ایاز نظامی حوالات میں کیوں روتا ہے؟ زوہیب زیبی

بقول FIA آفیسر، ایاز نظامی کو روتا ہوا پایا۔ وجہ پوچھنے پر کہنے لگا کہ راتیں جاگتے کٹتی ہیں، نیند بالکل نہیں آتی۔ جب اسے کہا گیا کہ موت کا تو اک وقت مقرر ہے، پھر
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟ تو کہنے لگا کہ ایک تو مچھر بہت کاٹتے ہیں اور اصل بات یہ کہ بچوں کی بھی بہت یاد آتی ہے.

یہ بات سنی تو میری آنکھوں میں اس کے موبائل میں موجود اپنے ڈیڑھ دو سالہ بیٹے کے ساتھ وہ ڈھیروں تصاویر گھوم گئیں جو اس نے بچے کے ساتھ بیتائے پلوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے اٹھتے بیٹھتے، کبھی گود میں اور کبھی لیٹ کرکھینچی تھیں۔ اگر اس معاملے کو دجال کے عبادت گزاروں یعنی ایلومیناٹیز کے دنیا بھر میں پھیلائے گئے ”جعلی فلسفہ انسانیت“ کے تناظر میں دیکھیں تو یہ بہت بڑا ظلم لگے گا کہ چند تصورات کے مجموعے (مذہب) اور ایک شخص (یعنی کسی بھی مذہب کے بانی و پیشوا) کے نام پر کسی زندہ انسان کی زندگی برباد کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ لیکن اگراسی معاملے کو ”حقیقی انسانیت“ کی آنکھ سے دیکھیں تو ہمیں لاکھوں انسانوں کا دل دکھانے اور اپنی زبان و سرگرمیوں سے ان کی زندگیوں میں تلخیاں گھولنے والے اس عفریت اور ننگ انسانیت شخص کے ساتھ کیا جانے والا سلوک عین انصاف لگے گا کیونکہ نظامی جیسے لوگ اس دنیا کا سکون برباد کرنے کی بنیادی وجہ ہیں۔

کفر و الحاد کے ان تمام آلہ کاروں یعنی دیسی ملحدین کو یہ معلوم ہونا جانا چاہیے کہ وہ کچھ بھی کر لیں، دین کے معاملے میں مسلمانوں کی غیرت کا کوئی حل نہیں نکال سکتے۔ بھلے ہی سارا میڈیا ان کے پیچھے کھڑا ہو جائے اور دنیا کے اکثر وسائل پر قابض دجالی عبادت گزار پشت پناہ بن جائیں. اسلام کی گستاخی کرنے کے بعد وہ مستقل طور پر اپنے لیے درد سر مول لے چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے اگر انسانوں کی طرح اپنی فیملی میں ہنسی خوشی زندگی گزارنا اور اپنے بچوں کی اٹکھیلیوں کے مزے لوٹنا چاہتے ہیں تو پھر رہنا بھی انسانوں کی طرح ہی پڑے گا۔ کچھ عرصے کے لطف اور تھوڑے سے پیسوں کے لالچ میں اپنی زندگیوں اور خاندان کی خوشیوں کا سودا کرنا کچھ عقلمندی نہیں. عرصہ دراز تک بھیانک ترین جرم کرنے کے بعد اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی سیکولر لابی یا کسی میڈیا اینکر کے واویلے سے وہ بچ سکیں گے تو یہ ان کی بڑی بھول ہے۔ آج نہیں تو کل، ایک نا ایک دن ”ان بطش ربك لشديد“ کا شکار ضرور ہو گے۔

مشعل خان کیس میں سیکولر لابی کی سرگرمیوں پر بھی انھیں زیادہ پھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ماورائے عدالت کارروائی کے اگرچہ ہم مؤید نہیں، لیکن بہرحال اس سے اس کا جرم نہیں چھپ سکتا۔ اگرچہ ماضی کی قانونی اور پرامن جدوجہد کے مطابق اس بارے میں زیادہ کہنے کی ضرورت تو نہیں لیکن پھر بھی بعض احباب کی اس غلط فہمی کا ازالہ کرنا چاہوں گا کہ شاید میں ذاتی فیصلے سے توہین رسالت کی سزا دینے کا ہمنوا ہوں. اگر اتنے تشدد پسند ہوتے تو ایاز نظامی کا ڈیٹا ایجنسیوں کے حوالے کرنے کے بجائے خود اس کی گردن مروڑ دیتے. عرصہ دراز ہوا، ایسے بہت سے جیالوں نے آفرز پیش کی تھیں کہ خالد تھتھال یا نظامی جیسے ایجنٹس کو جو بھی جہنم واصل کرے گا، ہم اسے اپنی آدھی جائیداد ہدیہ کریں گے لیکن ہم نے ایسے جیالوں سے دور کا سلام ہی بہتر سمجھا. چنانچہ خالد تھتھال عرف غلام رسول کا ڈیٹا بھی پہلے اداروں کو ہی دیا تھا اور جب ان لوگوں نے اس بارے کئی ماہ کے انتظار تک ڈھیل دکھائی، تب اسے آن لائن اپلوڈ کیا گیا. مشعل خان کے بارے بھی ہمارا مؤقف یہی ہے کہ اس کے جرم کے تمام ثبوت محفوظ کرنے کے بعد اداروں کے حوالے کرنا چاہیے تھا نیز اگرچہ وہ مجرم تھا لیکن اس کے باوجود جن لوگوں نے ذاتی اغراض و مفادات کے لیے اس کے جرم کو آڑ بنا کر ماورائے عدالت قتل کیا، وہ بھی سخت مجرم ہیں، جنہیں یقیناً قرار واقعی سزا ملنی چاہیے. رہ گئی عوام یا ہجوم، تو ان کو ہم قانون کی بالادستی نہ ہونے کے سبب بوجہ مایوسی، معذور گردانتے ہیں.

مشعل قتل کا ہر وہ شخص ذمہ دار ہے جس نے آسیہ مسیح کی سزا میں روڑے اٹکائے تھے، اس کا ذمہ دار ہر وہ مغربی غلام ہے جو پاکستان کے ملی تشخص کو یورپی آقاؤں کی خوشی کی بھینٹ چڑھاتا ہے، اور قانون توہین رسالت کے خلاف ہذیان بکتا ہے. ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ عوام کے ذاتی فیصلے پر اعتراض تو رہا ایک جانب، انہوں نے FIA جیسے قانونی ادارے کے گستاخی رسول جیسے کیسز کو قانونی طور پر حل کرنے کی غرض سے، اخبار میں دیے گئے اشتہارات تک کو شدت پسندی قرار دیا اور قانونی اداروں تک پر مولویوں کی طرح شدت پسندی کو فروغ دینے جیسا الزام لگا دیا.

تو سوال وہی ہے جو پہلے بھی کئی بار سیکولرز کی زبانیں گنگ کر چکا ہے کہ ماورائے عدالت سزا پر تم چیختے ہو اور عدالتوں میں اول تو فیصلے کی نوبت آنے نہیں دیتے، آ جائے تو لفظوں کی دہشت گردی کرتے ہوئے اس فیصلے کا فٹ بال کھیلتے ہو، آخر تم چاہتے کیا ہو؟ کفر کا ننگا ناچ؟ مغربی تسلط؟

ایسے نہیں چلے گا کے مصداق تمہیں اپنے شعور و لاشعور سے اس منافقت کو نکال کر کھل کے سامنے آنا ہوگا، تبھی معاملات حل ہو سکتے ہیں. ہم ہر حال میں اسلامیت کا غلبہ اور نظام مصطفی چاہتے ہیں، یہ ہمارا واضح اور دو ٹوک بیانیہ ہے... تم بھی کھل کر یہ کہنے کی ہمت کیوں نہیں رکھتے کہ تم بہرحال ون ورلڈ آرڈر کا قیام چاہتے ہو.
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی