بچوں کے پاکستانی چینل پر بےہودہ اشتہارات - تنزیلہ یوسف

آج کل ایک چینل پر صابن کے ایک نئے اشتہار میں ایک حاملہ خاتون کو اپنے آنے والے بچے کے لیے کمرہ سیٹ کرنے میں اپنے شوہر کی مدد کرتے اور ساتھ ہی صفائی کی اہمیت یاد دلاتے دکھایا گیا ہے، اور جس چینل پر یہ اشتہار چل رہا ہے، وہ بچوں کا کارٹون چینل ہے۔ اگر بھارت کا کوئی چینل ہوتا تو دل کو یہ کہہ کر ہی تسلی دے دی جاتی کہ وہاں تو ایسے اشتہارات بھی دکھا دیے جاتے ہیں جو بچے تو کجا بڑوں کے دیکھنے کے بھی نہیں ہوتے لیکن یہ اشتہار پاکستانی چینل پر دکھایا جا رہا ہے۔ کیا اس چینل کی نشریات پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی اجازت سے نہیں دکھائی جا رہیں؟ کیا پیمرا آنکھیں بند کیے ہوئے ہے؟ یا ہمیشہ کی طرح ”عوامی ردعمل“ پر پابندی کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے؟

یہ پہلا موقع نہیں کہ بچوں کے اس چینل پر اس قسم کے واہیات اشتہارات دکھائے گئے ہیں، جس میں بلوغت کی دہلیز پر قدم رکھتی ایک لڑکی اپنی ماں کے کہنے پر نہانے جاتی ہے تاکہ خود کو جراثیم سے محفوظ رکھ سکے۔ حیرت کے ساتھ ساتھ دکھ بھی ہے، حیرت اس بات پر کہ کیا ارباب اختیار بجوں کے ذہنوں میں انڈیلے جانے والے اس ”سلو پوائزن“ سے واقعی لاعلم ہیں یا انہوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے؟ اور دکھ اس بات کا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی ہمیں یہ خرافات دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

کیا یہ اعصابی حملے نہیں ہیں کہ جن کی ڈوریاں کہیں اور سے ہلائی جا رہی ہیں؟ مادر پدر آزاد معاشرے پیدا کرنے والوں کی ترجیحات اب مسلمان بچوں کے معصوم اذہان کو آلودہ کرنا اور ان کی بنیادوں کو ہی خراب کر دینا ہیں۔

بچے کسی بھی ہوں پیارے ہی لگتے ہیں اور ان کی خاص بات معصومیت ہے۔ لیکن پے در پے اعصابی حملوں کے بعد کیا ان کی معصومیت برقرار رہ پائے گی؟ شاید پیمرا کو تو یہ احساس نہیں لیکن یہ سب دیکھ کر ایک ماں کی حیثیت سے میں بہت پریشان ہوں۔ ٹیلی وژن دیکھنے کا ویسے ہی دل نہیں کرتا کہ نیوز چینلوں کی ریٹنگ کی دوڑ اور ڈراموں میں منفی رحجانات ہیں، لیکن اب بچوں کے چینل بھی اس سے آزاد نہیں ہیں۔

اس لیے کوشش کریں بچوں کو اکیلے ٹی وی نہ دیکھنے دیں، انہيں غیر محسوس انداز میں مفید سرگرمیوں میں مصروف کریں تاکہ یہ سب ان کی نظروں سے نہ گزرے۔ وقت سے پہلے آگہی ہمیشہ نقصان دہ ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اس وقت مغربی معاشرے کی تباہی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔