سودی قوانین کے خلاف مقدمہ؛ علمائے کرام کیا کر رہے ہیں؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پچھلے دنوں ”وفاقی شرعی عدالت کیا کر رہی ہے؟“ کے عنوان سے ایک تحریر لکھی جس میں ذکر کیا کہ کتنے مقدمات اس عدالت میں سالہا سال سے زیر التوا چلے آ رہے ہیں۔ اس پر کمنٹس میں لوگوں نے عدالت پر کافی سخت تنقید کی۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے علمائے کرام کی اس ضمن میں کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟ سودی قوانین کے متعلق مقدمہ ہی لے لیجیے۔ 1980ء میں جب وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی تو دو سال کے لیے مالیاتی امور سے متعلق قوانین اس کے اختیارِ سماعت سے باہر کیے گئے۔ کہا گیا کہ ان دو سالوں میں حکومت معیشت کو ”اسلامائز“ کردے گی۔ جب دو سال میں یہ کام نہیں ہوسکا تو اس مدت کو بڑھا کر پانچ سال کر دیا گیا۔ 1985ء میں آٹھویں دستوری ترمیم کے وقت اس مدت کو مزید بڑھا کر دس سال کردیا گیا۔ 1990ء میں یہ مدت پوری ہوئی اور اب دستوری ترمیم کے لیے صدر کا آرڈر کافی نہیں تھا بلکہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت چاہیے تھی جو دستیاب نہیں تھی۔ اس لیے اس مدت کو مزید نہیں بڑھایا جاسکا۔

کئی لوگوں نے مختلف پٹیشنز میں سود کو تحفظ دینے والے قوانین کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ طویل بحث کے بعد بالآخر عدالت نے ان قوانین کو غیر اسلامی قرار دیا اور حکومت کو حکم دیا کہ ان کو ختم کرکے ان کی جگہ نئے قوانین بنائے ورنہ مقررہ مدت گزرنے پر یہ قوانین از خود ختم ہوجائیں گے۔ حکومت نے قوانین تبدیل کرنے کے بجائے مناسب یہی سمجھا کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں اپیل کرے۔ یاد دہانی کے لیے عرض ہے کہ یہ میاں محمد نواز شریف صاحب کی پہلی حکومت تھی۔

آٹھ سال بعد بالآخر 1999ء میں سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ نے اپیل کی سماعت شروع کی تو حکومت نے اس کے سامنے درخواست رکھی کہ وہ اپیل واپس لے کر شریعت کورٹ سے ہی اس کے فیصلے پر نظرثانی کروانا چاہتی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت بھی میاں محمد نواز شریف صاحب کی دوسری حکومت تھی اور وفاقی شرعی عدالت میں، جہاں میاں صاحب واپس جانا چاہ رہے تھے، میاں محبوب احمد صاحب چیف جسٹس تھے جن کا میاں نواز شریف صاحب سے قریبی تعلق تھا اور اسی لیے ناقدین کو اس درخواست میں بدنیتی نظر آ رہی تھی۔ بہرحال سپریم کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ اس کے بعد حکومت نے بنچ کے ایک فاضل جج کو کچھ عرصے کے لیے الیکشن کمشنر بنا کر مقدمے کی سماعت ملتوی کرا دی۔

یہ بھی پڑھیں:   مولانافضل الرحمن سیاسی دوراہے پر - محمد عامر خاکوانی

بہرحال بنچ بالآخر واپس بحال ہوا اور اس نے جب فیصلہ سنایا تو اس وقت تک میاں صاحب اٹک کے قلعے میں اور پرویز مشرف صاحب ایوانِ اقتدار میں داخل ہوچکے تھے۔ دسمبر 1999ء میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ نے اپنے اس فیصلے میں وفاقی شرعی عدالے کے 1991ء کے فیصلے کو برقرار رکھا اور حکومت کو 30 جون 2001ء تک ان قوانین کو تبدیل کرنے کی مہلت دی جس کے گزرنے کے بعد ان سودی قوانین نے کالعدم ہونا تھا۔

جون 2001ء میں پرویز مشرف صاحب کی حکومت نے سپریم کورٹ سے مزید وقت مانگا جس پر اسے ایک سال کا مزید وقت دیا گیا اور مہلت 30 جون 2002ء تک بڑھا دی گئی۔ اس دوسری مہلت کے ختم ہونے سے قبل نائن الیون ہوگیا اور پرویز مشرف صاحب اچانک ہی مغرب کے چہیتے بن گئے۔ اس کے بعد انھوں نے کھل کر کھیلنا شروع کیا۔ چنانچہ ایک جانب بنچ کے سنیئر جج صاحبان کو پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے کی پاداش میں فارغ کردیا۔ دوسری طرف علما جج کا کنٹریکٹ ختم ہونے پر ان کی جگہ نئے لوگوں کو علما جج بنا کر بٹھا دیا۔

اس کے بعد یونائیٹڈ بینک کی جانب سے اس نو تشکیل شدہ بنچ کے سامنے ”نظرثانی“ کی درخواست سماعت شروع ہوئی تو سابقہ بنچ کے صرف ایک ہی جج (جسٹس منیر اے شیخ) اس بنچ میں موجود تھے۔ (ان صاحب کے متعلق کچھ تفصیلات کسی اور موقع پر پیش کریں گے، ان شاء اللہ۔) بنچ نے نظرثانی کے متعلق مسلمہ اصول و ضوابط توڑتے ہوئے کئی نئے سوالات اٹھائے، نئے امور زیر بحث لائے اور پھر ان کی بنیاد پر نہ صرف اپنے 1999ء کے فیصلے کو بلکہ وفاقی شرعی عدالت کے 1991ء کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ واپس وفاقی شرعی عدالت میں از سر نو سماعت کے لیے بھجوادیا۔ (اسے قانون کی اصطلاح میں کیس ریمانڈ کرنا کہتے ہیں۔)

یہ بھی پڑھیں:   لمبے خطبے، بڑے رتبے اور انصاف کی اصل کہانی - سید طلعت حسین

جون 2002ء میں یہ کیس وفاقی شرعی عدالت کو ریمانڈ کیا گیا۔ 15 سال تک یہ کیس سردخانے میں رہا۔ اب 2017ء میں اس کی سماعت از سر نو شروع ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب میاں محمد نواز شریف صاحب کی تیسری حکومت ہے۔ (پتہ نہیں سود کے ساتھ ان کا کیا ”سمبندھ“ ہے؟)

اب سوال یہ ہے کہ ان 15 سالوں میں ہمارے علمائے کرام کیا کرتے رہے اور اب وہ کیا کر رہے ہیں؟ پرویز مشرف صاحب کو اپنے اقتدار کو قانونی جواز چاہیے تھا اور اس کے لیے دستوری ترمیم ضروری تھی۔ یہ دستوری ترمیم ایم ایم اے کی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ اگر سترھویں ترمیم کی حمایت کے لیے ایم ایم اے کسی مجبوری کا شکار تھی تو آج مذہبی سیاسی جماعتوں کو کون سی مجبوری لاحق ہے، بالخصوص اس مذہبی جماعت کو جو وفاقی حکومت کی اتحادی بھی ہے؟

ذرا ایک لمحے کے لیے وفاقی شرعی عدالت میں سودی قوانین کے خلاف دلائل دینے والے وکلا اور عدالتی معاونین کی فہرست پر نظر ڈالیے اور بتائیے کہ کیا ہمارے علمائے کرام اپنی شرعی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟ کیا صد سالہ خدمات کا جشن منانے والے علمائے کرام سو نہ سہی تو کیا دس جید علمائے کرام کو بھی اس کام کے لیے وقف نہیں کرسکتے؟ اگر وفاقی شرعی عدالت نے کوئی غلط فیصلہ دے دیا تو اس کے بعد ہمارا مذہبی طبقہ کیا کرے گا؟ سانپ گزرجانے کے بعد لکیر پیٹنے سے کیا فائدہ ہوگا؟

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.