آفٹر شاکس - محمد عامر خاکوانی

پانامہ لیکس کا فیصلہ ایک زلزلے کی طرح سمجھا جارہا تھا۔ جھٹکا تو لگا مگر شدت کم تھی، اس لیے حکومتی کیمپ اکھڑنے سے بچ گیا۔ اب اس کے آفٹر شاکس چل رہے ہیں۔ عام رواج تو یہی ہے کہ زلزلہ جتنی بڑی شدت کا ہو، آفٹر شاکس بھی اسی پیمانے کے مطابق آتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں کبھی یہ بھی دیکھا گیا کہ زلز لہ زیادہ شدید نہیں، مگر آفٹر شاکس خطرناک نوعیت کے آئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پانامہ پر عدالتی فیصلہ کے سیاسی آفٹر شاکس کتنے شدیدثابت ہوتے ہیں؟

اس وقت دونوں اطراف سے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے چل رہے ہیں۔ ہر ایک نے الگ حکمت عملی ترتیب دے لی ہے۔حکومت ایک انتہائی سعادت مند ،اچھے بچے کی مانند پوری جاں فشانی سے فیصلے پر عملدرآمد کا عندیہ دے رہی ہے۔ روزنامہ نائنٹی ٹو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے استثنا والا نکتہ آگے بڑھانے کے بجائے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ حکمراں جماعت رابطہ عوام مہم شروع کرے گی۔ دوسری طرف اپوزیشن نے جارحانہ انداز اپنا لیا ہے۔ جے آئی ٹی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں بھرپور احتجاج کے ساتھ ساتھ سیاسی محاذ پر جلسے وغیرہ کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

قومی منظر پر سب سے اہم ایشو وزیراعظم کے استعفے کا ہے۔ اپوزیشن زورشور سے یہ مطالبہ کر رہی ہے۔ بڑی اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اس پر یکسو ہیں، جماعت اسلامی بھی استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مسلم لیگی رہنما اس پر خاصے برہم ہیں کہ استعفے کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ اپوزیشن کی دلیل واضح ہے، جے آئی ٹی کے آزادانہ کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم اپنے عہدے پر موجود نہ ہوں ۔خدا لگتی بات یہ ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلوص اور جذبوں سے تمام تر ہمدردی رکھنے کے باوجود ان کے مطالبہ کی حمایت کرنا مشکل لگ رہا ہے۔ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے کے بعد وزیراعظم آخر کیوں مستعفی ہوں؟ اکثریتی ججوں نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف کسی حتمی رائے تک پہنچنے کے لیے جے آئی ٹی کی تحقیقات لازمی ہیں۔ اگرجے آئی ٹی کی تحقیقات کو آزادانہ بنانے کے لیے وزیراعظم کا منصب سے ہٹنا ضروری تھا تو سپریم کورٹ ایسا کر سکتی تھی۔ ایسا نہیں کیا گیا۔ رہی بات جے آئی ٹی کی تحقیقات کو آزادانہ اور دباؤ سے آزاد رکھنے کی، تو اس کے لیے ججوں نے ایک خصوصی بنچ کی تشکیل کا کہا ہے۔ خصوصی بنچ کے سامنے یہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم جوابدہ ہوگی۔ ہر پندرہ روز کے بعد پیش رفت کی باقاعدہ رپورٹ جمع کرائی جائے گی۔ جے آئی ٹی کو نامنظور کرنے والی بات تو ویسے بھی عقل وفہم کے منافی ہے۔ اگر فیصلہ قبول ہے، اس کی ستائش کی جا رہی ہے، اس میں اپنی کامیابی اور فتح ڈھونڈی جا رہی ہے تو پھریاد رکھیں فیصلے کے مطابق جے آئی ٹی ہر حال میں بنے گی۔ جے آئی ٹی میں شامل ہونے والے ارکان کے معاملے کو اصولی طور پر عدالت عظمیٰ کے اس خصوصی بنچ کو دیکھنا چاہیے، جسے خاص اسی مقصد کے لئے بنایا جائے گا۔

وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ اخلاقی بنیاد پر البتہ کیا جا سکتا ہے۔ سوال مگر یہ ہے کون سی اخلاقی بنیاد؟ ہماری سیاست میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز پائی جاتی ہے؟ کیا واقعی ہمارے ہاں اتنی ہی اعلیٰ وارفع اخلاقی روایات قائم ہیں؟ ایسا ہوتا تو پھر یہ معاملہ اس قدر آگے بڑھتا ہی نہیں۔ آئس لینڈ کے وزیراعظم کی طرح میاں نواز شریف بھی شروع ہی میں استعفا دے کر گھر چلے جاتے کہ پہلے اس الزام سے کلیئر ہو جاؤں ، پھر وزیر اعظم ہاؤس میں قدم رکھوں گا۔ سب جانتے ہیں کہ کیا ہوا، کیا کچھ چلتا رہا۔ اگر معاملہ اخلاقی بنیاد وں پر حل ہونے والا ہوتا تو جس روز قطری شہزادے کا خط عدالت میں پیش ہوا، اس روز تمام مسلم لیگی اراکین پارلیمنٹ اپنی نشستوں اور مسلم لیگی رہنما وکارکن اپنی جماعت کی رکنیت سے مستعفی ہوجاتے ۔ قطری خط سے بھیانک اور بھونڈا مذاق اس قوم نے کبھی نہیں دیکھا۔ ہماری حکمران جماعت اور لیڈر قطری خط کو ہضم کر گئے اور اس کا دفاع کرتے پائے گئے۔ اب عدالت کے دو ججوں کے نااہل قرار دینے پر یہ امید کیسے رکھی جائے کہ وزیراعظم نادم ہو کر مستعفی ہوجائیں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   صرف جماعت اسلامی - آصف محمود

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ اردو میں عدالتی فیصلے کرنے کے بڑے حامی تھے۔ انہوں نے اپنے تاریخی فیصلے اردو میں تحریر کیے ہیں۔ بات ان کی درست ہے۔ اگر اردو میں فیصلہ کرنا ممکن نہیں تو اہم فیصلوں کا اردو ترجمہ ہی کرانا چاہیے۔ سپریم کورٹ اپنے طور پر ایک دارالترجمہ قائم کر سکتی ہے، جہاں اہم فیصلوں کے اردو تراجم کرا کر شائع کیے جائیں یا کم از کم ویب سائٹ پر وہ دستیاب ہوں۔ پانامہ کا فیصلہ اگر اردو میں ہوتا تو سپر ہٹ جاتا۔ انگریزی میں ہونے کے باوجود فیصلے کوعوام کی اچھی خاصی بڑی تعداد نے پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کی۔ کئی پڑھنے والوں کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ اکثریتی فیصلے کا مجموعی مزاج کچھ اور تھا، مگر بعد میں وزیراعظم کی نااہلی کے بجائے جے آئی ٹی کی تشکیل والی تجویز آگئی جو زیادہ جچی نہیں۔ ایک فاضل جج کے فیصلے کے اقتباسات سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے ٹی وی پر سنائے اور تبصرہ کیا کہ ان کے وزیراعظم کے خلاف کمنٹس تو اختلافی نوٹ لکھنے والے ججوں سے بھی زیادہ سخت ہیں، مگر انہوں نے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کی آپشن اختیار نہیں کی۔ یہ قانونی پیچیدگیاں اور نزاکتیں قانون دان ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ ہمیں تو اس کی خوشی ہوئی کہ چلیں اس فیصلے کے بہانے سہی، عوام قانون ، آئین سمجھنے کی طرف مائل تو ہوئے۔

میرے نزدیک تو حکومت اور اپوزیشن دونوں کو بیک وقت بعض حوالوں سے کامیابی اور ناکامی ہوئی ہے۔ حکومت کا یہ دعویٰ تھا کہ وزیراعظم اور ان کے اہل خانہ کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں اور وقت آنے پر سب باتیں ثابت کر دی جائیں گی۔ پانامہ کے بعد کے دنوں میں طلال چودھری، دانیال عزیز وغیرہ بڑے زور شور سے یہ باتیں کرتے تھے۔ وقت آنے پر معلوم ہوا کہ حکمران خاندان کے پاس ثبوت موجود نہیں اور ان کے موقف میں بے پناہ تضادات ہیں۔ انہیں یکا یک قلابازی کھا کر قطری خط درآمد کرنا پڑا جس نے شریف فیملی کی حقیقی معنوں میں بھد اڑوائی۔ قطری خط کے بعد کسی بھی مسلم لیگی کے لیے دفاع میں کچھ نہیں بچا تھا۔ نجی طور پر یہ سب اس کا اعتراف کرتے اور اپنی بے بسی ظاہر کرتے، ٹی وی چینلز پر البتہ انہیں مجبوراً دفاع کرنا پڑتا۔ اس قطری خط کے بعد بھی سپریم کورٹ میں حکمران خاندان چکرایا ہوا رہا۔ ان کے مؤقف میں تضادات اور خلا اس قدر نمایاں تھا کہ معمولی قانونی سمجھ بوجھ رکھنے والے بھی اس بات کو محسوس کر رہے تھے۔ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے نے اگرچہ وزیراعظم کو وقتی طور پر بچا لیا ہے، مگر جے آئی ٹی کی تشکیل اور فیصلے میں دیے گئے کمنٹس سے یہ تو واضح ہوگیا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے سعد رفیق، عابد شیرعلی، دانیال عزیز جیسے ساتھیوں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اپنی سرتوڑ کوشش کے باوجود بہت سی باتوں کی یہ لوگ وضاحتیں نہیں دے سکے۔ ممکن ہے کم امکانات ہوں، مگر تکنیکی طور پر عین ممکن ہے کہ جے آئی ٹی کی منفی رپورٹ کے بعد وزیراعظم کے خلاف عدالتی کارروائی ہو سکے۔ اکثریتی فیصلہ دینے والے دو فاضل ججوں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف بعض سخت کمنٹس دیے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اضافی نوٹ میں کہا، میں وزیراعظم نواز شریف کی وضاحت سے مطمئن نہیں جو انہوں نے ہمارے سامنے دی کہ جائیدادیں ان کی ملکیت میں کیسے آئیں اور فنڈز کے ذرائع کیا تھے جو کہ ان جائیدادوں کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے گئے۔ آخر میں جج صاحب نے زیادہ سخت فقرہ لکھا، نواز شریف نے احتساب کا سامنا کرنے کے لیے بلند دعوے کیے جو کھوکھلے ثابت ہوئے ۔ جسٹس عظمت سعید نے لکھا، وزیراعظم کے بیرون ملک اثاثوں کے بارے میں سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے اور یہ غیر حتمی شدہ نتائج ناقابل قبول ہیں اور پاکستانی عوام ان اثاثہ جات کے حقائق جاننے کا حق رکھتے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ کا فیصلہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ کیا ہے۔ انہوں نے تو صاف الفاظ میں لکھ دیا کہ میاں نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے۔ جسٹس گلزار کے فیصلے پر زیادہ بات نہیں ہوئی، انہوں نے کئی تکنیکی دلائل دینے کے بعد وزیراعظم کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ ثابت ہوگیا کہ جو بلند و بانگ دعوے حکمران جماعت کرتی رہی، وہ بعد میں درست نہیں نکلے۔

یہ بھی پڑھیں:   امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا خواجہ سراوں کے لئے بڑا اعلان

اپوزیشن کو اس حد تک تو کامیابی ہوئی کہ دو فاضل ججوں نے ان کے بنیادی نکتہ کو تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم کو نااہل قرار دے دیا۔ اپوزیشن کا سماعت کے دوران کہنا تھا کہ اگرچہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے، تحقیقات کرنا اس کا کام نہیں، مگر پانامہ کیس میں اتنا کچھ سامنے آ گیا، مؤقف کے اس قدرتضادات موجود ہیں، جن کی بنیاد پریہ طے کیا جاسکتا ہے کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ اپوزیشن کے اس مؤقف سے اکثریتی ججوں نے اتفاق نہیں کیا اورمزید تحقیقات کرانے کی آپشن اختیار کی۔ اکثریتی فیصلے میں اشارہ ملتا ہے کہ اگر اپوزیشن وکلا وزیراعظم کے بیان پر جرح کرتے اور بعض دوسرے نکات کو آگے بڑھاتے تو ممکن ہے ان کا کیس نتیجہ خیز ثابت ہوتا۔ جماعت اسلامی اسی لیے شروع ہی سے کمیشن کا مطالبہ کرتی رہی کہ ان کے وکلا کے خیال میں سپریم کورٹ تحقیقات کے بغیر حتمی رائے نہیں اخذ کر سکے گی۔ تحریک انصاف سے ہمیشہ کی طرح اندازے کی غلطی ہوگئی تھی، خوش قسمتی سے اس بار ا ن کا کسی حد تک بھرم رہ گیا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.