’پوسٹ کولڈوار‘ سیناریو سمجھنے کی ضرورت - حامد کمال الدین

سرد جنگ کے خاتمہ کے ساتھ ہی، آپ دیکھ رہے ہیں، عالم اسلام کے متعدد خطے جنگ کا میدان بننے لگے۔ کچھ سٹرٹیجک مسلم خِطوں پر باقاعدہ فوجی قبضے مانند افغانستان، عراق، مالی (اور خلیج و مشرقِ وسطیٰ کی آبی گزرگاہیں)۔ کچھ جو پہلے سے مقبوضہ تھے ان پر ازسرنو مظالم مانند کشمیر و فلسطین وغیرہ (جہاں صلیبی مغرب کے حلیف براجمان ہیں)۔ اور کچھ مضبوط جان مسلم ملکوں میں دہشتگردی، تخریب کاری اور عدم استحکام پیدا کرانے کی کوششیں۔ اس دہشتگردی کا خصوصی نشانہ عالم اسلام کی وہ فوجی یا اقتصادی طاقتیں جو کسی نہ کسی سطح پر مسلم دنیا کا سہارا ہو سکتی ہیں، مانند پاکستان، ترکی اور سعودیہ وغیرہ۔ دہشتگردی اور عدم استحکام پیدا کرانے کی اِن سرگرمیوں میں بیرونی ہاتھ اِس قدر عیاں ہو چکا کہ ’مقامی عناصر‘ کی حیثیت آلۂ کار سے زیادہ کی نہیں۔ آخر معاملہ کیا ہے؟ کسی ایک ملک کی بات ہو تو چلیے ہم وہاں کی حکومت یا فوج یا اداروں کی کسی مخصوص غلطی یا کوتاہی یا زیادتی کو اِس پوری صورتحال کی ذمہ داری اٹھوائیں اور آئندہ بھی خدانخواستہ اگر وہاں کچھ ہونا ہے تو اس کا ملبہ اسی ایک آدھ واقعے یا فیصلے پر ڈالتے جائیں...! مگر آپ دیکھ رہے ہیں یہ دھواں تو پورے عالم اسلام میں اٹھنے لگا۔ ہر مضبوط اور ’سر اٹھاتا‘ مسلم ملک اِس وقت ہچکولوں کی زد میں ہے۔ باہر سے اس پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں اور وہ اپنی سرحدوں پر چہار اطراف ’انگیج‘ کرایا جا رہا ہے جہاں بیرونی جارحیت کا سامنا کرنے کے علاوہ کچھ مقامی عناصر کے ساتھ ’چوہے بلی‘ کے ایک کھیل میں وہ بمشکل تمام پورا اتر رہا ہے۔ جبکہ درون میں اس کے شہر اور بستیاں، سڑکیں اور گلیاں، مسجدیں اور بازار دہشتگرد کارروائیوں سے خون میں نہلائے جا رہے ہیں۔

یہ جنگیں ہمارے خیال میں کچھ وقائع نہیں بلکہ ایک دور ہے جس سے عالم اسلام کو گزرنا ہے؛ اور جس کے لیے یہاں بسنے والے ہر ہر طبقے کو ہوش، حوصلے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہے۔ سب سے پہلے، اِس جنگی سلسلے کا پس منظر سمجھ لینا ضروری ہے۔ اس کو کسی ایسے معمولی تناظر میں تو ہرگز نہ لینا چاہیے گویا یہ چند انتظامی غلطیوں یا کچھ سیاسی نارسائیوں کا نتیجہ ہے؛ یعنی چند متنازعہ اقدامات سے گریز کیا ہوتا تو یہ جنگیں آپ کے گھر یا خطے کا پتہ ہی نہ پوچھتیں! یا اب بھی چند ہلکے پھلکے اقدامات کر کے اِس جنگی سلسلے سے باہر آیا جاسکتا ہے! ایسا ہرگز نہیں۔

ہمارے اندازے میں، جتنے بڑے بڑے واقعات ’’عالمی جنگوں‘‘ کے خاتمے پر آپ کو یکلخت دیکھنے کو ملے تھے، اور پھر جیسی عظیم الشان تابڑ توڑ تبدیلیاں ’’سرد جنگ‘‘ کے خاتمے پر دیکھنے میں آئی تھیں، کچھ اسی شان اور قد کاٹھ کی تبدیلیاں اِس تیسرے دور یعنی ’’پوسٹ کولڈ وار جنگوں‘‘ کے خاتمہ پر بھی آپ کو حیران کر سکتی ہیں۔ یا کیا بعید اس سے بھی بڑھ کر۔ اپنے پیش رَو دونوں ادوار کے برعکس، جنگوں کا یہ تیسرا دور وہ ہے جس میں ’’مسلمان‘‘ کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی سطح پر ایک باقاعدہ فریق کے طور پر شریک ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ جس طرح عالمی جنگیں محوری طور پر pivotally جرمن و جاپانی ’’خطرہ‘‘ کے خلاف تھیں (پہلی عالمی جنگ میں جرمن کے ساتھ عثمانی ایمپائر بھی) یا جس طرح سرد جنگ محوری طور پر pivotally کمیونسٹ ’’خطرہ‘‘ کے خلاف تھی (اگرچہ اور بہت سے فریق بھی اس میں حصہ بن گئے یا بنا دیے گئے ہوں) عین اسی طرح یہ حالیہ جنگیں محوری طور پر pivotally اسلامی ’’خطرہ‘‘ کے خلاف ہیں... تو شاید غلط نہ ہو۔ گو اس کی ظاہری شکل و صورت سے کہیں کہیں ایسا نہ بھی نظر آ رہا ہو۔ جنگوں کے اُس دوسرے (کولڈ وار) دور کی حرکیات dynamics اگر پہلے (عالمی جنگوں) والے دور سے مختلف تھیں اور بہت سے جلدباز ذہنوں کو قبل از وقت تبصرہ پر اُکسا رہی تھیں تو اِس تیسرے (پوسٹ کولڈ وار) دور کی حرکیات پہلے دونوں ادوار سے مختلف اور صبر آزما ہو سکتی ہیں (جس سے امکان ہے کچھ سطحی اذہان مسلسل دھوکہ کھاتے چلے جائیں۔ حتیٰ کہ ان میں سے بعض، عالم اسلام پر حملہ آور قوتوں کے ہاتھ میں بھی کھیل جائیں)۔ ہمارے اس سلسلۂ مضامین کا ایک خصوصی مقصد یہ ہے کہ اِس سطحیت کا شکار ذہن کو اس کے قائم کردہ مفروضوں سے باہر لایا اور ایک وسیع تر کینوَس دیا جائے۔ تصویر کے وہ حصے جن پر یہ حضرات انگلی رکھ رکھ کر دکھا رہے ہوتے ہیں بسا اوقات ’اپنی جگہ‘ صحیح ہونے کے باوجود اس لحاظ سے نہایت غلط اور گمراہ کن ہوتے ہیں کہ یہ پوری تصویر میں جڑے بغیر دیکھے اور دکھائے جا رہے ہوتے ہیں یا مصالح اور مفاسد کے ایک وسیع تر تناظر میں نہیں لیے جا رہے ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:   لاس ویگاس واقعہ دہشت گردی نہیں ہے؟ - عمر ابراہیم

اس سلسلۂ مضامین کو پڑھنے کے بعد اغلباً آپ تائید کریں گے کہ وہ دہشت گردی جس کا ہمارے کئی ایک مسلم ملکوں کو سامنا ہے، اور جس میں زیادتی کے ساتھ ’’اسلام‘‘ اور ’’جہاد‘‘ کو بھی ملوث کیا جا رہا ہے... اس میں جہاں کچھ منحرف غالی افکار کو دخل ہے وہاں صورتحال کو دیکھنے کے کچھ محدود اور غلط زاویے بھی اس خونیں سانحے کے ذمہ دار ہیں۔ ان دونوں عوامل کا نتیجہ: کہ جہاں ہمارا کچھ نوجوان سرمایہ ’’اسلام‘‘ اور ’’ملی حمیت‘‘ کے نام پر تخریبی قوتوں کے ہتھے چڑھنے لگا وہاں اِن مسلم ملکوں کے اداروں کا بہت سا وقت، محنت اور وسائل بھی اِس سیکورٹی محاذ کی نذر ہونے لگے۔ یعنی ہر دو صورت قوم کا نقصان۔ معاملہ اس نوبت کو پہنچ جانے کے بعد، بےشک اِس سیکورٹی محاذ پر پورا اترنا ناگزیر تھا اور بلاشبہ اِن ملکوں کی سیکورٹی اور داخلی استحکام اس وقت کا ایک بڑا اسلامی مطلوب ہے، اور جوکہ اِس سلسلۂ مضامین میں جا بجا واضح بھی کیا گیا ہے... تاہم اس مسئلے کا ایک پائیدار حل ہماری نظر میں صرف ’’سیکورٹی اقدامات‘‘ نہیں بلکہ نوجوانوں کی سطح پر ’’نظر‘‘ کی وہ درستی بھی ہے جو ابتداءً یہ مسئلہ پیدا کرانے کا باعث بنی۔

انتہاپسندی کا شکار طبقوں سے ہٹ کر بھی، دین سے وابستہ حلقوں کی یہ ضرورت ہے کہ عالم اسلام کو درپیش ایک بھیانک صورتحال کو یہ درست طور پر دیکھیں اور پھر تاریخ کے اِس اہم موڑ پر اپنا مثبت تعمیری کردار ادا کریں۔ خود یہ طبقے بھی (جن کا انتہاپسندی سے کچھ لینادینا نہیں)، یا ان کا ایک بڑا حصہ، معاملے کو اس کے پورے تناظر میں دیکھ بہرحال نہیں رہا۔ نتیجتاً؛ کوئی اِس صورتحال سے لاتعلق ہے تو کوئی اِس کی غلط تفسیریں کرنے میں مگن۔ اور ایک نادان طبقہ تو اب اس کو ’ریاست بمقابلہ فلاں یا فلاں مسلک‘ دیکھنے لگا! یہ الگ سے ایک آشوب ہے؛ اور آپ کچھ نہیں کہہ سکتے یہ ایک آسان سی گولی دے کر دشمن یہاں آپ کے کیسےکیسے قلعے ڈھانے کی کوشش کرے۔ (دشمن کی نظر ہمارے یہاں پائے جانے والے ایک ایک رخنے پر ہے؛ اور اُس کی ’رینڈ کارپوریشنیں‘ ہمارے ایسے ہر رخنے کا بےرحم استعمال کر جانے پر مصمّم)۔ ان سب حوالوں سے ضروری ہو جاتا ہے کہ اس صورتحال کا، جو عالم اسلام کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی، نقشہ درست طور پر اور ایک بڑے کینوس پر رکھ کر سمجھ لیا جائے۔ ورنہ اندیشہ ہے، کافر کو شکست دینے کے جذبہ کے تحت، یا اپنے ’عقیدے‘ یا ’مسلک‘ یا اپنی کسی علاقائی یا لسانی ’وابستگی‘ کےلیے جذباتیت کا ثبوت دے کر، ہم اپنے ہی خلاف یہ جنگ لڑتے رہیں۔ یا اس جنگ کا ایک بڑا حصہ ہم اپنے خلاف لڑیں۔ خدانخواستہ۔ اور تب ہم اس میں جتنا زور لگائیں، جتنی محنت اور قربانیاں پیش کریں، اتنا ہی اپنا مزید نقصان کریں اور دشمن کو جو صورت یہاں مطلوب ہے اسے پیدا کرنے کے امکانات خود اپنے ہاتھوں بڑھاتے جائیں۔ اپنی ذہانت سے زیادہ، ہماری سادگی اور لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے... دشمن نے واقعتاً معاملہ کچھ یوں ترتیب دے لیا ہوا ہے کہ ہمارے بظاہر ’آگے بڑھنے‘ کی کچھ جہتیں بھی فی الوقت اُسی کے نقشے کو پورا کروا رہی ہیں۔ ہوش مندی یہاں ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہو گا۔ جذباتیت، بےجا تصادم اور آہ و زاری ایسے رویّے چھوڑ کر سمجھداری اور گہرائی کے ساتھ معاملے کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نیا شوشہ، نری جہالت یا سوچا سمجھا منصوبہ؟ – کاشف نصیر

یہ ایک واقعہ ہے کہ کچھ نادیدہ عوامل ہمارے نوجوان کو دو جانب سے گھسیٹ رہے ہیں:
• یہاں کے دین دار نوجوان کو تکفیر اور تخریب کی طرف۔
• جبکہ دین سے غافل نوجوان کو الحاد اور تشکیک کی طرف۔

یہ دونوں انتہائیں extremes معاشرے کو اپنے چنگل میں لینے کی سرتوڑ کوشش میں ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوان کو ہر دو طرف سے بچانا ہو گا۔ اپنے دین کو اِس معاشرے کےلیے اور اپنے معاشرے کو اِس دین کےلیے کارآمد رکھنا اور ہر قیمت پر ان کا جوڑ پختہ کرنا وقت کا بڑا چیلنج ہے؛ جس کےلیے ڈھیروں صبر اور حکمت درکار ہے۔ ہمارے حالیہ سلسلۂ تحاریر کا تعلق کسی قدر پہلے مسئلہ سے ہے۔ یعنی اس نظر کی اصلاح جو دینداروں کے ایک طبقے کو یہاں تخریب کی راہ دکھاتی ہے؛ جس کے نتیجہ میں ’’دین‘‘ کی ساکھ خراب تو ’’معاشرے‘‘ کا امن و استحکام تباہ ہوتا ہے؛ اور پھر ان دونوں واقعات کے نتیجہ میں بیرونی محاذ پر دشمن کی عسکری چڑھائی اور اس کے جنگی منصوبے کامیابی پاتے ہیں جبکہ اندرونی محاذ پر اُس کی لبرل یلغار معاشرے میں ممکن ہوتی چلی جاتی ہے؛ بلکہ اُسے معاشرے کے درمند و خیرخواہ اور قوم کے بزرگ و سرپرست کے رُوپ میں سامنے آنا ملتا ہے؛ جوکہ اُس کی نہایت غیرحقیقی تصویر ہے۔ ’’دین‘‘ کے نام لیواؤں کی طرف سے اِس سے بڑا تحفہ شاید ہی اُس کو کبھی دیا جا سکتا تھا۔ اس پہلو سے اپنے نوجوان ذہن کے کچھ مغالطے جن کا تعلق واقع کی تشخیص اور تجزیہ سے ہے، یہاں ہم دور کرنے کی کوشش کریں گے۔


یہ سب اِس سلسلۂ مضامین کا ایک مقدمہ تھا۔ عالم اسلام پر جو جنگ اِس وقت مسلط کی گئی ہے، اس کے دو بنیادی محور ہیں:

1. پہلا یہ کہ: ’’مسلمان‘‘ کو کسی بڑی جغرافیائی اکائی کے طور پر روئےزمین سے ختم کر ڈالا جائے۔
2. دوسرا یہ کہ: ’’مسلمان‘‘ کو ایک تہذیبی واقعے کے طور پر ختم کر ڈالا جائے۔

جنگ کے یہ دونوں محور آئندہ چند تحریروں میں مفصل بیان کیے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!