عمران خان اپنی پوزیشن واضح کریں! مولانا محمدجہان یعقوب

ہماری سیاست کا المیہ ہے کہ اقتدار پر چند مخصوص خاندان کئی دہائیوں سے قابض ہیں۔ عوام چہروں کی تبدیلی سے تنگ آچکے ہیںِ، صورت حال یہ ہوچکی ہے کہ عوام ہر نئے حکمران کی صورت میں اپنا مسیحا تلاش کرتے ہیں، لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، کے مصداق ہمیشہ ہی نتیجہ ڈھاک کے تین پات کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ حکمران حلف اٹھاتے ہی تمام دعوے اور وعدے بھول کر انکل سام کی ناز برداری میں لگ جاتے ہیں کیوں کہ انھیں ابتدا ہی میں باور کرا دیا جاتا ہے کہ تمھارا اقتدار جس کی دین ہے، اس کی بقا بھی اسی کی حکم برداری سے ممکن ہے۔ چناں چہ اب حکمران تمام عرصہ اقتدار میں دو ہی کام کرتے ہیں: انکل سام کے احکامات کی تکمیل اور عوام کو طفل تسلیوں کے ذریعے اپنا ہم نوا بنائے رکھنا۔ عوام کو مطمئن رکھنے کا کام اکثر مشیرانِ باتدبیرکے ذمے ہوتا ہے، جن کی مثال ملا دوپیازہ اور بیربل کی سی ہوتی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کی حکومت مخالف سرگرمیاں بھی فرینڈلی فائر کی حدوں سے آگے نہیں جا پاتیں، کیوں کہ اس کا مطمح نظر بھی دو نکاتی ایجنڈے پر مبنی ہوتا ہے: حکومت سے بڑھ کر انکل سام کی ناز برداری اور عوام کو مختلف ایشوز میں الجھا کر مصروف رکھنا۔ یہ سلسلہ عرصے سے جاری ہے اور جانے کب تک وطن عزیز اس المیے سے دوچار رہے گا۔ ہر الیکشن میں ایک نیا مسیحا بھی سامنے آتا ہے اور حکمرانوں سے تنگ آئے عوام اپنی تمام توقعات اس سے وابستہ کر بیٹھتے ہیں، وہ بھی قوم کو بے وقوف بنانے میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ جس قوم کی مابعد الطبیعات کایہ عالم ہو کہ اسے شیخ رشید، طاہرالقادری اور بلاول زرداری کی شکل میں بھی مسیحا نظر آنے لگے، اسے بے وقوف بنانا بھلا کون سا مشکل کام ہے، جبکہ سونے پہ سہاگہ اس قوم کاحافظہ بھی مثالی ہے اور یہ صبح کے بھولے کوشام کے وقت بھولا نہیں سمجھتی، چاہے وہ گھر لوٹ کر بھی نہ آئے!

جو قوم اب اگلے الیکشن میں بلاول کو مسیحا بنانے جا رہی ہے، گزشتہ الیکشن میں اس نے اپنے ہر درد کا درماں ایک سابق کھلاڑی کو باور کر لیا تھا، کہ کرکٹ کے میدان میں فتوحات کے جھنڈے گاڑنے والا کپتان سیاسی محاذ پر بھی کامیاب ثابت ہوگا، سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا نووارد سیاست دان مڈل کلاس کے دکھوں کا مداوا کرے گا، سو اس نے بھی انصاف کا نعرہ لگایا۔ اس کی جماعت کے بانیان میں سنجیدہ اور پڑھے لکھے لوگوں کے نام دیکھ کر یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا تھا، یہ تو بہت بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مقتدر شخصیات بھی محض حسن ظن کی بنیاد پر اس قافلے میں شامل ہوئی تھیں اور جوں جوں عمران خان نیازی صاحب کے تیور واضح ہوئے، وہ سب ایک ایک کر کے انھیں چھوڑ گئے۔ شاید یہ واحدجماعت ہے جس کے مؤسسین میں سے شاید اب ایک بھی خان صاحب کے ہم رکاب نہیں۔ اب یہ جماعت مخصوص مفادات رکھنے والے دانش وروں تاجروں اور مسترد شدہ کائیاں سیاست دانوں کا مجموعہ بن کر رہ گئی ہے جن میں سے ہر ایک مختلف خوبیوں کی وجہ سے خان صاحب کا منظور نظر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم صاحب! یہ کیا کہہ دیا؟- نیلم اسلم

خان صاحب کو قریب سے جاننے والوں کا ان کے بارے میں یہ تجزیہ ہے کہ ان کا واحد مطمح نظر وزارتِ عظمیٰ کا حصول ہے اور وہ اس مقصد کو پانے کی جدوجہد میں اس قدر مگن ہیں کہ اس سے انھیں کوئی سروکار نہیں کہ ان کے دائیں بائیں کیا ہو رہا ہے؟ ان کا اور ان کی جماعت کا امیج ان ابن الوقت اور مفاد پرست سیاست دانوں نیز دین بےزار دانش فروشوں کی وجہ سے کتناگر رہا ہے؟ اس حوالے سے سوچنے کے وہ روادار ہیں اور نہ ہی ان عناصر کو روکنے کا ان کے پاس وقت ہے۔ شاید مسلم لیگ (ن) کے سیکولر و لبرل ایجنڈے کو دیکھتے ہوئے انھیں لیلائے اقتدار کو پانے کی واحد سبیل یہی نظر آئی ہے کہ نون لیگ سے بڑھ کر خود کو لبرل و سیکولر ثابت کیا جائے، یوں بھی ان کی جماعت میں ایسے شہ دماغوں کی کمی نہیں جن کا یہی ایجنڈا ہے، ان کا اپنا لائف اسٹائل بھی ایسا ہی ہے، سو انھیں لبرل و سیکولر کہلانے کے لیے کسی ملمع سازی اور تصنع کی بھی ضرورت نہیں۔ اس کے برخلاف انھیں مذہبی لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کئی کڑوے گھونٹ پینے پڑگئے تھے!

آمدم برسر مطلب۔ تحریک انصاف کی راہ نما شیریں مزاری نے کہا ہے کہ اگر نواز حکومت نے توہین رسالت ایکٹ کو ختم نہ کیا تو تحریک انصاف اقتدار میں آ کر یہ کارنامہ انجام دے گی۔ وہ اسمبلی کے فلور پر اس سلسلے میں قرارداد بھی لا رہی ہیں۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا یہ بیان ذاتی حیثیت سے نہیں بلکہ تحریک انصاف کی ترجمان کی حیثیت سے ہے۔ یہ بیان اس بات کا بھی آئینہ دار ہے کہ تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد کیاعزائم رکھتی ہے؟ اس سے قبل متعدد عالمی ایشوز پر تحریک انصاف کی ایسی متعدد ترجیحات سامنے آتی رہی ہیں، جو کسی طور بھی قومی امنگوں کی ترجمان قرار نہیں دی جا سکتیں، جن میں پاکستان کی مسلم ممالک کے فوجی اتحاد میں شمولیت اور جنرل (ر) راحیل شریف کی بطور کمانڈر انچیف تعیناتی کی مخالفت سرفہرست ہے۔ شیریں مزاری کے اس بیان کی وجہ سے تحریک انصاف کا ووٹر سخت مایوس نظر آ رہا ہے اور اسے مولانا فضل الرحمن کی باتوں میں صداقت صاف نظر آنے لگی ہے، کیوں کہ شان رسالت کا معاملہ ایمان کا معاملہ ہے۔ اسلامیان پاکستان اس حوالے سے ہمیشہ ایک ہی مؤقف کے حامل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم کو اعتبار آیا - حبیب الرحمن

شیریں مزاری کی سابقہ شہرت دفاعی تجزیہ کار کی رہی ہے، کیا وہ یہ بات نہیں سمجھتیں کہ جب گستاخوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی راہیں مسدود ہوجائیں گی تو پھر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ مسلمان اپنے محبوب نبی ۖ کے گستاخ سے خود انتقام لینے کا راستہ اختیار نہیں کریں گے، جب دلیل اور قانون گستاخوں کو لگام دینے میں ناکام ہو جائے تو واحد راستہ عشق کا ہی رہ جاتا ہے، کیا وہ یہ چاہتی ہیں کہ گلی گلی خانہ جنگی برپا ہو؟ کیا وہ مغرب کی خوشنودی کے حصول کے لیے پاک دھرتی کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں؟ یہ بات تو معقول ہو سکتی ہے کہ اس قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے مل بیٹھ کر سب کے لیے قابلِ عمل نظام وضع کیا جائے، لیکن سرے سے قانون کے خاتمے کی بات کرنا، ایک قومی جماعت کا اسے اپنا مستقبل کا ایجنڈا قرار دینا، اسلامیان پاکستان کے لیے کسی طور قابل برداشت نہیں ہوسکتا۔ شاید اقلیتوں کے غم میں گھلنے والوں کو احساس و ادراک نہ ہو، لیکن یہ اٹل حقیقت ہے کہ اسی قانون کی وجہ سے اقلیتیں محفوظ ہیں، اگر یہ حفاظتی حصار نہ رہا تو اللہ جانے کیا ہوگا!

شیریں مزاری کے بیان پر عمران خان صاحب کی پراسرار خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے، قوم کا مطالبہ ہے کہ خان صاحب قانون توہین رسالت کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کریں اور شیریں مزاری کا یہ بیان جماعتی پالیسی کے خلاف ہے تو انھیں شوکاز نوٹس جاری کریں۔ یہی وہ واحدصورت ہے جوان کی گرتی ساکھ اور ہاتھ سے نکلتے ووٹ بینک کو بچاسکتی ہے، ورنہ 2018ء کے الیکشن میں ان کی جو درگت بنے گی، کوئی بعید نہیں کہ وہ عوامی نیشنل پارٹی کی شکست کے ریکارڈ بھی توڑ ڈالے.

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.