دھندلے سے کچھ نشان - تنویر احمد

ماضی میں بیسوں واقعات و حالات ایسے رونما ہوئے کہ جن پر لکھنے کا داعیہ پیدا ہوتا لیکن ہر دفعہ وہ گھڑی آکررخصت ہوجاتی اوریہ داعی بھی ’’الوداعی‘‘ بن جاتا۔ پھر وہی حسرت و یاس کہ کیوں نہ لکھا!! لیکن ماضی قریب میں عالمِ اسلام کی حالتِ زار کے کچھ ایسے مناظر سامنے آئے کہ جنہیں دیکھ کر دل و دماغ مفلوج ہوکر رہ گیا ۔جب قدرے افاقہ ہوا ہو تو مجبوراً لکھنے کی ٹھان لی اور کمر کس کراپنے فیصلے پر ڈٹ گیا۔ اگرچہ معلوم تھاکہ اس نقار خانہ میں کون کس کی سنتا ہے؟ لیکن پیش نظر یہ تھاکہ یوسف کے خریداروں میں اپنا نام تو درج ہوجائے گا ۔لیکن اگلے ہی مرحلے میں ایک جھٹکا سا لگا اور فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ کہاں سے شروع کروں ؟ کس پر لکھوں؟

حلب کے بعد ادلیب میں انبیائے کرام کی اولاد پر جاری ہولناک مظالم کی تصویرکشی کروں یا قبلہ اول کے خلاف عزائم اوراس کے گردونواح کے مکینوں کی داستانِ الم تحریر کروں؟ برما میں میں بے سہارا مسلمانوں کی حالتِ زار بیان کروں یا صومالیہ کے غربت کے مارے انسانوں کی قحط سالی کا تذکرہ کروں ؟ اپنے پڑوس ہی میں نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط، ظلم وستم برداشت کرنے والے عزم و استقلال کے پہاڑ، حریت پسند کشمیری بھائیوں کی قربانیوں کی لازوال داستان زیبِ قرطاس کروں یا مملکتِ خداداد کے نظریاتی سرحدوں کو کھوکھلا کرنیوالے دہشت گردعناصر کی سرگرمیوں سے آگاہ کروں ? سوشل میڈیا پر محسنِ انسیانیت ﷺ (فدہ ابی وامی) کی شانِ ارفع کو نیچا دکھانے کی ناکام کوشش کرنے والوں کی ازلی بدبختی کا تذکرہ کروں یا پھر مشال خان کے واقعے کی آڑ میں توہینِ رسالت کے قانون کو ختم کرنے یا ترمیم کے نام سے چھڑ چھاڑ کرنے والوں کا رونا روؤں؟

یہ وہ خوفناک مسائل ہیں جن کا سامنا آج کی امتِ مرحوم کر رہی ہے اور واقعتاً یہ امت آج قابل ِ رحم ہے۔کیونکہ ایک طرف تو کفر کی طاقتیں یکجا ہوکر مسلم ممالک کی بنیادیں کھوکھلی کرتی چلی جا رہی ہیں۔ پہلے افغانستان کی اسلامی حکومت کا تختہ الٹ کر اس کے امن کو تباہ کردیا گیا۔اس کے فوراً بعد عراق میں خون کی ہولی کھیلی گئی، اور صرف ایک سوری کہہ کر اپنا دامن صاف کرلیا گیا۔مصر کے منتخب جمہوری صدر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر ملک کی باگ ڈور ایک ڈکٹیٹر کے حوالے کردی گئی ۔انبیاء کی سرزمین کوننھے منے معصوم بچوں کے پاکیزہ خون سے رنگین کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔یہاں تک کہ حرمین شریفین بھی ان طاغوتی سازشوں سے محفوظ دکھائی نہیں دے رہا۔

ان حالات میں شدت سے اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ تمام مسلمان یکجا ہوتے اور جسد واحد کی پیغمبرانہ نصیحت پر عمل کرتے ہوئےعلاقائی اورجغرافیائی سرحدوں کی حدود و قیود سے بالاتر ہوکر دوسرے مسلمان کے درد کو اپنا درد سمجھتے ۔ طاغوتی طاقتوں کے خلاف اپنے حقوق کی نا صرف آواز بلند کرتے بلکہ ہر قیمت پر ان کا تحفظ کرنے کی صلاحیت بھی ان کے پاس ہوتی ۔ لیکن بدقسمتی سے آج اس کی کوئی واضح عملی تصویر نظر نہیں آرہی ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً تواس قسم کی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوئیں اور جہاں کسی درجے میں پیشِ رفت ہوئی تو اسے مزید آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔

البتہ پچھلے چند دنوں سے ایک دھندلی سی تصویر ضروردکھائی دے ہی ہے جو اس اس مایوس کن صورتحال میں امید کی کرن کی حیثیت رکھتی ہے ۔اس دھندلی تصویر کے تین خاکے ہیں ۔ایک:ترکی کا حالیہ کامیاب صدارتی ریفرنڈم، جس نے ترکی کی باگ ڈور عالم اسلام کا درد رکھنے والے، شیطانی آنکھ سے آنکھیں ملاکر بات کرنے والے عظیم رہنما جناب طیب اردوگان کے ہاتھوں میں رہنے کی راہ ہموار کردی ہے ۔دوسرا خاکہ پچھلے دنوں ایک عالمی اجتماع میں دینی قوتوں کے اتحاد کے حوالے سے دیا گیا وہ عندیہ ہے جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اب کوششیں بھی شروع کردی گئی ہیں۔تیسرا خاکہ سعودیہ کے زیرِانتظام مسلم ممالک کا فوجی اتحاد ہے (اگرچہ راقم الحروف کو ذاتی طور پر اس سے امتِ مسلمہ کی دادرسی کے حوالے سے کوئی خاص امید وابستہ نہیں ہے لیکن چونکہ کچھ لوگوں نے اس قسم کی امیدیں لگائے رکھی ہیں توان کی رائے کیاحترام کے پیشِ نظر اسے بھی شامل کرلیاگیا) اگر واقعتاً یہ اتحاد ان امنگوں پر پورا اترے اور دینی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اپنی منتشر قوت کو مجتمع کرنے میں کامیاب ہوجائیں اور اگلے عام انتخابات میں کوئی تبدیلی رونما ہوجائے اور پھر عالمی سطح پر ترکی کے ساتھ ملکر کوئی حکمت عملی مرتب کی جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دھندلی سی تصویرایک واضح عملی تصویر میں بدل جائے۔

لیکن ظاہر ہے کہ ایسی باتیں طاغوتی قوتوں کو ہضم نہیں ہوتیں ۔اسی کی طرف جناب اردوگان نے صدراتی ریفرنڈم کی کامیابی کے بعد اپنے ایک خطاب میں اشارہ کیا تھا کہ ایک شیطانی آنکھ مجھے تنگ کر رہی ہے۔اسی طرح دینی جماعتوں کے اتحاد میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں ہورہی ہے تو دوسری طرف پاکستان کے سابق آرمی چیف کو مسلم فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کی اجازت دینے پر سوالات اٹھائے گئے۔اس ساری صورتحال کو دیکھ کر جناب حالی کا ایک شعر دماغ میں گردش کر رہا ہے کہ:

دھندلے سے کچھ نشان ہیں ڈر ہے کہ مٹ نہ جائیں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */