زندہ رہنے کا لائسنس - شہاب رشید

آج بلا کی گرمی تھی۔ نماز جمعہ کے لیے مسجد پہنچا تو باہر رکھی میت پر نظر پڑی۔ دل ہی میں سوچا کہ آج نماز جنازہ بھی پڑھنا پڑے گی۔ دورانِ نماز بھی یہی خیال رہا کہ اتنی گرمی میں جنازہ کیسے پڑھوں گا ؟خیر باہر آیا تو ہر کسی کو چھاؤں میں جگہ تلاش کرتے پایا کیونکہ سب جنازے کے لیے امام اور باقی نمازیوں کا انتظار کر رہے تھے۔ تلاش کے باوجود چھاؤں میسر نہ آئی تو چار و ناچار دھوپ ہی اوڑھنی پڑی۔ اچانک میری نظر میت کی طرف اٹھ گئی جو اس وقت بالکل میرے سامنے تھی۔ میں سوچ رہا تھا سانس نکلنے کی دیر ہوتی ہے اور جیتا جاگتا انسان میت بن جاتا ہے۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ مرنے والے کی عمر پچپن برس تھی، اپنا گھر تعمیر کروا چکے تھے، صرف منتقل ہونا باقی تھا مگر نئے گھر بجائے دنیا سے ہی منتقل ہونا پڑا۔ انسان بھی کیا چیز ہے، پیدا ہوتا ہے تو دنیا کے گھن چکر میں پڑ جاتا ہے۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک دنیا کے کاموں میں مصروف عمل رہتا ہے۔ زندگی کی خوراک وقت ہے اور جب وقت ختم تو زندگی ختم، گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ زندگی کی خوراک کم ہو رہی ہے۔ کون جانے کہ زندگی کب سے ہے اور کب تک ہے؟ انسان کی پیدائش اگر صبح ہے تو موت اس کی شام۔ انسان کوجب یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا ضرورت تو ہے منزل نہیں، تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور مستقبل کی ساری پلاننگ کچھ یوں دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔

سیانے کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو موت کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ وہ بھاگنے لگا، تیز بہت تیز۔ اسے آواز آئی، موت تیرے پیچھے نہیں تیرے آگے ہے، وہ آدمی فوراََ مڑا اور الٹی سمت بھا گنے لگا۔ آواز آئی موت تیرے پیچھے نہیں تیرے آگے ہے۔ آدمی بولا عجیب بات ہے پیچھے کو دوڑتا ہوں تو پھر بھی موت آگے ہے، آگے کو دوڑتا ہوں تو پھر بھی موت آگے ہے؟آواز آئی، موت تیرے ساتھ ہے، تیرے اندر ہے۔ آدمی نے کہا اب میں کیا کروں ؟ جواب ملا صرف انتظار۔ زندگی اگر اپنا عمل ترک کر دے تو اسے موت کہتے ہیں۔ آدمی نے کہا مجھے موت کی شکل دکھا دو تاکہ میں اسے پہچان لوں۔ آواز آئی آئینہ دیکھو، موت کا چہرہ تیرا اپنا چہرہ ہے اسی نے میت بننا ہے اسی نے مردہ کہلانا ہے۔ واصف علی واصف صاحب فرماتے ہیں کہ بس یہی ہے موت کا راز۔۔۔ یا۔۔۔ زندگی کا راز کہ ہم کچھ عرصہ اپنی اولاد کے پاس رہتے ہیں اور پھر اپنے ماں باپ سے جا ملتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی کی بے ثباتی - مناحل عمر

مولوی صاحب کی مائیک کی آواز سے میں سوچوں کی دنیا سے واپس لوٹا تو پسینہ میں نہایا ہوا تھا۔ نماز شروع ہوئی، سلام پھیر کر مجھ سمیت سب لوگ اس طرح سے اپنے اپنے کاموں کی طرف بھاگے جیسے سب اللہ سے تا قیامت زندہ رہنے کا لائسنس لے کر آئے ہوں میں نے سوچا کسی دن میری میت بھی ایسے ہی پڑی ہو گی اور لوگ جلدی جلدی نماز جنازہ پڑھ کر گھروں کو بھاگ رہے ہوں گے، جیسے ان کے پاس بھی تا قیامت زندہ رہنے کا لائسنس ہو۔

Comments

شہاب رشید

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!