میں کہاں رہتی ہوں - نیر تاباں

سینٹ جانز مشرقی کینیڈا کے صوبے نیوفاؤنڈلینڈ کا شہر ہے اور ملک کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ محض 2.1 لاکھ کی آبادی کے ساتھ اسے چھوٹا شہر کہہ لیجیے یا بڑا قصبہ، دونوں ہی طرح بات ٹھیک محسوس ہوتی ہے۔ چھوٹا شہر ہونے کی وجہ سے جو بات ہمیں بہت پسند ہے، وہ یہ کہ کسی کے گھر جانا ہو یا کام پر، سودا لینے جانا ہو یا شاپنگ کے لیے مال جانے کا ارادہ ہو، سب کچھ دس پندرہ منٹ کی مسافت کے اندر اندر ہے۔ یوں فٹافٹ منزل پر پہنچنے کی طمانیت ایک طرف، ساتھ بہت سے وقت اور توانائی کی بچت بھی ہو جاتی ہے۔

سینٹ جانز ایٹلانٹک اوشن/ بحرِ اوقیانوس کے ساتھ واقع ہے اور سمندر کے کنارے ہونے کی وجہ سے یہاں کے موسم میں نمی ہے۔ موسم سال بھر معتدل سا رہتا ہے، گرمیوں میں تیز گرمی نہیں ہوتی اور سردیوں میں برفباری تو ہوتی ہے لیکن درجہ حرارت بہت زیادہ کم نہیں ہوتا۔ یہاں کینیڈا کے کسی بھی دوسرے شہر کی نسبت زیادہ دھند ہوتی ہے، زیادہ ہوائیں چلتی ہیں، زیادہ بادل رہتے ہیں اور ملک میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بارشیں بھی ہمارے ہی شہر میں ہوتی ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ سینٹ جانز اپنے رہنے والوں کے friendliest ہونے کے لیے بھی مشہور ہے۔ رہنے کے اعتبار سے ملک کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہاں کرائم ریٹ بہت ہی کم اور خودکشی کے کیسز بھی سال میں اوسطاً دو ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

باقی بہت سے شہروں کی طرح یہاں بھی ہائی سکول تک تعلیم مفت ہے۔ اس کے بعد بہت سے کالجز اور یونیورسٹیز ہیں لیکن میموریل یونیورسٹی ملک کی ٹاپ پر آنے والے تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ نہ صرف پڑھائی کے اعتبار سے بہترین ہے، بلکہ سستی ترین یونیورسٹیز میں سے ہے۔

ڈاؤن ٹاؤن کے ساتھ سڑکوں کے کنارے پر تمام گھر تیز رنگوں میں رنگے گئے ہیں جو انتہائی دیدہ زیب لگتے ہیں۔ انہیں جیلی بینز رو (jelly beans row) کہا جاتا ہے اور سینٹ جانز ان کے لیے مشہور ہے۔

بہار کا موسم شروع ہونے پر جب برف کچھ جمی اور کچھ پگھلی سے ہوتی ہے، اس وقت سمندر میں icebergs دیکھنے جانے کا بھی اپنا مزہ ہے۔ آئس برگز کو دیکھ کر ہمیشہ Titanic کی طرف دھیان جاتا ہے کہ بظاہر چھوٹا دکھنے والا آئس برگ کس قدر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹائٹینک اسی سمندر میں یہاں سے اندازاً 300 میل کے فاصلے پر ڈوبی تھی۔

گرمیوں میں وہیل مچھلیاں سمندر کی سطح تک آنے لگتی ہیں۔ انہیں دیکھنے کے لیے دو گھنٹے کا سمندر کا ٹرپ لیا جاتا ہے۔ اگر قسمت اچھی ہو تو مچھلی اوپر تک جمپ کرتی نظر آ جاتی ہے، ورنہ دو گھنٹے کا سمندر کا سفر کر کے، نمکین ہوا میں کچھ سانس لے کے اور قدرت کے تاحد نظر پھیلے حسن کو دیکھ کر واپس آ جائیے۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com