تصور ِ کامیابی - شاکراللہ چترالی

یہ ایک تنقیح طلب امر ہے کہ یہ جو بعض لوگ غیر ضروری اور لا طائل مہم جوئیوں میں جان کھپا دیتے ہیں اور ایسے کارنامے انجام دینے کو سرگرداں رہتے ہیں جن کا اِک نام بنانے کے سوا کوئی خاص فائدہ پیشِ نظر نہیں ہوتا، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

کسی آدرش کے لیے جان دینا قابل ِفہم ہے، کسی دنیوی مفاد اور لالچ پر مر کھپنا معمول کی بات ہے، کسی علمی سرگرمی میں بصد دل و جان انہماک ایک معقول رویہ ہے، اور خود مٹ کر کر دوسروں کو مٹنے سے بچانا بھی نہایت مبارک عمل ہے۔ لیکن وہ کون سی بات ہے جو ماؤنٹین ایورسٹ سر کرنے جیسی بظاہر لاحاصل مگر جان گداز مہمات پر ایک خلق کو نہ صرف آمادہ کرتی ہے بلکہ انجام دہی تک برابر مہیز کا کام دیتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ خالقِ کون و مکان نے جب ایک خاص مقصد کی خاطر انسان کو ہست و بود کی اس دنیا میں انتخاب ِخیر و شر کے کلی اختیارات کے ساتھ بھیجا تو پھر جہاں آزمائش کے واسطے بدی کو ساتھ کر دیا، وہاں صحیح رخ پر ڈالنے کے لیے بھی کئی نظام اتارے یہ رجال اللہ کا سلسلہ، یہ کتب ِسماویہ، یہ عقل کا نور، اور یہ ہر سو بکھری قدرت کی نشانیاں۔

بایں ہمہ بعض مرتبہ انسان اندھی، بہری جبلّی قوتوں اور نفسانی خواہشات کے آگے ایسا بے بس ولاچار ہو جاتا ہے کہ عقل کی روشنی گویا بجھ جاتی ہے، قدرت کی نشانیاں کچھ بھی سمجھانے سے قاصر ہوجاتی ہیں، کتابیں ایک طرف، انسان رجال اللہ سے بھی ہدایت کیا لیتا، الٹا ان سے بھی الجھ جاتا ہے۔ بنا بریں عین شان ِرحیمی کے موافق ان جبلی قوتوں کا راستا روکنے کے لیے آدرش کی محبت کو اللہ تعالیٰ نے زبردست زور آور جذبہ بنا کر اندروں رکھ دیا۔ اب اگر انسان عقل کی رہنمائی میں نشانیوں سے صحیح سمت کا اندازہ لگا کر خالقِ کائنات کے ارسال کردہ پیغامات کی روشنی میں درست آدرش کا انتخاب کر پاتا ہے تو نہ صرف یہ جبلی قوت مطمئن و سرور ہو جاتی ہے بلکہ منزل کی طرف انسان کی سواری کو ایڑ لگا دیتی ہے، پھر انسان کو موافقت ِفطرت کی بدولت بامعنی حیات نصیب ہو جاتی ہے اور اس سے بڑھ کر انسان حقیقی ارتقائی منازل کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی بھی وجہ سے درست آدرش کا انتخاب انسان سے نہیں ہو پاتا ہے تب بھی آدرش کی محبت کا یہ قوی جذبہ خاموش نہیں ہوتا، انسان کو جستجو پر غیر محسوس انداز میں اکساتا رہتا ہے۔ پھر درست رہنمائی میسر نہ ہوتوانسان اس جذبے کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کی تسکین کی خاطرکبھی کوہ پیمائی کی لا حاصل مہم پر نکل جاتا ہے کبھی کسی علمی سرگرمی میں لگ جاتا ہے. یہ تب ہوتا ہے جب انسان کی ذہنی سطح اونچی، فکر بلند اور ہمت عالی ہو ورنہ زر، زن یا زمین کا حصول ہی، ہمہ اوست، کا درجہ لے لیتا ہے۔ پہلی صفات کے لوگ خال خال ہوتے ہیں، دوسرا طبقہ ہی اکثریت میں ہے۔

اب سیکولر مغرب نے جب مذہب کا راستہ روکنا چاہا تو جہاں اس کے ہر تقاضے اور داعیے کو طاقت کے بل بوتے اور کہیں دھونس دھاندلی کے ذریعے ہر ممکن دبانے کی کوشش کی، وہاں ان کا متبادل بھی ڈھونڈ نکالا۔ چنانچہ آدرش کی محبت کے فطری جذبے کی تسکین کے لیے متبادل کے طور پر تصور ِکامیابی کا نظریہ پیش کیا گیا، چونکہ اس حوالے سے اکثریتی رجحان پیشِ نظر تھا، اس لئے قرعہ فال ترقی کے نام بطور تصور ِ کامیابی نکلا، پھر ترقی کا یہ نعرہ اس زور و شور سے بلند ہوا کہ جواس سے ٹکرائے گا، پاش پاش ہوجائے گا، والی کیفیت بن گئی. ملمع سازی اس قدر کہ یہ نصب العین سے بڑھ کر ایک فیشن اور سرمایہ صدافتخار بن گیادیکھا دیکھی مشرق میں بھی ترقی پسندانجمنیں اور پارٹیاں وجود میں آگئیں، اس سے اعتقادات میں تزلزل آگیا،خیالات اور رجحانات بدلنے لگے،
مذہب نے پکارا اے اکبر اللہ نہیں تو کچھ بھی نہیں
یاروں نے کہایہ قول غلط تنخواہ نہیں تو کچھ بھی نہیں
دوسری خوبی اس نظریے کی یہ تھی کہ یہ ٹرک کی بتی ہے جو دور ہوتی جائے گی، کبھی ہاتھ نہیں آئےگی گویا دامن ِامید کو گوہر ِآرزو سے مالا مال ہونا ہی نہیں، انسان زندگی بھر سرگرداں رہے تب بھی حسرتوں کے بوجھ تلے ہی دفن ہونا پڑے گا کہ بہت نکلے میرے ارماں مگر پھر بھی کم نکلے، یوں زندگی بھر آدرش کی طرف پلٹے گا کیا؟ اس حولے سے سوچنے کا موقع بھی میسر نہیں ہوگا۔
شباب ِ عمر نے کھویا طمع نے دین لیا
فلک نے ہم سے بڑی نعمتوں کو چھین لیا

یہ بھی پڑھیں:   درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو - سلمان رضا

ایسا کیوں ہے؟وجہ یہ ہے کہ ترقی کا کوئی متعین پیمانہ اور محدود معیار نہیں ہے کہ جناب بہت ہوگیا، اب بس، کیوں کہ ترقی نام ہے موجودہ سطح سے بلند ہونے کا، اور سب سے کم ترین سطح یہ ہے کہ انسان کو جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنے کے لیے نان شبینہ، تن ڈھکنے کے لیے کپڑا اور گرمی سردی سے بچاؤ کے لیے مکان تک میسر نہ ہو. دوسری سطح یہ ہے کہ یہ تینوں چیزیں بمشکل ِتمام میسر ہوں، آسائش نہ ہو. تیسری بات یہ ہے کہ آسائش کا بھی کسی قدر سامان ہو مگر آرائش نہ ہو. چوتھی سطح یہ ہے کہ ضرورت، آسائش اور زیبائش کہ اتنا مال و دولت ہو کہ اب اپنی ذات و عیال پر خرچ کرے تو اسراف اور رکھے تو ذخیر ہ اندوزی ہو جائے. پانچویں سطح یہ ہے کہ دولت کے ساتھ شہرت اور ناموری بھی ہو اور چھٹی سطح یہ ہے کہ دولت اور شہرت کے ساتھ ساتھ اقتدار اور حکومت بھی ملے. اس سے بھی آگے چلو تو یہ تینوں چیزیں دائمی، بلاشرکت ِغیرے ملے اور یہ سلسلہ نسلوں نسلوں تک جاری وساری رہے۔ مزے کی بات یہ کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والے بھی موروثی سیاست کی بنا پر درپردہ نسل درنسل منتقل ہونے والی بادشاہت پریقین رکھتے ہیں۔
ایک کا حصہ من وسلوی
ایک کا حصہ تھوڑا حلوا
ایک کا حصہ بھیڑ و بلوا
میرا حصہ دور کا جلوا

اب بھلا یہ تیسری سطح ہی کتنوں کو میسر ہے؟ اکثریت اس سے محروم ہے. چوتھی سطح میں آ کر یہ گراف اور بھی نیچے چلاجاتا ہے. پھر حکومت مل بھی کتنوں کو سکتی ہے؟ البتہ جمہوریت کے نام نہاد نعرے کی بنا پر طمع تو ہر کوئی کر سکتا ہے، آخر جو ترقی فلسفۂ ِحیات ٹھہرا۔ ایسی صورتِحال میں ترقی کی تمام منزلوں کو عبور کرنا از قسمِ ناممکنات ہے۔ آخر یہی کہنا پڑے گا۔
عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
ان حسرتوں سے کہ دو کہیںاورجا بسیں
اتنی جگہ کہاں اس دل ِ داغدار میں

لیکن اس کاایک لازمی نقصان یہ بھی ہوگا بلکہ ہو رہا ہے کہ انسان کولہو کا بیل توبن جائے گا مگر حیات کی چند ساعات کو ترس جائے گا، پھر غیر فطری وہ بھی ادھورے مقصد اور آدرش کے پیچھے لگنے کی وجہ سے سخت اعصابی تناؤ کا شکار ہوگا، جو طاقتور جبلی جذبے کی عدمِ تسکین کا ضروری ردّ عمل ہے، آخر یہ خودکشیاں کیوں ہیں؟ فرائیڈ کی بات اگر درست ہو تی تو آج یہ مسئلے جنم ہی نہ لیتے، کہیں اور نہیں تو کم ازکم مغرب میں اس حوالے سے کوئی آئیڈیل ملک ضرور ہوتا۔ کئی سال پہلے ایک معروف قلمکار نے چشم دید واقعہ لکھا تھا کہ ہالینڈ کے وزیرِاعظم نے پاکستانی وزیرِاعظم کو کہا تھا کہ تم مسلمان کبھی ترقی نہیں کرسکتے، تمھارا عقیدۂ ِآخرت اس بات سے مانع ہے۔ مجھے نہیں معلوم وہ صاحب اس بات سے کیا نتیجہ اخذ کرنا چاہتے تھے؟ اس کا جواب مسلمانون کی شاندار تاریخ ہے مزید تفصیل کے لیے ہزارسال پہلے نامی ایک کتاب قابلِ دید و داد ہے۔ دوسرا جواب تحقیقی نوعیت کا یہ کہ پہلی سطح پر موجود لوگوں پر حلت و حرمت کے عام قوانین تک کا اطلاق نہیں ہوتا، ان کو جان بچانے کی خاطر ہر ممکنہ طریقہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں بلکہ حکم ہے، دوسری اور تیسری سطح کے لوگوں کے لیے شریعت نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی سہولت عطا فرمائی ہے کہ دنیا بھی کماتے جاؤ، قرب و محبت بھی پاتے جاؤ، یہ قصہ گوئی یا خطیبانہ کلام نہیں ہے حدیث ہے الکاسب حبیب اللہ، ہاں! البتہ شرائط ملحوظ ہیں، چوتھی سطح، یہ وہ مرحلہ ہے جہاں شریعت بیچ میں آجاتی ہے لیکن کیوں؟ کیا ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ اور آگے بڑھانے کے لیے ، مگر وہ کیسے؟

یہ بھی پڑھیں:   جھگڑامیں اور تو کاہے - ایم سرورصدیقی

یہ وہ سطح ہے کہ رکھے تو ذخیرہ اندوزی، اور یہ ہر عام وخاص جانتا ہے کہ ذخیرہ اندوزی سے ترقی کا عمومی عمل رک جاتا ہے، حرکت ہی نہ ہو تو برکت کیسے؟ دوسروں پر اس کا منفی اثر پڑے گا جیسے ڈالر کے اسٹاک سے پچھلے دنوں ہوا، خرچ کرے تو اسراف ہے یعنی ضرورت، آرائش و آسائش سے بھی آگے بڑھ گیا جیسا کہ مترفین کا مقبول وطیرہ رہا ہے، یہ بھی وسائل کا ضیاع و زیان ہے، ترقی میں مدد ہرگز نہیں اور اس سے کئی اور منفی نفسیاتی اثرات معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں، جو کہ بلاخر فسادفی الارض کی اتھاہ گہرائیوں میں لیجا اتارتے ہیں، یہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ تو یہاں پر شریعت بیچ میں آگئی کہ اپنی نیت ٹٹول دیکھو، وہ کیا ہے؟ ہل من مزید؟ کی طلب ہے تو باز آجاؤ کیوں کہ اب ذخیرہ اندوزی کرے گا یا اسراف دونوں ترقی مخالف عمل ہیں، اور اگر نیت یہ ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچاؤں گا براہ ِراست یا بالواسطہ ہی سہی مثلاََ غریب علاقوں میں صنعتیں لگا کر لوگوں کو روزگار مہیا کر دے یا اجارہ داریوں کو ختم کر کے مہنگائی کے عفریت کو بھگا دے، ایسی نیت ہے تو پھر آگے بڑھ کر فرش پر خلقت دعا گو ہوں، عرش سے رحیموں پر رحمت کی برسات ہوگی اور خیر الناس کا عظیم ایوارڈ دربار ِرسالت سے ملے گا. دوسری طرف ذخیرہ اندوزی سے غریبوں میں احساسِ کمتری پیدا ہوگی پھر حقیقی معنوں میں وال اسٹریٹ گراؤ تحریکیں جنم لیں گی اور دنیا کو تہہ و بالا کردیں گی۔ نفع رسانی سے احساسِ کمتری کے بجائے محبتیں پیدا ہوں گی، بندہ اللہ کے بھی قریب ہوگا، بندوں کو بھی پھر تحریکوں، ڈاکوں، چوریوں، اور قتل وغارت گری کی نوبت نہیں آئے گی، امن و امان ہوگا اور اطمنانِ قلبی اور سکون بھی، جہاں تک یونینوں، سودی نظام اور طرح طرح کی لاٹریوں وغیرہ کا تعلق ہے، یہ فریب کی چالیں ہیں، اڑنگے پر مارتے ہیں ان سے تو، الحذر الحذر.

شہرت اور حکومت یا حبِّ جاہ اور حبِّ شہرت یہ شرعاََ مذموم جذبے ہیں، پھر ان کا حصول خاص طورپر معقول اور معروف طریقے سپر انتہائی مشکل امر ہے، نتیجتاََ سعیٔ لاحاصل میں لگنے سے کئی نفسیاتی مسائل کا انسان شکار ہو سکتا ہے اور اگر ان چیزوں کے حصول کے لیے اوچھے ہتھکنڈیوں اور دھونس دھاندلیوں سے کام لینا پڑگیا تو ان کی قباحتیں ظاہر و باہر ہیں۔ بہرحال اسلام ترقی مخالف مذہب نہیں ہے البتہ ترقی کا اپنا ایک الگ تصور رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ ترقی کی دو قسمیں ہیں، روحانی یا اخروی ترقی اور جسمانی و دنیاوی ترقی، پہلی قسم اصل ہے دوسری تابع ہے، لہٰذا دنیاوی ترقی کیلئے روحانی ترقی کے تقاضوں کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے، ٹکراؤ کی کیفیت کہیں پیدا ہو تو پھر غارت گر سامان ہو۔
سامان کی محبت میں مضمر ہے تن آسانی
مقصد ہے اگر منزل تو غارت گر سامان ہو

یاد رہے کہ تصادم کی یہ کیفیت ترقی کی چوتھی سطح سے پیدا ہوناشروع ہوگی مگر اس نہج پر اس کو خوش اسلوبی کے ساتھ بآسانی نمٹایا جاسکتا ہے جیسا کہ گزر چکا۔ پانچویں سطح سے انتخاب ہی تقریباََ واحد حل ٹھہرتا ہے۔ اس صورت میں جتنی بھی دنیاوی ترقی نصیب ہوگی تو بامعنی انداز میں ہوگی فطرت اور جبلت سے ہم آہنگی کی وجہ سے سکون بھی ملے گا ورنہ سراب کی تلاش میں نہ ختم ہونے والی بے سکونی مقدر، فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے۔
ذوق حاضر ہے تو پھر لازم ہے ایمانِ خلیل
ورنہ خاکستر ہے تیری زندگی کا پیرہن
ہے اگر دیوانہ ٔغائب تو پرواہ نہ کر
منتظر رہ وادی فاراں میںخیمہ زن ہو کر