تو ہمارے دلوں کا حسد میں زنگ آلود ہو جانا کیا گناہ نہیں؟ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کامیابی کا جو اصل راستہ بتایا ہے اس سے ہمارے قدم اجنبی ہیں، کیا یہ گناہ نہیں؟ سڑک کنارے ریڑھی سے دال چاول کی پلیٹ کھاتے ہوئے سامنے پنج ستارہ ہوٹل کا بہترین کھانا کھانے والا کیوں نظر آتا ہے؟ وہی قریب ہی خالی جیب اور بھوک کی داستان سناتی آنکھوں والا کیوں نہیں دکھتا؟

اچھی زندگی گزارنے کی خواہش بری نہیں لیکن اسے پانے کی جستجو میں اللہ کی دی گئی نعمتوں کی قدر کرنا بہت ضروری ہے۔اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، ذرا سوچیں کہ اللہ نے جو نعمت دی ہیں ان کی ناقدری اورخواہشوں کو پانے کی تھکن مل کر ہمارے وجود کو اتنا وزنی تو نہیں بنا رہی کہ آنکھوں کے سامنے جنت ہو اور قدم اپنے ہی بوجھ کو اٹھا کر اس میں داخل ہونے سے قاصر ہوں؟حقیقت یہی ہے کہ جنت کی محرومی کے مقابلے میں دنیا میں محروم رہ جانے کی کوئی حیثیت نہیں ۔