روشن خیال تاریک عقل - شاف وکیل

ایک مولانا صاحب کی تصویر دیکھی جس میں محترم کھیرے کاٹنا سکھا رہے تھے اور ان کے ساتھ ہی امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے "ناسا" کی ایک تصویر بھی لگائی گئی اور شيئر کرنے والے یہ باور کروانا چاہ رہے تھے کہ دنیا خلاؤں میں پہنچ گئی ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں؟ یہ صرف ایک شخص نہیں اکثر آزاد و روشن خیال افراد کی سوچ ہے اور بغض میں اخلاقیات کا دامن چھوڑنا اب ان کا معمول بن چکا ہے۔

ذرا تصور کیجیے اگر اسی طرح کا کوئی پروگرام کوئی 'بابو' یا 'گورا' کر رہا ہوتا جس میں"سبزیوں کوبہتر انداز میں کاٹنا" سکھایا جاتا تو شایدردعمل یہ ہوتا کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کتنے پروٹین اور وٹامن ضائع کرتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ بات بتانے والے کا حلیہ ان کو پسند نہیں اس لیے تقابل ایڈوانسڈ سائنس سے کیا جا رہا ہے۔ یعنی اب مولوی انہیں تھیوریٹیکل فزکس کے بارے میں بتائیں، انہیں مریخ کی آب و ہوا کے بارے میں بھی آگاہ کریں اور یہ بھی مولوی کی ذمہ داری ہے کہ وہ جینیاتی تبدیلیوں پر بحث کرے۔

اب ان "دانشوروں" سے سوال کیا جانا چاہیے کہ ایک شخص ہر کام کر سکتا ہے؟ ایک کمپیوٹر سائنس کا طالب علم کیمسٹری کا فارمولا کیسے حل کر سکتا ہے؟ اسی طرح بایولوجی کے اسکالر کو ریاضی کے اہم ترین مسائل کا علم ہوگا؟ لیکن یہی عجیب خواہش مولوی سے منسوب کی جاتی ہے کہ وہ جہاز بھی اڑائے اور جنازہ بھی پڑھائے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی کارکردگی دکھائے اور مسجد کا بھی انتظام سنبھالے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا ہو بھی رہا ہے لیکن اللہ کے بندو! ہر شخص وہ کام کرتا ہے جس میں وہ ماہر ہو۔

سائنس کے میدان میں کارکردگی دکھانا ہماری جامعات، کالجوں سے نکلنے والی کھیپ اور انہیں پڑھانے والے اساتذہ اور سائنس دانوں کا ہے اور اس میدان میں جو کارنامے اب تک دکھائے گئے ہیں، وہ سب پر عیاں ہیں۔ شاید اس میں بھی قصور مولوی کا ہی ہوگا۔

یہاں پر علماء پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کام کریں جن کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر ہے یعنی اسلام کا اصل پیغام لوگوں تک پہنچانا۔ محبت اور امن کا درس دینے میں ہمارے علماء بحیثیت مجموعی ناکام رہے ہیں اور اس ناکامی کا ذمہ دار انہیں ٹھہرانا چاہیے، نہ کہ انہیں مریخ پر پانی کی تلاش میں ناکامی کا طعنہ دیا جائے۔ بغض مولوی میں اتنا اندھا بھی نہیں ہونا چاہیے کہ معاشرے کی ہر برائی کے پیچھے مولوی ہی نظر آئے۔