اک اور جعلی پیر، اک اوراصلی واردات - حافظ یوسف سراج

انسانیت کا لہو کر دیتی جن خاردار بیڑیوں سے نسلِ انسانی کو بچانے مذہب آیا تھا، افسوس عیار شیطانی ہوس نے انھی بیڑیوں میں جکڑنے کا خود مذہب ہی کو آلہ بنا ڈالا۔ ربعی بن عامرؓ کی طرف منسوب قول ہے، اسلام آیا، تاکہ یہ بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی کی آزادی دلا سکے۔ افسوس مگرادنیٰ زمیں زادوں کے اسفل مفاد نے زیادہ دیر انسانوں کو آسمان تک سر بلند نہ رہنے دیا۔گھناؤنے مفاد نےگردن سے انسانی رفعت کو پکڑا اور پاتال میں جھونک دیا؎
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جہالت و حیوانیت کی تازہ سفاکانہ داستان اب کے جنوبی پنجاب میں رقم ہوئی۔ جنوبی پنجاب کہ جس کے نام پر سیاست تو بہت ہوتی ہے، عبرت و غربت اور پسماندگی و درندگی سے جس کی مگر کبھی خلاصی نہیں ہوتی۔ یہ اک جعلی پیرکی تازہ واردات ہے۔ بچے کے والدین دم کروانے اسے پیر صاحب کے پاس لائے۔ دوا کو پلے پیسے نہ ہوں گے اور نادان والدین لباسِ خضر میں چھپے ایسے شکاریوں کو جانتے نہ ہوں گے، ورنہ کیوں لاتے؟ آہ! سو بیماریوں کی اک بیماری یہ غربت اور سولاچاریوں کی ماں یہ اک جہالت۔ پیر کے نام پر بیٹھے جعلی درندے نے بچہ کسی کو بیچا اور والدین سے کہا کہ گائے لاؤ، تب بچہ ملے گا، یعنی اپنے ہی بچے کی واپسی بھی ایک گائے سے مشروط ہو گئی تھی۔ بنی اسرائیل کی ساری نحوستوں کا اکیلا وارث یہ بد بخت درندہ۔ ایک مجرم کی تلاش کے لیے انھیں توگائے ذبح کرنا تھی، یہ مگر والدین کو ان کا معصوم لوٹانے کی قیمت گائے مانگتا تھا۔ دراصل غریب والدین گائے لا نہ سکتے تھے، چنانچہ معصوم کی قیمت یہ ہضم کر جاتا۔ بھلا بغیر مذہب کا نام لیے کیا یہ کام اتنا ہی آسان ہوتا؟ ظاہر ہے، بچے کے اغوا کے لیے الگ خرکاری کرنا پڑتی اورگائے چوری کے لیے الگ منصوبہ بندی۔ اب نام چونکہ مذہب کا بیچ میں تھا، چنانچہ لٹنے کے لیے یہاں دونوں خود حاضر تھے۔ پھراس طرح یہ درندہ اغوا کار پلس چور کہلانے کے بجائے بدستور مقدس و عالی مقام بھی رہتا ہے۔ یہ والدین مگر اچھے رہے کہ ممتا اور شفقتِ پدری نے مذہب کے نام پر پڑے ان کی آنکھوں سے غافلانہ عقیدت کے پردے ہٹا دیے۔ وہ گائے لانے کے بجائے پولیس لے آئے اورگائے بچا کر بچہ بازیاب کروا لے گئے۔ صد شکر کہ یہ ایک اچھا انجام ہوا۔ البتہ ہمیشہ ہی ہم اتنے خوش قسمت ثابت نہیں ہوتے۔

اس سے پہلے فیروز والا نامی گاؤں کے حوالے سے ہمیں ایسے ہی کسی نام نہاد بلکہ بدنہاد پیر کے کہنے پر ایک ماں کے ہاتھوں اپنے ہی لختِ جگر کو ذبح کر ڈالنے کی دل دوز خبر روتی آنکھوں سے پڑھنا پڑی تھی۔ حیرت سے آدمی سوچتا ہے کہ بچے کے لیے محبت کا آخری استعارہ ہوتی ماں، اپنے ہی ہاتھوں کی پوری قوت سے، اپنے ہی جنم دیے پھول بدن کو، سفاک خنجر سے ٹکڑوں میں بانٹنے پر آخر کیسے تیار ہو جاتی ہے؟ دودھ پلانے والے ممتا بھرے ریشمی ہاتھ اپنے ہی چاند کو کیسے لہو میں نہلا سکتے ہیں؟ چھپکلی سے ڈر جانے والی صنفِ نازُک خوشبودار سانسیں لیتے ننھے انسانی نرخرے کو آخر کیسے قطع کر ڈالتی ہے؟ ریشم کا گولا ہوتے گداز بدن کی شریانوں کے اندر بہتے گرم لہو کو اپنی ممتا کے دامن پر بکھرتے دیکھنا کیسے گوارا کر لیتی ہے؟ ظاہر ہے وہ ایسا تب نہ کرے کہ جب اسے جہالت تعلیم نہ کی گئی ہو۔ جب ایسے کالے کرتوت اسے مذہب نہ کر دکھائے گئے ہوں اور جب اسے عقیدے اور عقیدت کے نام پر خرافات اور توہمات نہ سکھائی گئی ہوں تب۔ ممکن ہے آپ بھلا چکے ہوں مگر اس مکروہ ترین درندے اور انسانیت کے نام پر غلیظ ترین دھبے کو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ وہ جوگوجرانوالہ کے نواح میں کالم نگار پروفیسر نعیم قاسم کے گاؤں راہوالی سے اگلے گاؤں میں حیاسوزی کی سپر مارکیٹ کھولے بیٹھا تھا۔ مارچ 2016ء کے آخر میں میڈیا نے اسے رپورٹ کیا اور کامران شاہد نے ایک دردناک پروگرام میں اس پر نوحہ کیا۔ شیطان کا وہ چیلا 300 خواتین کو نہ صرف حاملہ کر چکا تھا بلکہ اپنے اس گھناؤنے کردار کی ویڈیو بھی بناتا رہا تھا۔ ابکائی آتی ہے، جب ہمیں سننا پڑتا ہے کہ اس دوران وہ آیات اور دعاؤں کا ورد بھی کیا کرتا تھا۔ کیا آپ سمجھتے بھی ہیں، 300 خواتین کی عزت کی قیمت کیا ہوتی ہے؟ افسوس ریاست نہیں جاگی اور میڈیا و معاشرے نے بھی اسے اک اللہ توبہ! قسم کی خبر کے طور پر لیا اور بس۔ چنانچہ اس کے بعد بھی ہمیں متنوع مزید صدمے سہنے پڑ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف خواتین کے لیے، تم عورت ہو - ہما فلک

آج بھی بنگالی بابوں، آج بھی ہندو جوگیوں، آج بھی کالے جادوؤں، آج بھی خدائی دعوے داروں اور آج بھی عملیات کی آڑ میں جرائم کرنے والوں کے شرطیہ نتائج کیے دعویدار اشتہار ہمارے اخبارات اورسنڈے میگزینوں میں چھپتے ہیں۔ استخارے کو ہم نے کاروبار بنا لیا۔ یاد آیا کہ ایک پروگرام ٹی وی اینکر مایا خان نے کیاتھا۔ ’’میرے جسم میں کرنٹ سا دوڑ جاتا ہے، جب میں ایسی ایمان افروز باتیں سنتی ہوں۔‘‘ وہ فرماتی تھیں۔ دو میاں بیوی پروگرام میں مہمان تھے، جن کا دعویٰ تھا، فضا سے قرآن مجید انھیں ملا۔ قدرت کی طرف سے ان کے جسم پرلفظ اللہ لکھا گیا اور اب یہ بیوی جب روٹی پکاتی ہیں تو اس پر لفظ اللہ از خود نقش ہوجاتا ہے۔ کیمرہ ان روٹیوں کی نمائش کرتا تھا، جنھیں دیکھ کر ہماری پڑھی لکھی اینکر ایمان افروز ہوئی جاتی تھی۔ کچھ دن بعد طلعت حسین نے اپنے پروگرام میں دکھایا کہ کس طرح پولیس کے چند مادی چھتروں نے اس جوڑے کی روحانیت کی چولیں ہلا دیں اور مزید یہ کہ اللہ کا لفظ جسم اور روٹیوں پر چھاپنے والے آلات بھی اس جوڑے نے تھانے میں جمع کر وا دیے ؎
اب نزع کا عالم ہے مجھ پر تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں

سرگودھا شہر سے پانچ چھ کلومیٹر دور چک 95 شمالی میں واقع مستی سرکار کا چیلا عبدالوحید شاہ تو ابھی کل کی بات ہے۔ جو ڈپٹی الیکشن کمشن کا عہدہ چھوڑ کر مستی دربار پر پیر متعین ہو گیا تھا۔ اس آستانے پر ڈنڈوں اور راڈوں سے تشدد کر کے انسانوں کے گناہ جھاڑے جاتے تھے اور آخری دفعہ اس نے خواتین و حضرات کے کپڑے اتار کر ان پر اتنا تشدد کیا کہ 20 انسانوں کو لاشوں میں بدل دیا۔ جہالت دیکھیے کہ مقتولین کے ورثاء کیس کے مدعی بننے کو تیار نہ تھے۔ ’’پیر صاحب جلالی تھے، اس بار ذرا زیادہ جلال میں آگئے۔‘‘ عقیدت سے وہ یہ فرماتے تھے۔ یعنی جس ایک انسانی جان کے قتل میں سارے اہلِ زمیں بھی ملوث ہوں تو وہ موجبِ سزا ہوں گے۔ وہی 20انسانی جانیں یہاں ایک وحشی درندے کے ہاتھوں تشدد سہہ کر اور عریاں ہو کر عالم بالا سدھار گئیں، مگر چونکہ اسے مذہب کی آڑ میں کیا گیا تھا، چنانچہ اسے ذرا سا زیادہ جلال قرار دیاگیا تھا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہاں ڈنڈے کھانے والے یہ جاہل اور اَن ایجوکیٹد لوگ تھے تو تب آپ کو معاصر اخبار کے کالم نگار اور مذہبی رہنما مولانا امیر حمزہ کی کتاب دیکھنی چاہیے۔ ہمارے دو حکمرانوں کے بارے میں انھوں نے لکھا کہ ایبٹ آباد کے نواح میں یہ ایک پیر صاحب سے ڈنڈے کھانے جایا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک مرحومہ ہو چکیں اور دوسرے کو ان دنوں اقتدار سے محروم کرنے یا نہ کرنے کا شورِ قیامت بپا ہے۔ مصنف نے مذہبی اور سیاسی بابوں پر الگ الگ کتابیں لکھیں۔

یہ بھی پڑھیں:   حجاب عورت کا محافظ ہے - نگہت فرمان

دکھ سے آدمی سوچتا ہے، توہینِ مذہب کے نام پر جانے کتنے بےگناہوں کو بھی خون میں نہلا دیا گیا۔ مذہب کے ایسے بدترین اور غلیظ گستاخوں کو مگر نہ ریاست پوچھتی ہے، نہ اہلِ سیاست، نہ عوام، نہ مذہبی جماعتیں اور نہ سماجی تنظیمیں۔ افسوس! انسانیت کو لہولہان کر دیتی جن خار دار بیڑیوں سے انسانوں کو بچانے مذہب آیا تھا، عیارشیطانی ہوس نے انھی بیڑیوں میں انسانوں کو جکڑنے کا مذہب ہی کو ذریعہ بنا ڈالا؎
بنے ہیں اہلِ ہوس مدعی بھی، منصف بھی
کسے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.