بغاوت سے توبہ کے بعد قانون کا اطلاق - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

باغیوں اور رہزنوں میں یہ بات مشترک ہوتی ہے کہ انھوں نے باقاعدہ ایک قوت اور طاقت رکھنے والے گروہ کی شکل اختیار کی ہوتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ باغیوں کی طرح ڈاکوؤں نے بھی کسی مخصوص خطے پر اپنا تسلط قائم کرلیا ہو۔ تاہم ڈاکوؤں کا کام مالی و مادی مفاد کے حصول یا شخصی انتقام کی حد تک ہوتا ہے جبکہ باغی نظام حکومت یا حکمران کی تبدیلی چاہتے ہیں یا اس اجتماعی نظم سے علیحدگی چاہتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکمران ناجائز بنیاد پر حکومت کر رہا ہے یا یہ نظام ہی سرے سے غلط بنیادوں پر قائم ہے۔ اس طرح وہ اپنے تئیں باطل کو ہٹا کر حق قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے فقہاء اس طرح تعبیر کرتے ہیں کہ باغیوں کے پاس ان کے مؤقف کے متعلق ”تاویل“ ہوتی ہے جو اگرچہ غلط ہوتی ہے لیکن وہ اسے صحیح سمجھتے ہیں۔

پس بغاوت کی دو بنیادی خصوصیات ہیں:
ایک یہ کئی افراد پر مشتمل ایک طاقتور گروہ ہو جو مرکزی حکومت کے خلاف کسی جگہ پر اپنا تسلط قائم کرسکے۔ اس خصوصیت کو فقہاء ”منعۃ“ کی قانونی اصطلاح سے تعبیر کرتے ہیں۔
دوسری یہ کہ ان اہل منعۃ کے پاس کوئی تاویل ہو۔ اگر اصحاب تاویل کے پاس منعۃ نہ ہو تو وہ باغی نہیں ہیں، نہ ہی ان پر بغاوت کے احکام کا اطلاق ہوتا ہے اور اگر اہل منعۃ کے پاس تاویل نہ ہو تو وہ باغی نہیں بلکہ ڈاکو ہیں۔

باغیوں نے جنگ میں اگر اہل عدل کو قتل یا زخمی کیا یا کسی کے مال کو نقصان پہنچایا تو ان کے تائب ہونے کے بعد ان سے قصاص، دیت، ارش یا ضمان نہیں لیا جائے گا، جبکہ ڈاکوؤں کو ان جرائم کی سزا ملتی ہے۔ امام شیبانی کہتے ہیں:
”جب باغی توبہ کرلیں اور اہل عدل میں شامل ہوجائیں تو انہوں نے جو نقصان کیا ہوتا ہے، اس پر ان سے باز پرس نہیں کی جائے گی۔“
اس کی تشریح میں امام سرخسی کہتے ہیں:
”یعنی انہوں نے اہل عدل کی جان و مال کو جو نقصان پہنچایا ہے، ان سے اس کا ضمان نہیں طلب کیا جائے گا۔ اور امام محمد کی مراد یہ ہے کہ یہ اس صورت میں ہوگا جب وہ کسی جگہ اکٹھے ہو کر طاقت و شوکت حاصل کرلیں۔ پس جو کچھ نقصان انہوں نے اس سے پہلے کیا ہوتا ہے، اس کے لیے وہ ذمہ دار ہوں گے، کیونکہ اس صورت میں ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ان کے ساتھ حجت کریں اور انہیں دلیل سے قائل کریں۔ پس ان کی غلط تاویل ضمان کے ساقط کرنے کی باعث نہیں بن سکتی جب تک وہ طاقت و شوکت حاصل نہ کریں۔“
آگے امام شیبانی نے خود تصریح کی ہے کہ اگر بعض لوگوں کے پاس تاویل ہو مگر طاقت و شوکت نہ ہو اور انہوں نے اہل عدل کو نقصان پہنچایا تو انہیں اس کی سزا ملے گی:
”اگر باغیوں کے پاس طاقت نہ ہو بلکہ صرف ایک یا دو افراد کسی شہر میں تاویل کی بنیاد پر لڑیں، پھر امان طلب کریں تو ان پر تمام احکام کا اطلاق ہوگا۔“
امام سرخسی اس کی وضاحت میں کہتے ہیں:
”کیونکہ ان دونوں کی حیثیت رہزنوں کی سی ہے، اور ہم نے واضح کیا ہے کہ تاویل اگر طاقت کے بغیر ہو تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں حجت کے ذریعے قائل کرنے کی ولایت باقی ہے۔“

یہ بھی پڑھیں:   حجاب کے مسئلے کا ایک اور تناظر - ڈاکٹر رضوان اسد خان

امام شیبانی نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگر باغیوں نے طاقت کے حصول سے قبل اہل عدل کے مال یا جان کو نقصان پہنچایا ہو اور طاقت کے حصول کے بعد میں وہ اس بات صلح کرنے پر آمادہ ہوں کہ انہیں وہ جرائم معاف کیے جائیں تو یہ صلح صحیح نہیں ہوگی:
”باغیوں نے خروج اور جنگ سے قبل جو قتل کیے یا اموال کو نقصان پہنچایا، پھر خروج کے بعد ان نقصانات کے ابطال کی شرط پر صلح کرنی چاہی تو یہ صلح جائز نہیں ہوگی اور ان پر قصاص اور اموال کے ضمان سمیت تمام احکام لاگو ہوں گے۔“
امام سرخسی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”کیونکہ یہ بندوں کا حق ہے جس کی ادائیگی ان پر واجب ہے اور امام کے پاس بندوں کے حقوق ساقط کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ پس ان کی جانب سے یہ شرط باطل ہوگی اور اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔“
البتہ طاقت و شوکت کے حصول کے بعد اگر انہوں نے کوئی نقصان پہنچایا ہو تو ان کی تاویل کی وجہ سے ان سے اس نقصان کی تلافی کا نہیں کہا جائے گا باوجود اس کے کہ وہ تاویل باطل تھی۔
”جب ان کے پاس طاقت آگئی تو دلیل کے ذریعے قائل کرنے کی ولایت واضح طور پر ختم ہوگئی۔ پس ان کی تاویل، جو اگر چہ باطل ہے، ضمان کو ساقط کرنے میں اہل حرب کی تاویل کی طرح ہو جائے گی جب وہ اسلام قبول کرلیں۔“
اس سلسلے میں وہ صحابہ کرام کے متفقہ فیصلے کا حوالہ بھی دیتے ہیں جو خانہ جنگی کے موقع پر انہوں نے کیا تھا:
”اس مسئلے میں اصل کی حیثیت امام زہری کی روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب فتنہ واقع ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کافی تعداد میں موجود تھے اور انہوں نے اتفاق کیا کہ جو خون قرآن کی تاویل کی وجہ سے بہایا گیا اس پر دنیوی سزا نہیں ہے، جو شرمگاہ جو قرآن کی تاویل کی وجہ سے حلال کی گئی، اس پر دنیوی سزا نہیں ہے، جو مال قرآن کی تاویل کی وجہ سے ضائع کیا گیا اس پر دنیوی سزا نہیں ہے اور جو چیز بعینہ قائم ہو وہ اس کے مالک کی طرف لوٹائی جائے گی۔“

واضح رہے کہ دنیوی احکام قصاص، دیت، ارش و ضمان کے عدم وجوب کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باغیوں نے جو کچھ کیا وہ بالکل جائز تھا۔ امام محمد نے قرار دیا ہے کہ باغیوں نے اگر اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا تو انہیں فتوی دیا جائے گا کہ وہ نقصان کی تلافی کریں کیونکہ ان کی تاویل فاسد ہے۔ تاہم انہیں اس پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ حنفی فقہ کے اس خصوصی پہلو پر ہم باب دوم میں تفصیلی بحث کرچکے ہیں۔ امام محمد فرماتے ہیں:
”جب وہ توبہ کرلیں تو میں انہیں فتوی دوں گا کہ انہوں نے جان و مال کو جو نقصان پہنچایا ہے، اس کا ضمان دیں۔ البتہ میں اس پر انہیں عدالتی حکم سے مجبور نہیں کروں گا۔“
امام سرخسی اس کی وضاحت میں کہتے ہیں:
”کیونکہ وہ اسلام کا عقیدہ رکھتے تھے اور ان پر ان کی غلطی واضح ہوگئی۔ تاہم چونکہ ان کی طاقت کی وجہ سے ان کو پابند کرنے کی ولایت منقطع ہو گئی تھی اس لیے ضمان کی ادائیگی پر انہیں عدالتی حکم کے ذریعے مجبور نہیں کیا جاسکے گا۔ تاہم اسے فتوی دیا جائے گا کہ وہ اس کی ادائیگی کے لیے اپنے رب کے سامنے جوابدہ ہے۔“
دوسری طرف اگر بعض لوگوں کے پاس طاقت و شوکت ہو مگر تاویل نہ ہو تو ان پر بھی قصاص، دیت، ارش اور ضمان کے احکام لاگو ہوں گے:
”کیونکہ رہزنوں کے پس طاقت تو ہے مگر یہ طاقت تاویل کے بغیر ہے اور ہم نے واضح کیا ہے کہ جو بات باغیوں کے حق میں حکم کی تبدیلی کا باعث بنتی ہے، وہ طاقت اور تاویل کا جمع ہوجانا ہے، اور یہ کہ جب ان میں ایک صفت دوسری کے بغیر ہو تو نقصان کے ضمان کا حکم تبدیل نہیں ہوتا۔“
اگر باغی نے اسلحہ پھینک کر کوئی ایسا جملہ کہا جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ بغاوت سے تائب ہوا تو عادل اسے قتل نہیں کرے گا:
”کیونکہ وہ تو اس سے اسی لیے لڑ رہا ہے کہ وہ جنگ سے توبہ کرے اور یہ مقصد حاصل ہوگیا۔ پس اس کی حیثیت اس حربی کی سی ہو جائے گی جو اسلام قبول کر لے۔ نیز اس کے ساتھ جنگ کا سبب یہ تھا کہ اس کی بغاوت اور جنگ سے خود کو بچائے اور جب اس نے اسلحہ پھینک دیا تو یہ شر دفع ہوگیا۔“

یہ بھی پڑھیں:   کیا ریاست اپنے شہریوں کو مخصوص لباس کا پابند بنا سکتی ہے؟ حافظ محمد زبیر

یہ حکم اس صورت میں بھی ہے جب باغی اسلحہ پھینک کر کہے کہ اسے قتل نہ کیا جائے بلکہ اسے موقع دیا جائے کہ وہ سوچے کہ آیا حکومت کی اطاعت کرے یا بغاوت کا راستہ اپنائے رکھے۔ غیر مسلم اگر امان مانگے تو اسے امان دینا لازم نہیں ہے لیکن باغی اگر اس معاملے میں امان مانگے تو لازم ہے کہ اسے سوچنے کا موقع دیا جائے کیونکہ اس کے ساتھ جنگ کا اصل مقصد اسے جنگ سے باز رکھنا ہے اور جب اس نے اسلحہ پھینک دیا تو یہ مقصد خود بخود حاصل ہوگیا۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.