محبت کا دعویٰ اور حاکمیت کی خواہش - عامر بھٹی

مشرق میں رہتے ہوئے لفظ 'رشتہ' سے آشنائی نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ یہ ان چند اثاثوں میں سے ایک ہے جن پر اہل مشرق کو بڑا مان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مشرقی و مغربی تہذیب و اقدار کا تقابل کیا جا تا ہے تو ہمارے ہاں احساسِ برتری کے ساتھ سینہ پھلا کر یہ بتایا جاتا ہے کہ رشتوں کا تقدس اور پہچان آج صرف اہل مشرق کی میراث ہے اور مغرب اس دولت سے محروم ہو چکا ہے۔

رشتہ ہمیں ایک دوسرے سے باندھتا ہے اور رابطے کا محور ثابت ہوتا ہے۔ یہ خاندانی نظام اور اشتراک کی بنیاد بنتا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ والدین و اولاد، میاں بیوی، بہن بھائی اور عزیزو اقارب میں باہمی ربط پیدا کرتا ہے وہیں دوست و دشمن، رفیق و رقیب اور حاکم و محکوم کے درمیاں محبت اور نفرت میں تمیز کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

سب رشتوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم مگر میاں و بیوی کا رشتہ ایک جداگانہ مقام رکھتا ہے۔ پیارو محبت تو ہر رشتے کی توضیح کے لیے درکار ہے مگر اس رشتہ کے نتیجہ میں ایک نئے وجود کی تخلیق کا پہلو اسے باقی تمام رشتوں سے ممتاز کرتا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ رشتہ دوسرے تمام رشتوں کی ابتدا ہے تو غلط نہ ہوگا۔

مردو زن کے باہمی تعلق کا آغاز اس پہلی نظر سے ہو جاتا ہے جب مرد پیار دل میں بسائے تعریف و توصیف کے ساتھ خاتون سے نین چار کرتا ہے اور پیغامِ محبت و الفت قدرت کے عطا کردہ اشاروں سے دوسرے فریق تک پہنچاتا ہے۔ دوسری طرف عورت سہانے مستقبل کے خواب اور ارمانوں کی نئی دنیا آنکھوں میں سجائے شرماتی ہے، جھجکتی ہے اور اس کی روح اندر سے لہرا اٹھتی ہے۔

یہ وہ دور ہوتا ہے جب مرد ہر وقت رومانوی انداز میں سیٹی بجاتا، بلاوجہ اور ہر جگہ گنگناتا دکھائی دیتا ہے۔ جبکہ عورت خلوت میں آئینہ کے سامنے جھینپتی ہے، اپنے حسن و خوبصورتی پہ واری واری جاتی ہے اور اس کے گالوں کی سرخی ہے کہ ماند نہیں پڑتی۔ یہ حرکات و سکنات ایسے ہی فطری ہیں جیسے شادی کے موقع پر دولہا اور دلہن کی بتیسی بند ہونے کا نام نہیں لیتی۔ آپ جگتیں مارتے جائیں، شرمندہ کرنے کے جتنے مرضی جتن کرلیں انکی دندیاں سر توڑ باور کرواتی ہیں کہ موصوف یا موصوفہ رات بھر ہینگر منہ میں دبائے رہے کہ جس کی وجہ سے انکا منہ بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ پھر یہ محبت و پیار کا رشتہ جذبات کی حرارت لیے اولاد کی صورت میں ایک نئے 'رشتے' کو جنم دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لطیفے اور رشتے - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

یہ اولاد ہی ہوتی ہے کہ جو ایک عورت کو ماں کے ارفع وعالی مرتبے پہ فائز کرتی ہے۔ یہ وہ رتبہ ہے جس کا کوئی ثانی نہیں حتیٰ کہ جب الله سبحان و تعالیٰ اپنی مخلوق سے پیار و محبت کے پیمانے کو بیان کرتا ہے تو معیار، ماں کی اپنی اولاد سے محبت ٹھہراتا ہے اور ماں ہی کے رشتہ کو حوالہ بناتا ہے۔

ہماری معاشرتی روایات و اقدار پہ اولاد کے حوالے سے ایک گہرا اثر ہے۔ اس معاشرت کے باسی آج بھی بیٹی کی پیدائش پہ برے کام ترک کر دیتے ہیں اور اسی طرح بیٹے کے جنم کے ساتھ ہی اس کے اچھے مستقبل کے لیے تگ و دو بڑھا دیتے ہیں۔ بچے کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھانا اور گود میں بھر کے کھا جانے والے بوسے انکی اولین ترجیح بن جاتے ہیں بچے کی توتلی زبان سے اماں ابا، مام ڈیڈ اور ماما پاپا سننا انہیں روحانی و جسمانی سکون بخشتا ہے۔ یہ اولاد کی کھلکھلاتی ہنسی ہی ہوتی ہے جو والدین کی سارے دن کی مشقت کے بعد کی تھکن اتار دیتی ہے، دنیا کے سارے غم بھلا دیتی ہے اور زمانے کے نامساعد حالات سے سینہ سپر ہونے کا نیا جذبہ و طاقت فراہم کرتی ہے۔

اسی اولاد کو والدین اپنے ارمان دبا کر اور اپنی خوشیاں بیچ کر سکولوں و کالجوں میں داخل کرواتے ہیں اور پھر ایک دن کسی کا بیٹا کسی کی بیٹی کو راہ چلتے پسند کر لیتا ہے، اظہارِ محبت کرتا ہے، آسمان سے تارے توڑ لانے کا دعویٰ کرتا ہے اور لڑکی کا ساتھ مانگتا ہے۔

کہیں تو مانگنے والے کو 'ہاں' کی صورت میں رفاقت دستیاب ہو جاتی ہے اور جب معاملہ والدین تک پہنچتا ہے تو کچھ اپنی روایتی معاشرتی تربیت کے مطابق جانچ پڑتال کرتے ہیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بہانے وقت ٹالتے ہیں، کچھ مار دھاڑ کرکے لڑکی کی تعلیم روک کر اسکو گھر بٹھا لیتے ہیں، اور کہیں انجام قتلِ غیرت ہوتا ہے جو ناصرف فعل قبیح ہے بلکہ دراصل 'غیرت' کا قتل ہے، کیونکہ اس طرح کا قتل، بے غیرتی ہے کہ جس کی مخالفت دین اسلام بھی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کانچ کی گڑیا - ماہا عابد

کچھ معاملات میں ساتھ مانگنے والے کو 'نہ' کا سامنا ہوتا ہے تو وہ عزم بالجزم ڈھٹائی سے لڑکی کی زندگی اجیرن بنا دیتا ہے۔ اگر لڑکی انکار پہ قائم رہے تو وہی لڑکا جو پیار و محبت، ساتھ و اعتبار، اور چاند و تارے جیسے رنگین الفاظ استعمال کرتا تھا اس 'نہ' کو برداشت نہیں کر پاتا اور اپنی یک طرفہ محبت کو 'اٹھا' کے لے جاتا ہے، بھرے بازار میں تیزاب پھینک دیتا ہے اور گولی مار کر اسی کے خون میں رنگ جاتا ہے۔ ۔ بسا اوقات ساتھ ہی خودکشی کر لیتا ہے۔ اس ناکام عاشق کے پیشِ نظر یہ جاہلانہ نعرہ ہوتا ہے کہ " میری نہیں تو کسی کی نہیں۔"

ہمارے معاشرے میں ایسے ناعاقبت اندیش لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اسے عشق کا نام دے کر اس خود غرض عاشق کی بے مثال جرات کی داد دیتے نہیں تھکتے۔

کیا یہ عشق ہے ؟

کیا یہ واقعی محبت ہے ؟

یہ کون سا عشق اور کہاں کی محبت ہے کہ جو 'اس' وجود کو محبت کے نام پہ ختم کر ڈالے کہ جس کا جنم پیار سے ہوا اور جو کہ پیدائش ہی محبت کی تھی۔

محبت، محبت کو مٹا نہیں سکتی بلکہ محبت تو محبت کو بڑھاتی ہے۔ محبت اشتراک ہے نہ کہ فرعونیت و حاکمیت۔