یہ آڈیو، وڈیو پیغامات...!! - افشاں نوید

شاید سب سے زیادہ گمراہ میں ہی ہوں اسی لیے میرے دوست اور احباب میری ہدایت کے لیے روز و شب بے چین ہیں۔ کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے مجھے ہدایت کی راہ پر لانے کے لیے۔ قرآن وحدیث کی حکمت بھری باتیں ہوں یا سلف الصالحین کے اقوال، حضرت لقمان سے لے کر بو علی سینا، فارابی، رومی و سعدی کس کس کے اقوال مجھے سنائے جا رہے ہیں کہ شاید میرا شقی قلب کوئی اثر قبول کرلے۔ ہر چند منٹ بعد ایک "لنک" مجھے بھیجا جا رہا ہے جہاں مختلف جید علماء کے قرآن و حدیث کے سلسلے ہیں۔ مجھے بہت عزیز ہے اپنا یہ سماج جہاں سب نے مل کر میری ہدایت کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ میں بہت خوش تھی جب تک میرا گمان یہ تھا کہ میرے یہ احباب مجھے راہ راست پر لانا چاہتے ہیں!! مگر میں فکر میں پڑ گئی اس وقت جب مجھ پر انکشاف ہوا کہ ہر ایک نے دوسرے کی ہدایت کا ذمہ لیا ہوا ہے اور یہ ایک "ٹرینڈسیٹ" ہے اور نیکی کے حصول اور جنت میں جانے کا شارٹ کٹ!

کسی کی ہدایت کے لیے پریشان ہونا اور اس کی تدابیر کرنا یقیناً افضل ترین کاموں میں سے ایک کام ہے لیکن اس کو شغل کے طور پر اپنا لینا اور اس انگلیوں کی ہلکی سی مشق کو اپنی نجات کے لیے کافی سمجھنا عظیم ترین غفلت ہے، ایسی غفلت کہ جس کا خمیازہ بہت سخت ہو گا۔

چند روز قبل جب ماہِ رجب المرجب کا آغاز ہوا تھا، آپ کا بھی ان باکس رجب کی مبارک بادوں سے بھر گیا ہو گا۔ ہر ایک کی لسٹ میں جتنے نمبر تھے سب نے آگے پڑھ پڑھ کر رجب کی مبارک باد اور وہ حدیث ایک دوسرے کو پہنچائی کہ "اے اللہ ہمیں رجب اور شعبان مبارک کر اور ہمیں رمضان میں داخل کر۔" اب لوگ خیال یہ کرتے ہیں کہ رجب کی مبارک باد دینا خود بڑی نیکی کا کام ہے۔ ہمیں تو لوگ جمادی الاول سے رمضان کی مبارک باد اور رمضان کا کلینڈر ارسال کرنے لگے کیونکہ ان کے علم میں کوئی ایسی حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے رمضان کی سب سے پہلے مبارک باد دی وہ بخش دیا جائے گا لہٰذا ہر ایک سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر اتنے آسان سے عمل سے وہ بخشے جا سکتے ہیں تو بخشش کے اور بکھیڑے کیوں اٹھائیں؟

ہر جمعرات کی شب سے آپ کو "جمعہ مبارک" کے پیغامات ملنا شروع ہو جاتے ہیں جو جمعہ کو قبل از ظہر تک جاری رہتے ہیں۔ جمعہ کیسے مبارک ہوگا؟؟؟ رجب کیسے مبارک ہوگا؟؟ یہ بتانے والا کوئی نہیں۔ جمعہ کو لے لیں۔ ہفتہ کے دنوں میں سب سے افضل ہے۔ اس نام کی سورت قرآن میں موجود ہے۔ یہ عبادت کا دن ہے۔ رجوع کا دن ہے۔ استغفار اور درود کی کثرت کا دن ہے۔ ان اعمال میں سے کوئی عمل کرنے پر میرا دل آمادہ نہ ہو، نہ اس دن کا کوئی خاص اہتمام نظر آئے، نہ قبولیت کی گھڑی کو تلاش کرنے کی کوئی فکر ہو، نہ گناہوں پر دل نا دم ہو کر بار بار سچی استغفار کی جانب مائل ہو، نہ روز مرہ کے مشاغل میں سے کسی شغل کو کم کیا ہو کہ آج عبادت کی گھڑیاں ہیں۔ استغفار کی ساعتیں ہیں۔ جمعہ آکر گزر گیا کیا میرے لیے یوں مبارک ٹھہر سکتا ہے کہ درجنوں لوگوں نے مجھے جمعہ کی مبارک باد دی تھی اور میں نے پلٹ کر اس سے زیادہ لوگوں کو خوبصورت پھولوں، مقامات مقدسہ، تسبیح کے دانوں اور قرآن کے اوراق سے سجا ایک پیغام بھیجا تھا کہ آپ کو جمعہ مبارک ہو۔

کسی بھی چیز کو اپنے حق میں "مبارک" بنانے کے لیے کوئی سعی مطلوب ہوتی ہے۔ اب رجب کی مبارک باد کی جو حدیث ایک دوسرے کو بھیجی جا رہی ہے اس میں ایک واضح پیغام ہے کہ رجب شعبان سے جڑا ہوا مہینہ ہے اور شعبان کے اختتام پر ہم رمضان میں داخل ہو جائیں گے ان شاء اللہ۔ گویا ابھی سے رمضان کی ہوائیں چل پڑی ہیں اور ہمارے لیے یہ سندیسہ لا رہی ہیں کہ خود کو اس عظیم ماہ مبارک کے استقبال کی تیاریوں کے لیے آمادہ کریں۔ رمضان کے روٹین سے خود کو قریب کرنے کی کوشش کریں۔ کھانے پینے میں اعتدال لائیں۔ اپنی جسمانی اور روحانی صحت کی فکر کریں۔ اپنے جسم کو اتنا فعال بنائیں کہ وہ اس مشقت کو اٹھانے کے لیے تیار ہو جائے۔ اپنی راتوں کو اس طرح ترتیب دینے کی کوشش کریں کہ رمضان کی سحر خیزی بوجھ نہ لگے۔ ابھی سے دو تہائی رات کو اٹھنے کی پریکٹس کریں، ابھی سے رجوع الی القرآن کا اہتمام کریں کہ رمضان درحقیقت قرآن کا مہینہ ہے۔ لیلۃ القدر جیسی عظیم رات اس مہینے کی عظمت کو بڑھاتی ہے۔ رمضان تو ہے ہی قرآن کے شکر کا مہینہ، سو رجب المرجب کی مبارک باد کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ خود کو استقبال رمضان کے لیے ذہنی اور فکری سطح پر تیار کریں۔ مگر رجب کی مبارک باد دینے والے کتنے شعوری طور پر اس مبارک باد کا خود کو مستحق بنا رہے ہیں؟؟

"شیئرنگ" پہلے ہمارا شوق تھا، اب مجبوری بنا دی گئی۔ ہر اچھی بات کے نیچے لکھا ہو گا کہ براہ مہربانی اس کو شیئر کیجیے اور کچھ لوگ تو ساتھ ساتھ پیکیج بھی دے دیتے ہیں کہ اتنے لوگوں کو پہچانے کا اتنا ثواب ہوگا یا کم از کم اتنے لوگوں کو نہ پہنچائی گئی تو آپ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوں گے۔ ہونا یوں چاہیے کہ ہر اچھی بات کے نیچے درج یہ ہو کہ "ٹھہریے، سوچیے سمجھیے، خود کو بدلنے کا عہد کیجیے، کیا آپ خود کو عمل پر تیار پاتے ہیں، اگر آپ کا دل عمل پر تیار ہے تو پھر آگے پہنچائیے گا ورنہ آپ سزا کے مستحق ہوں گے کہ قرن نے تنبیہ کی ہے کہ "وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو۔ " ہم نے اس "شیئرنگ" کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ اتنی طویل حدیثیں اور دروس قرآن کے لنکس ہمیں موصول ہوتے ہیں جن کے بارے میں یقین سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ بھیجنے والے نے اس کو پڑھنے اور سننے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ہے کیونکہ اس وقت ہر ایک کو فکر دوسرے کی ہدایت کی ہے کہ میں تو بعد میں سمجھ لوں گا یا سمجھ لوں گی پہلے دوسرے گمراہوں کو بتادوں کہ وہ توبہ کے بغیر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تو پکڑ میری ہو جائے گی...؟؟ یہ تلخ بات قلم تک یوں آگئی کہ وہ سینکڑوں ہدایات پر مبنی پیغامات آڈیوز، وڈیوز اور کلپس وغیرہ جو آپ کو بھی ملتے ہوں گے کتنوں کو ہم ذاتی طور پر جانتے ہیں اور دل تڑپ اٹھتا ہے کہ اس کو فارورڈ کرنے سے پہلے انہوں نے خود اپنے عمل کے لیے اصول بنا لیا ہوتا تو کتنا اچھا تھا...! ہماری ایک کزن دن میں کئی بار حکمت کی باتیں ہمیں بھیجتی ہے۔ اس کے درجن بھر میسجز نہ آجائیں تو ہمیں فکر مندی لاحق ہو جاتی ہے کہ اللہ خیر کرے، طبیعت ٹھیک ہو اس کی۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ یہ سب ہمارا قد کاٹھ بڑھانے کا بھی ایک حربہ ہو سکتا ہے کہ جب ہم دوسروں کو اتنا کچھ فارورڈ کر رہے ہیں تو یقیناً ہم یہ سب جانتے ہیں اور ہمیں علم اور معرفت میں کسی سے کم نہ سمجھا جائے۔ یہ بھی نفس کو نشے میں مبتلا کرنے والا ایک شیطانی حربہ ہے۔ ہمارا بڑا سادہ سا مذہب ہے۔ لیکن اس کی تفہیم اتنی گنجلک بنا دی گئی ہے کہ ٹیڑھے میڑھے راستوں میں سیدھا راستہ تلاش کرنا دشوار تر ہوتا جا رہا ہے۔

اب حج کی عبادت کو لے لیں۔ محلہ، احباب ایک وسیع حلقہ میں شور ہوتا ہے کہ فلاں فلاں حج پر جا رہے ہیں۔ ما قبل ملاقاتیں مابعد دعوتیں، تحفے تحائف، لینا دینا، غرض ایک طویل سلسلہ، معاشرے میں ایک نئی شناخت مل جاتی ہے حج کے بعد۔ ہم نے اپنی ایک ساتھی سے غلطی سے پوچھ لیا کہ سسرال والوں سے جو تمہارے اختلافات تھے وہ تو الحمدللہ اب دور ہو گئے ہوں گے کہ حج کے بعد تو ایک نئی زندگی کا آغاز ہو جاتا ہے۔ وہ اس قدر ہم پر غضب ناک ہوئیں کہ الامان و الحفیظ۔ بولی کہ تم یہ سمجھتی رہی ہو کہ غلط میں تھی۔ معافی کا تو مطلب یہ ہو گا کہ میں تسلیم کر لوں کہ حق تلفی میری نہیں ہوئی بلکہ میں نے کی ہے۔ میں نے تو کعبۃ اللہ کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا کہ اے اللہ فیصلہ کرنا تیرا کام ہے...!! آپ خود دیکھیں حج پر سے آکر اگر رشوت خور رشوت سے باز نہ آئے، سود خور سود سے توبہ نہ کرے، رحم کے رشتوں کو توڑنے والا ان کو جوڑنے کی فکر نہ کرے تو شریعت کے تقاضوں کو ہم نے کہاں سمجھا...!!

ہاں ہم تو بات سوشل میڈیا کے ذریعے ہدایت کی کر رہے تھے جو کہیں اور نکل گئی۔ اب ہر ہفتے آپ سب کو بھی ایک مولانا صاحب کا آڈیو کلپ موصول ہوتا ہو گا۔ وہ جمعہ کے مختلف اذکار وغیرہ بتاتے ہیں اور ان کی فضلیت بتاتے ہیں کہ اتنی سو دفعہ پڑھنے والا نہ صرف بخش دیا جائے گا بلکہ جنت میں ان درجات کا مستحق ہوگا۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ جو اس آڈیو کو شیئر کرے گا اس کے حق میں میری یہ دعائیں مقبول ہوں گی پھر وہ دل سوزی کے ساتھ درجن بھر دعائیں دیتے ہیں۔ اب آپ یقین کریں وہ آڈیو ہمیں دو درجن لوگ تو شیئر کرتے ہی ہیں کیونکہ سب کے من کی مراد ہے کہ مولانا صاحب کی دعائیں ان کے حق میں قبول ہو جائیں۔ اب یہ کیسی تعبیر ہے دین کی؟ آپ ہی جانیں!!

اس میں کوئی دورائے نہیں ہو سکتی کہ نیکی اور خیر کی باتوں کو پھیلانا چاہیے جب لوگ الٹے سیدھے لطائف اور فحش پھیلا رہے ہیں تو ہم اچھی باتیں کیوں نہ پھیلائیں۔ مگر ہر اچھی بات پہلے خود عمل کا تقاضا کرتی ہے اور یہ کہ یہ شیئرنگ نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ نجات اسلام میں عمل کے ساتھ مشروط کر دی گئی ہے۔ ایک ہماری سنجیدہ ساتھی نے میسج کیا کہ اتنی لاکھ دفعہ درود شریف کے وظیفے کا ہم نے آغاز کیا ہے آپ اتنی بار پڑھ کر آگے بھیج دیں اتنے لوگوں تک یہ میسج پہنچ گیا تو ملک پر آئی آفتیں دور ہو جائیں گی۔ خوشی ہوئی ہمیں کہ درود و وظائف تو ذاتی پریشانیوں کے لیے پڑھے جاتے تھے اب تک مگر آج انہیں اجتماعی طور پر بھی پڑھنے کا چلن عام ہو رہا ہے۔ شکر کہ ملک کی آفتوں کا کسی کو خیال آیا۔ جہاں اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والے قانون ساز اداروں میں بیٹھے ہوں، حکمران عدالتوں کو خریدنے پر قادر ہوں، بڑے بڑے مجرم با عزت بری کر دیے جائیں، عوام ضروریات زندگی کو ترسا دیے جائیں، بجائے اس کہ ہم نظام بدلنے پر کمر کس لیں ہم وظیفے کے ذریعے تبدیلی کے خواہش مند ہوں تو یہ ایسی ہی خواہش ہے کہ ہم دعا کرکے مطمئن ہو جائیں کہ اے اللہ شام پر بمباری کرنے والے ٹینکوں اور توپوں میں کیڑے ڈال دے...!!!

ہر ذکر اور وظیفے کی فضیلت ہے اس میں شک نہیں۔ جس کا جو جی چاہے پڑھے بخشنے والی ذات اللہ کی ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ لیکن ہم جس دین کے پیرو کار ہیں وہ عقل اور شعور کا دین ہے اگر ایک چھوٹی سی دعا "السلام علیکم" بھی کسی کو ہم دیتے ہیں تو یہ اپنا بہت بڑا مفہوم رکھتی ہے کہ جس کو آپ نے سلامتی کی دعا دی ہے اس سے برملا یہ عہد کیا ہے کہ میری طرف سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ میں آپ کی سلامتی کا خواہش مند ہوں۔ اب اگر پڑوسی روز و شب ایک دوسرے کو سلام کر رہے ہوں مگر ایک دوسرے کو ضرر پہنچانے کے نت نئے ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہے ہوں۔ زبانیں سلامتی میں مصروف ہیں مگر عمل ایذا دینے والے ہیں تو آپ کا کیا خیال ہے کہ وہ "السلام علیکم" کا مفہوم جانتے ہیں؟؟ ہمیں تو بڑا اچھا لگا جب پچھلے دنوں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ مسلمان ملکوں کے عوام پر امریکا کے دروازے بند کیے اور ان پر دہشت گردی کا الزام لگایا تو وہاں بسنے والے مسلمان "السلام علیکم" کے پلے کارڈ اٹھائے امریکا کے ائیر پورٹس پر پہنچ گئے کئی شہروں میں۔ کتنا بھرپور پیغام ہے ان دو نقطوں میں کہ ہم اس دین سے تعلق رکھتے ہیں جو سراسر سلامتی کا دین ہے۔ جو وضو میں اضافی پانی بہانے کی اجازت نہیں دیتا وہ ناجائز خون بہانے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے...!! کتنا بھرپور پیغام گیا عالم انسانیت کو۔

بات اتنی ہے کہ خیر کی باتیں ضرور پھیلائی جائیں، ہدایت کا ہم میں سے ہر ایک محتاج ہے، تزکیے سے کوئی بے نیاز نہیں ہو سکتا۔ قرآن نے جو دعا سکھائی ہے "ربنا لا تزع قلوبنا" اس میں مفہوم بھی یہی پوشیدہ ہے کہ دل کبھی بھی ہدایت سے گمراہی اور گمراہی سے ہدایت کی طرف پلٹ سکتا ہے۔ اس لیے ہر وقت دعا کرنی چاہیے کہ مرتے دم تک اللہ دل کو گمراہی کی طرف پلٹنے سے بچائے رکھے۔ مگر اپنی ہدایت انسان کی پہلی ذمہ داری ہے۔ قرآن میں بھی قوانفسکم کے بعد واہلیکم ہے کہ پہلے اپنی نجات کی فکر کرو پھر اہل و عیال پھر درجہ بہ درجہ جہاں تک خیر پھیلا سکتے ہیں۔ لیکن اپنی ذات سے بالا ہی بالا خیر کو پھیلانا اور اس نیکی سے نجات کی امید رکھنا کوئی عقل مندی نہیں۔

پوری سیرت مطہرۃؐ ہمارے سامنے ہے کہ پہلے خود عمل کی دعوت دی گئی پھر پھیلانے کی۔ اس بارے میں رائے تو مفتیان کرام ہی دے سکتے ہیں کہ اس میسج کو اتنے لوگوں تک پہنچانے کا اتنا ثواب ہے اور اس پیغام کو اتنا پھیلانے سے ملک کی بلائیں دور ہو جائیں گی اس کی حقیقت کیا ہے...؟ ہماری ناقص رائے تو یہ ہے کہ ملک کی بلائیں حکمرانوں کے بدلنے سے ہی دور ہوں گی۔ کے الیکٹرک اگر کسی وظیفے سے ہٹ سکتی تھی تو دھرنوں کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی تھی...؟ اگر میسیجز کو فارورڈ کرنے پر ہی جنت کی بشارتیں واجب ہو جاتیں تو پوری شریعت کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی...!! دوسروں کو مبارک بادیں دینے سے کوئی سعادت کسی کے حصے میں نہیں آسکتی خود کو اس مبارک اور سعادت کا مستحق ثابت کرنے کے لیے کچھ توجتن کرنا ہوں گے...!!