ضرورت بیانیہ کی نہیں انصاف کی ہے: سہراب نصیر

یونان کے تین عظیم فلسفیوں میں پہلا نام سقراط کا آتا ہے جو افلاطون کا استاد تھا اور اسے اپنے منفرد خیالات کی بنا پر موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ سقراط پر تین طرح کے الزامات تھے، جن میں سے ایک اہم الزام نوجوانوں کو بگاڑنے کے متعلق تھا۔ اس کے بارے میں یہ مشہور کیا گیا کہ وہ نوجوانوں کے سامنے اُن موضوعات کو اہم بنا کر پیش کرتا ہے جن پر غور و فکر کرنا اُس دور میں غیر اہم تھا۔ اسے یہ الزام بھی دیا گیا کہ وہ وقت کے خداؤں کو نہیں مانتا اور اُن کی بجائے دوسرے خداؤں کی تبلیغ کرتا ہے اور پھر اس الزام میں غلو کرتے ہوئے اسے ملحد کہا جانے لگا۔

عدالت میں خود پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے سقراط نے پہلا سوال کیا تھا کہ بالفرض اگر میں نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہوں تو یقیناً میں یہ جاننا چاہوں گا کہ نوجوانوں کی درست رہنمائی کون کر رہا ہے؟ کیا قانون ان کی درست رہنمائی کر رہا ہے؟ جواب ملتا ہے، "ہاں، قانون درست رہنمائی کر رہا ہے۔" پھر وہ یکے بعد دیگرے عدالت، ججوں، سیاست دانوں، قانون دانوں اور عام معاشرے کے متعلق استفسار کرتا ہے کہ آیا یہ سب بھی نوجوانوں کو درست راستہ دکھا رہے ہیں؟ ہر سوال کا جواب اسے "ہاں" کی شکل میں ملتا ہے۔ سقراط اپنے دفاع کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے الزام لگانے والوں سے دریافت کرتا ہے کہ "کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہر شخص، ادارہ اور نظریہ نوجوانوں کو مثبت تعلیم و تربیت دے رہا ہے اور صرف ایک میں (سقراط) ایسا ہوں جو انہیں گمراہ کر رہا ہوں؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو خوش ہونا چاہیے کیونکہ درست رہنمائی کرنے والے بہت ہیں اور گمراہ کرنے والا ایک ہے ۔ لیکن آپ لوگوں کا یہ دعوٰی ہرگز درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔" سقراط تاریخ کی نگاہ میں تو اپنا مقدمہ جیت گیا لیکن زندگی کی بازی ہار گیا۔

آج پاکستان مشرق و مغرب کے درمیان نظریاتی جنگ کا مرکزی میدان ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو قیام کے مقصد میں اسلام کو مرکزی اہمیت حاصل ہونا اور دوسری جنوبی ایشیا میں پاکستان اہم محل وقوع پر واقع واحد اسلامی ملک ہے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہے۔ ایک ایسے عہد میں جب مغرب کا علمی داب و تسلط دنیا کی ذہنی فضا پر چھایا ہوا ہے، اس کے اثرات سے ہمارے ملک کا دانشور طبقہ بھی محفوظ نہیں۔ ہمارے ہاں بھی اسلام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک مہم چل پڑی ہے اور دہشت گردی کی وبا نے اسے مزید ہوا دی ہے۔ اس صورت حال میں روایتی اسلامی فکر موضوع بحث بن چکی ہے اور عوام کی اکثریت جو اس روایتی فکر سے تعلق رکھتی ہے، کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ آپ کا نظریہ بنیادی طور پر شدت پسندی کا نظریہ ہے۔ یعنی شدت پسندی کو کمال قطعیت سے روایتی اسلامی فکر سے منسوب کیا جا رہا ہے اور امن پسند عوام کی اکثریت کو یہ یقین دلایا جا رہا ہے کہ اگر آپ عملی طور پر شدت پسند نہیں ہیں تو نظریاتی طور پر کے اس نہ صرف حامی بلکہ سہولت کار بھی ہیں۔

اس بحث میں ہمارے سماج کے اُن تمام عوامل کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے جو کسی بھی فرد کے رویے اور اس کی سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ایسے میں سقراط کی طرح چند سوالات کی صورت میں ہی حقیقت واضح ہو سکتی ہے۔

فرض کر لیا جائے کہ روایتی اسلامی فکر ہی شدت پسندی کی اصل وجہ ہے تو ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی میں موجود تمام عوامل نوجوانوں کی درست رہنمائی کر رہے ہیں اور انہیں پر امن رہنے کے لیے عملی و فکری مواد مہیا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی پوچھے کہ کیا ہماری عدالتیں نوجوانوں کو انصاف کی امید دے رہی ہیں؟ کیا ہمارے ملک کے نوجوانوں کو میرٹ کی قدر پر یقین ہے؟ کیا ہمارے سیاستدان نوجوانوں کے لیے قابل تقلید کردار رکھتے ہیں؟ کیا ہمارے اساتذہ اپنے شعبہ کو کاروبار کی بجائے قومی فریضہ سمجھتے ہیں؟ کیا ہمارا نظام جھوٹ، فریب، اقربا پروری، رشوت اور کرپشن جیسی برائیوں سے پاک ہے؟

کاش کہ ان سوالات کے جواب میں کوئی شخص ہاں کہنے کی جرات کر سکتا۔ بدقسمتی سے نہ صرف ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے بلکہ صرف نفی کرنے سے بھی صورتحال کا مکمل ادراک مشکل ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارا نظام ظلم و ناانصافی پر قائم نظام کی بہترین شکل ہے۔ اس نظام نے ہمیں اجتماعی طور نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ آئے روز چھوٹی چھوٹی باتوں پر خودکشی اور قتل کے واقعات اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ کھانا وقت پر نہ ملنے پر قتل، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کا محبت میں گرفتار ہو کر خودکشی کرنا، امید سے کم نمبر آنے پر زہر کھا لینا، انصاف نہ ملنے پر خود کو آگ لگا دینا معمول کے واقعات بنتے جا رہے ہیں۔ مبینہ چوروں کو ا اینٹیں مار مار کر قتل کر دینا اور پھر ان کی لاشوں کا پھانسی دینا کوئی نئی بات نہیں۔ ہماری عدالتوں کا یہ حال ہے کہ جب مبینہ ملزمان اپنی ساری زندگی جیل میں کاٹنے کے بعد منوں مٹی تلے دفن ہو جاتے ہیں تو عدالت ان کے بے گناہ ہونے کا فیصلہ سناتی ہے۔

اس نظام کا ہماری اجتماعی و انفرادی نفسیات پر کس قدر گہرا اثر ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب کرپشن کرنا اور رشوت لینا اپنا حق سمجھا جاتا ہے اور ایسا نہ کرنے والے کو بے وقوف کہا جاتا ہے۔ اپنی پوزیشن اور طاقت کے ناجائز استعمال کو بنیادی حقوق جیسی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ ایسے میں یہی غم و غصہ سے بھرا ہوا معاشرہ جو بیان کی گئی تمام برائیاں نظام میں موجود خرابیوں کی بنیاد پر اپنا چکا ہے وہ مذہب کا نام لے کر ظلم ستم کرتا ہے تو روایتی مذہبی فکر کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اس وقت یہ کیوں نہیں سوچا جاتا کہ وہ تمام برائیاں جو اس معاشرہ میں موجود ہیں جن سے مذہب سختی سے منع کرتا ہے اور ان پر عذاب کی واضح وعیدیں سناتا ہے وہاں تو اس معاشرے نے مذہب پر عمل نہیں کیا بلکہ اسے پس پشت ڈال دیا لیکن جب یہی لوگ مذہب کا نام لے کر کچھ کرتے ہیں تو یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ یہاں اِن افراد یا گروہوں نے روایتی مذہبی فکر کی بات مان لی ہے۔ کیا مذہب صرف غلبہ کی بات ہی کرتا ہے اور بقیہ تمام برائیوں کی اجازت دیتا ہے؟

چلیں کچھ وقت کے لیے فرض کریں کے ہمارے حالات بیان کی گئی صورتحال کے برعکس ہوتے۔ ہر طرف انصاف کا بول بالا ہوتا، میرٹ کی حکمرانی ہوتی، غربت کم سے کم اور تعلیم عام ہوتی۔ عوام کی اکثریت بنیادی حقوق و سہولیات سے محروم نہ ہوتی تو کیا مذہب ایسے معاشرہ میں نوجوانوں کو گمراہ کر سکتا تھا؟ اور اگر کر بھی لیتا تو کیا گمراہ ہونے والے نوجوانوں کی تعداد اور شدت ایسی ہی ہوتی جیسی آج ہے؟ اس سوال کا جواب مشکل نہیں لیکن بہت اہم ہے۔

زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ ہم بطور معاشرہ ایک ٹائم بم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایسا ٹائم بم جو پھٹنے کے لیے بالکل تیار ہے اور اسے کسی بہانے کی ضرورت ہے۔ جیسے کسی ڈیم میں پانی جمع کر دیا جائے تو پانی وہاں سے نکلنے کے لیے ہمیشہ درست راستہ کا انتخاب نہیں کرتا بلکہ اسے تو جو راستہ میسر آتا ہے وہ وہاں سے بہنا شروع کر دیتا ہے اور جو کچھ اس کے راستہ میں آتا ہے اسے بہا لے جاتا ہے ۔ ہمارے اندر بھی انفرادی و اجتماعی طور پر غم و غصہ کا ایک سیلاب موجود ہے جسے نکلنے کا راستہ چاہیے اب ہمارے ہاتھ کوئی چور آ جائے یا جیب تراش، کسی لڑکی کی آواز کان پڑ جائے کہ کوئی شخص اسے چھیڑ رہا ہے یا کسی مبینہ مومن کی آواز کہ گستاخی کا ارتکاب ہو گیا ہے، ہم دوڑ پڑتے ہیں بنا دیکھے، بنا سوچے، ہم انصاف کا بول بالا کرنے کا عزم لیے کود جاتے ہیں۔ ہم لاشعوری طور پر جانتے ہیں کہ یہ نظام انصاف نہیں دے گا اس لیے ہم خود عدالت بن جاتے ہیں۔ اب تو مغربی ماہرین بھی اب اس حقیقت کو بیان کر رہے ہیں کہ مسلمان معاشروں میں شدت پسندی کی بڑی وجہ اسلام کی بجائے وہ معروضی حالات ہیں جو ان پر مسلط کیے جاتے ہیں۔

اگر کسی شخص کو دیوار سے لگا دیا جائے تو وہ اپنے بچاؤ کو خاطر اپنے ارد گرد میسر ہر شے کو استعمال میں لاتا ہے۔ اسی طرح جب انسان خودغرض ہو جاتا ہے تو کسی بھی شے یا نظریے کو اپنے ذاتی مفاد یا انا کی تسکین کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاں شدت پسند تنظیموں کو افرادی قوت ایسے ہی غم و غصہ سے بھرے ہوئے نوجوانوں کی شکل میں میسر آتی ہے جو نظام سے تنگ ہوتے ہیں، غربت کا شکار ہوتے ہیں اور بنیادی تعلیم کے حق سے محروم ہوتے ہیں۔ پڑھے لکھے افراد تو کسی مقصد یا ایجنڈے کی بنیاد پر ایسا کر رہے ہوتے ہیں لیکن نوجوان جن کی سوچ ابھی پختہ نہیں ہوتی انہیں نظام میں موجود کمزوریوں کی بدولت اپنے ساتھ ملا لیا جاتا ہے۔ انہیں دکھایا جاتا ہے کہ کیسے اس نظام میں انہیں انصاف نہیں ملے گا اور کیسے حکمران ان کا استحصال کر رہے ہیں۔ اگر اہم ان محرکات کا خاتمہ کر دیں تو یقیناً شدت پسندی کی وبا سے چھٹکارا حاصل ہو سکتا ہے۔ اس قوم کو کسی بیانیے کی ضرورت نہیں نہ یہ قوم کسی بیانیے کی بنیاد پر ایسا کر رہی ہے آپ اسے انصاف دیں، اسے اس کا حق دیں، بنیادی سہولیات فراہم کریں، اس کا غصہ ٹھنڈا کریں تو پھر یہ ترقی بھی کرے گی اور تہذیب یافتہ بھی ہو کر دکھائے گی۔ اسے بیانیہ کی نہیں انصاف کی ضرورت ہے۔

اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ مسلمانوں کا سواد اعظم آج بھی اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتا ہے اور ایک ایسے خدا پر یقین جس کا تعلق بیک وقت ان کے انفرادی و اجتماعی معاملات سے ہو۔ ایک ایسا خدا جو فرد تک محدود ہو اور جب افراد مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیں تو غیر متعلق ہو جائے، مسلمان ایسے خدا سے اجنبی ہیں۔ اس اجنبیت کو ختم کرنے کی علمی کوشش تو کی جا سکتی ہے لیکن اسے مسلط کرنے کے اثرات تباہ کن ہوں گے جس کے اثرات شدت پسندی کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ جہاں شدت پسندی کے 90 فیصد واقعات کا اصل محرک حق خودارادیت کا چھن جانا ہے۔ روایتی مذہبی فکر میں یقیناً کچھ سقم ہوں گے جن کی اصلاح ضروری ہے اور جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روایتی فکر سے تعلق رکھنے والوں کو اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھنا پڑے گا لیکن بقول سقراط اس ( فکر) سے یکسر چھٹکارا ہمارے لیے ہی نقصان دہ ہو گا کیونکہ دین ہماری بھلائی کے لیے اترا ہے ہم اس پر عمل کر کے اس کو فائدہ نہیں پہنچا رہے۔