آؤ اپنی شناخت کی تصدیق کر لیں - ریاض علی خٹک

جنازہ جارہا تھا. میت کو باری باری کندھا دیتے لوگ پیچھے پیچھے چل رہے تھے. وہ میت جو اپنی سانس ہار چکی تھی، نام و شناخت ہار چکی تھی. زندگی بھر کا اثاثہ چھوڑ چکی تھی. عزیز و اقارب، اپنی نفرتیں و محبتیں ہار کر کچھ کندھوں کے سہارے اپنے آخری مسکن کی طرف رواں دواں تھی. اب کیا ہوگا؟ ایک جنازے کی نماز، تدفین اور چند دن بعد شاید نام کی یاد کا ایک کتبہ.

عمل کی آباد دُنیا سے بےعملی کی آرام گاہ کی طرف میت کو لے جاتے یہ آباد دنیا کے باسی کبھی تاسف سے مرحوم کا ذکر کرلیتے. کبھی پرُ سوچ نگاہوں کے ساتھ اچانک بلاوے کو یاد کرلیتے. کبھی اپنی کسی ملاقات کا کبھی کسی یاد کا. ذکر کمیاب تھا تو عمل کا تھا. ذکر کمیاب تھا تو اس کفن میں لپٹی لاش کے خالی پھیلے ہاتھوں کا تھا. اور درست بھی تھا، کہ عمل کی اس دنیا میں اسباب نظر آتے ہیں، اعمال نہیں.

ہاں ہمیں میت کے اعمال نظر نہیں آ رہے تھے لیکن ہمیں اپنے تو نظر آتے ہیں. ہم میت پر بےاختیار ہیں، لیکن اپنی ذات پر تو طاقت رکھتے ہیں. ہم اگر اپنی ذات پر آشنا ہیں تو سوال یہ ہے کہ آج اپنے ہم نفس کی میت کو تو جنازہ پڑھا کر دفنا آتے ہیں، لیکن اعمال کی میتیں روز اس آباد دُنیا میں پامال ہورہی ہیں. ان کی بخشش کے جنازے کیوں نہیں ادا کرتے؟

اخلاص، ایمانداری، نیکو کاری، حیا، پاکیزگی، انفاق، راست گوئی، میانہ روی غرض کتنے ایسی پہچانیں تھیں جن سے ہمارا معاشرہ کل پہچانا جاتا تھا. کل ان اعمال سے یہ آباد تھا. کل یہ چلتا پھرتا نظر آتا تھا. کل ہمیں اسی شناخت کے ساتھ پکارا جاتا تھا. آج یہ کمیاب ہیں. ان کی میت اٹھی نہ جنازہ ادا ہوا، ہم نے کندھا دیا نہ ان سے کوئی شہر خموشاں آباد ہے، اور نہ ہی کوئی کتبہ لگا.

یہ بھی پڑھیں:   مسابقت - ڈاکٹر بشری تسنیم

ماننا پڑے گا کہ ہماری یہ شناخت فوت نہیں ہوئی، ہاں شاید یہ کھو چکی ہے. ہم اس شناخت کو فراموش کرچکے ہیں. ہم جب کہتے ہیں کہ دُنیا تو بس ایک دھوکہ ہے، تو اسی دنیا کے کچھ دھوکوں نے ہم سے ہماری شناخت چھپا دی ہے، اور اس شناخت کی کوشش میں ہم اسے دوسروں میں ڈھونڈتے ہیں، شاید ہماری یہ تلاش ہی غلط ہے.

اپنی شناخت کی تلاش ہمیں اپنی ذات سے ڈھونڈنی ہوگی. یہی ہماری طاقت ہے. آؤ کہ میت کی تدفین سے قبل ہم اپنی شناخت ڈھونڈ لیں. اس شناخت پر اعمال کا وہ مال بنا لیں جو بلا شبہ اسباب کی دنیا میں نظر نہیں آتا، لیکن اعمال کی دنیا میں یہی وہ متاع ہے جو ہم لے کر جاتے ہیں. آؤ اپنی شناخت کی تصدیق کر لیں

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.