اٹھو نا! مجھے تمہاری ضرورت ہے (6) - اسری غوری

شازینہ جب سے بخاری انکل کے پاس سے آئی تھی تب سے سعادت حسین نے اس میں بہت کچھ تبدیلی نوٹ کی تھی، اور اک خاص بات یہ کہ وہ اب اکثر جہاں موجود ہوتی ہے وہاں صرف اس کا جسم ہوتا ہے، وہ خود کہیں اور ہوتی ہے. آج چوتھا دن تھا، وہ اس کی اک نئی کیفیت سے پریشان ہورہے تھے. اس کی اس کیفیت کو سارا نے بھی نوٹ کیا تھا کہ وہ جب بھی اسے بات کر رہی ہوتی ہے، شازینہ نہ صرف یہ کہ جواب نہیں دیتی بلکہ وہ سن بھی نہیں رہی ہوتی اور اسی نے آج سعادت حسین سے کہا تھا کہ وہ اس حوالے سے بخاری انکل کو لازمی بتائیں. رات انہوں نے اسی تشویش میں بخاری کو کال کی اور شازینہ کی اس کیفیت کے بارے میں آگاہ کیا.
”کوئی بات نہیں، کھوجنے دو اسے خود کو، وہ جس تلاش سےگزر رہی ہے، یہ بہت مشکل مرحلہ ہے، ایک بار اس سے گزر جائےگی تو سکون پاجائے گی۔ بس ایک بات کا خیال رکھا کرو، جب وہ اس کیفیت میں ہو تو اسے کبھی ٹوکنا نہ اس سے اس کیفیت کا تذکرہ کرنا.“
بخاری نے سعادت حسین کو سمجھایا اور ایک دو دن میں اپنے پاس آنے کا کہا۔

صبح ناشتے پر بابا نے دیکھا شازینہ کھانا کھاتے ہوئے کچھ لمحے کا وقفہ دیتی ہے. بابا نے ناشتے کے دوران کچھ نہیں کہا، جب اٹھنے لگے تو سوالیہ انداز میں کہا:
شانی بیٹا! آج یا کل بخاری انکل کی طرف چلنا ہے؟
شازینہ فورا حامی بھرتے ہوئے بولی: جی بابا جب آپ کہیں۔

دن میں سارا اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی، آج پھر اس کی اپائنمنٹ تھی، ڈاکٹر ثاقب بہت خوشدلی سے ملے.
”ماشاءاللہ آپ بہت جلدی بہتری کی جانب آ رہی ہیں، بس خود کو سنبھال کر رکھیے، بہت جلد مکمل ٹھیک ہوجائیں گی.“
شازینہ نے بس خاموشی سےگردن ہلائی ۔
ڈاکٹر ثاقب سے دواؤں کی پابندی اور کچھ مزید ہدایات کے ساتھ وہ لوگ واپس آگئے تھے. راستے میں سگنل پر کھڑی اک بچی نے آ کر شیشہ کھٹکھٹایا، اس نے ہاتھ میں فلالین کے بڑے بڑے صافی پکڑے ہوئے تھے، خاموش نگاہوں سے وہ شازینہ کو دیکھ رہی تھی، منہ سے اک لفظ بھی نہ بول سکی، شازینہ نے اسے اک نظر دیکھا اور اپنا بیگ کھول کر اس میں سے کچھ سرخ نوٹ نکالے، اس کے ہاتھ سے ساری صافیاں لے لیں اور اس کی مٹھی میں سرخ نوٹ تھما دیے. بچی کی آنکھیں اب حیرت سے پھٹی ہوئی تھیں، وہ کبھی شازینہ کو دیکھتی اور کبھی اپنی آدھی کھلی مٹھی کو جس میں سرخ نوٹ شاید پہلی بار آئے تھے۔ سگنل کھلا اور سارا نے گاڑی آگے بڑھالی، ساتھ ہی کہا کہ تم نے اس کو کچھ بولنے بھی نہیں دیا، اس نے تو اک لفظ بھی نہیں کہا تھا، اور تم نے اس کی ساری صافیاں لے لیں اور پیسے بھی بغیر گنے بغیر قیمت پوچھے ہاتھ میں دبا آئیں۔
سارا تم نے کبھی کسی سوالی کی نگاہیں پڑھی ہیں؟ پتا ہے سوالی کی نگاہیں جو کچھ بولتی ہیں، لب وہ سب ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، جن کی آنکھیں سوال کرتی ہوں اور لبوں پر قفل پڑے ہوں، کبھی ان کے قفل ٹوٹنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ جو کچھ آپ سوالی کو دے سکتے ہوں، اس کی خاموش نگاہوں کو دیکھ کر دے دینا چاہیے. نبی اکرم ﷺ نے سوالی کے متعلق سخت ہدایات دیں کہ یا تو اسے جو دینا ہے وہ دے دو یا پھر تمہارے پاس دینے کو نہیں تو احسن طریقے سے سلام کر کے گزر جاؤ.
تم جانتی ہو سارا! یہ جو سوالی ہوتے ہیں، ان کے لبوں کو کیا خوف سی دیتا ہے؟ شازینہ نجانے کہاں گم تھی اور اپنی رو میں بس بولتی جارہی تھی۔
سارا نے کچھ نہ سمجھنےکے انداز میں اسے دیکھا۔
شازینہ نے دھیرے سے کہا، ٹھکرا دیے جانے کا خوف، دھتکار دیے جانے کا خوف. یہ خوف موت سے بڑھ کر ہوتا ہے. اپنی عزت نفس کو جب کوئی ہتھیلی میں لیکر کسی کے سامنے جا کھڑا ہوتا ہے نا، تو وہ سولی پر لٹکا ہوتا ہے اور جس کے سامنے اس کا ہاتھ پھیلا ہوتا ہے، وہ لمحے میں یا تو سوالی کی عزت نفس کا قاتل بن جاتا، یا پھر اس کی آنکھوں میں تیرتے درد کو سمیٹ کر مسیحا بن جاتا ہے اور یہ فیصلہ بس چند لمحوں کا ہوتا ہے۔
سارا شازینہ کے لفظوں میں چھپے کرب کو بہت اچھی طرح محسوس کرسکتی تھی، مگر اس کے پاس اسے تسلی دینے کو دو لفظ بھی تو نہیں تھے. وہ خاموشی سےگاڑی ڈرائیو کرتی رہی۔ کچھ دیر خاموشی رہی، پھر سارا نے پلئیر آن کر دیا اور گاڑی میں یکدم خاموشی کو چیرتی ہوئی آواز گونجنے لگی:
”زندگی میں انسان کئی بار ایسے دوراہے سےگزر رہا ہوتا ہے کہ اسے اپنے سوا ہر اک مطلبی اور خود غرض لگتا ہے، ایسے میں وہ کسی کو کچھ بھی کہہ دیتا ہے کچھ بھی سنا دیتا ہے، اسے یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس وقت کسی کے دل کو توڑ رہا ہے، اسےٹھیس پہنچا رہا ہے، اسی لیے رب اعلیٰ نے قرآن میں یہ تنبیہ کی ہے کہ تمہارے وہ صدقات بھی سب ضائع ہوجاتے ہیں جن کے بعد کوئی دکھ والی بات تم کسی مجبور کو سنا جاؤ، اس سے بہتر ہے کہ تم کوئی صدقہ نہ دو، بس اک ذرا سی چشم پوشی اور تسلی کے دو بول تمھارے اس صدقے سے بہتر ہیں جس کے پیچھے دکھ چھپا ہو۔ یاد رکھیں! کبھی کسی کا دل نہ دکھائیں، کبھی آپ کی وجہ سے کسی کی آنکھ میں آنسو نہ آئیں، کسی کی خوشیوں کا باعث نہیں بن سکتے تو نہ بنیں مگر یاد رکھیں کہ کبھی کسی کے آنسوؤں کی وجہ نہ بنیں کہ کسی کا دل دکھانے کی سزا زندگی بھر اٹھانی پڑتی ہے، کسی کے آنسو آپ کی زندگی میں آنے والی ہر خوشی کو بیڑیوں کی طرح جکڑ لیتے ہیں اور جب تک وہ شخص خود آپ کو معاف نہ کردے، آپ کی سزا ختم نہیں ہوتی۔“
سارا میں نے بھی دل دکھایا تھا، میں نے بھی تو دل دکھایا تھا، میں نے بھی تو کسی کو رلایا تھا نا۔ میں نے بھی کسی کے آنسوؤں کی پرواہ نہیں کی تھی۔ اچانک شازینہ نے زور زور سے رونا شروع کردیا۔
سارا تم جانتی ہو نا راحم کو، جو میرے ساتھ کالج میں کولیگ تھا، سارا تم جانتی ہو نا۔ وہ پھر سے ایک بار زور زور سے رونے لگی تھی۔
سارا کو ایک دم ہی چار سال پہلے کی پوری کہانی یاد آگئی۔

یہ بھی پڑھیں:   ہر دوسرے گھر کی کہانی - احمد ذیشان چغتائی

شازینہ کے کالج میں جاب کے دوران ہی راحم وہاں نیا لیکچرار آیا تھا۔ شازینہ نے بس اک حد تک سب سے سلام دعا رکھی ہوئی تھی، وہ بس اپنے پڑھنے اور پڑھانے تک محدود تھی۔راحم نے کچھ ہی دنوں میں شازینہ سے بات چیت شروع کی، ان کی اکثر بات بھی لیکچر اور ٹاپکس پر ڈسکشن کی ہوا کرتی تھی، وہ بہت عزت اور احترام سے بات کیا کرتا تھا، اس لیے کبھی شازینہ کو اس سے بات کرنے میں دقت پیش نہیں آتی تھی۔ وہ ہمیشہ نگاہیں نیچی رکھا کرتا، بس اتنی ہی دیر بیٹھتا جتنی دیر ان کی ڈسکشن ہوتی یا کچھ پوچھنا ہوتا۔ دن گزرتے رہے، سال ہوچکا تھا انہیں ساتھ کالج میں۔ ایک دن راحم نے شازینہ سے کہا کہ وہ کوئی بات کرنا چاہتا ہے۔ شازینہ نے نارمل سے انداز میں جواب دیا، راحم صاحب کہیے:
”دیکھیے شازینہ! آپ مجھے ایک سال سے جانتی ہیں اور میں بھی ایک سال سے آپ کو جانتا ہوں، آپ میرے بارے میں مزید بھی معلومات حاصل کرسکتی ہیں، میری والدہ بیوہ ہیں اور گاؤں میں ہوتی ہیں، میں ان کا اکلوتا بیٹا ہوں، انہوں نے مجھے بڑی محنت سے پڑھایا، اس قابل بنایا اور اب وہ بھی ہر ماں کی طرح چاہتی ہیں کہ اپنے گھر میں خوشیاں دیکھیں، میں نے امی سے آپ کے بارے میں بات کی تھی، وہ میری ہر خوشی میں خوش ہیں، اگر آپ کو کوئی اعتراض نہیں تو میں اپنی والدہ کو آپ کے والدین کے پاس بھیج دوں؟“
راحم نے اپنے اسی انداز سے نیچے نگاہیں کیے ایک سانس میں سب کچھ کہہ ڈالا، مبادا کہیں اس کی سانس ٹوٹ جائے۔ اس نے شازینہ کے چہرے پر آتے ایک کے بعد ایک رنگ نہیں دیکھے تھے۔
اس کی بات ختم ہوتے ہی شازینہ کسی بم کی طرح پھٹی تھی:
”ایک سال سے آپ نے میرے بارے میں کیا جانا؟
بولیں کیا جانتے ہیں آپ میرے بارے میں؟
کیا پتا ہے آپ کو میرے بارے میں؟
کون ہوں میں کیا ہوں میں؟
اور آپ نے یہ سب سوچ کیسےلیا؟
میرے پاس آپ کے بیٹھنے کا مقصد اتناگھناؤنا ہوسکتا ہے، میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔“
خدا کے لیے شازینہ! میرے پاکیزہ جذبوں کی توہین مت کیجیے، خدا جانتا ہے میں نے آپ کے بارے میں کبھی ایک لمحہ غلط نہیں سوچا، کبھی بھی نہیں، میں نے آپ سے ایک پاکیزہ اور جائز رشتہ جوڑنے کی خواہش کی بس۔
کیا سمجھتے ہیں آپ! جو لڑکی بھی گھر سے نکلتی ہے وہ عشق لڑانے نکلتی ہے؟ شازینہ بات کاٹ کر اس پر چلائی۔
کیا سمجھتا ہے مرد، جس لڑکی کو جب چاہے گا حاصل کرلے گا، جیسے چاہے گا اس سے محبت کا ڈھونگ کرکے اسے اپنے جھانسے میں لے آئے گا۔ شازینہ سارے لحاظ مروت کو اٹھا کر پھینک چکی تھی۔
راحم کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے اچانک شازینہ کے سامنے ہاتھ جوڑے؛
مس شازینہ! آپ نے انکار کرنا ہے، کر دیجیے، مگر خدارا میری توہین مت کیجیے، خدارا میرے احساسات اور جذبات کی یوں تذلیل مت کیجیے۔
شازینہ مگر کب ہوش میں تھی، کون سے جذبات، اور کیسی توہین راحم صاحب! یہ آپ جیسے مردوں کی اصلیت ہے۔ وہ غراتے ہوئے بولی۔
بس کردیں مس شازینہ! بس کردیں۔ وقت پلٹے دیر نہیں لگتی، کہیں ایسا نہ ہو کہ کل آپ کسی کے در پر یونہی ہاتھ جوڑے کھڑی ہوں اور یونہی دھتکاری جائیں۔ تب آپ جذبوں کی توہین، احساسات کی تذلیل اور دھتکارے جانے کے مفہوم کو جان جائیں گی، درد کو محسوس کر سکیں گی۔
شازینہ پلٹ چکی تھی، دور تک اس کی سماعتوں سے الفاظ ٹکرا رہے تھے، ”میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گا، کبھی کبھی کبھی بھی نہیں۔“
راحم وہیں کھڑا تھا، نجانے کتنی دیر اسی کیفیت میں روتا رہا۔ جب شازینہ اپنی گاڑی لے کر موڑ کاٹ رہی تھی تب اس نے آخری بار راحم کو دیکھا تھا، وہ اپنے ہاتھوں کی پشت سے اپنے آنسوؤں کو صاف کررہا تھا۔
شازینہ کو اک انجانی سی خوشی ہو رہی تھی کسی مرد کو روتا دیکھ کر۔ اسے شازل کا چہرہ یاد آیا جس نے ہمیشہ اسے رلایا تھا، وہ خود کبھی نہیں رویا تھا۔
وہ سیدھی سارا کے پاس گئی تھی، ساری کہانی سن کر ایک لمحے کو سارا سناٹے میں آگئی تھی۔
شازینہ تم کسی کے ساتھ یہ سب بھی کرسکتی ہو؟ اس نے بے یقینی میں ڈوبے لہجے میں سوال کیا تھا۔
ہاں ایسے مردوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہیے۔
کیسے مرد؟ کیا کیا اس بے چارے نے؟ تم سے فلرٹ کیا؟ تم سے جھوٹ بولا، دھوکہ دیا؟ کیا کیا؟ بس یہی کہ تم سے عزت سے اپنے دل کی بات کی، اک پاک رشتہ بنانے کی۔ سارا نے دکھ سے جواب دیا۔
شازینہ ہر مرد شازل نہیں ہوتا، تم کیوں نہیں سمجھتی، دنیا میں اچھے مرد بھی ہیں اچھے دل رکھنے والے۔
مرد سب ایک سے ہوتے ہیں، بس ہر اک نے الگ نقاب اوڑھا ہوتا ہے۔ شازینہ نے تلخی سے سارا کی بات کاٹ کر کہا تھا۔
سارا جانتی تھی کہ وہ کبھی نہیں مانے گی، اس نے اپنی زندگی کے جتنے سال اک مرد کے ساتھ گزارے تھے، وہ دنیا کے ہر مرد کواسی کے چہرے کے ساتھ دیکھا کرتی تھی۔ سارا جانتی تھی کہ اس میں وہ بے قصور تھی، جس عمر میں لڑکیاں نت نئی فیشن کے کپڑے جوتوں کی فرمائشوں اور مشغلوں میں مگن ہوتی ہیں، اس نے اس عمر میں ایک مرد کے ساتھ تلخ ترین دور گزارا۔ اس کے لہجے میں یہ تلخی یونہی تو نہیں تھی، رشتوں کے زہر کو چکھا تھا اس نے۔
اس نے شازینہ کو مزید کچھ نہیں کہا اور موضوع بدل دیا۔
اچھا یہ لو تم اس کو سنبھالو، میں ذرا کچن میں دیکھ لوں، وہ اس کی گود میں اپنی ایمن کو دے کر چلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   زوجین کے نام ایک خط - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

سارا مجھے راحم کا پتا ڈھونڈنا ہے، سارا مجھے اس سے معافی مانگی ہے، سارا مجھے اس کی بددعا لگی ہے، اس کا کہا اک اک لفظ سچ ہوگیا سارا۔ مجھے جذبوں کی توہین کا، احساسات کی تذلیل کا اور دھتکارے کا مفہوم سمجھ آگیا ہے۔ راحم کو تلاش کرو سارا۔
سارا ایک دم ہی ماضی سے حال میں موجود تھی۔ شازینہ اس کے سامنے کسی بچے کی طرح بلک رہی تھی۔
سارا نے گاڑی سائیڈ پر روکی اور بڑی مشکل سے اسے سنبھالا، پانی بوتل نکالی، اسے زبردستی پانی پلایا، اور تسلی دینے لگی۔ ہم ضرور راحم کو تلاش کریں گے مگر اس کے لیے تم ٹھیک تو ہوجاؤ نا۔
میں بالکل ٹھیک ہوں، بس تم کالج جاکر اس کا پتا کرو۔
اچھا میں اس کا پتا کرتی ہوں، تم خود کو سنبھالو، اس حال میں گھر جاؤگی تو انکل کتنا پریشان ہوں گے۔ شازینہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور پھر سے خاموش ہوگئی۔ اگلا سارا راستہ وہ خاموش ہی رہی۔
گھر آچکا تھا، سارا نے اسے دوائیں وقت پر لینے اور خود کو سنبھالنے کی تنبیہ کی اور اسے ڈراپ کر کے چلی گئی۔ شازینہ خود میں اتنا گم تھی کہ اسے اس کے واپس جانے کا بھی احساس نہیں ہوا، نہ ہی اس نے اسے رکنے کا کہا۔ سارا اس کی اس کیفیت کو کئی دنوں سے نوٹ کرچکی تھی اور انکل سے بھی کہہ چکی تھی۔
یاد رکھیں کبھی کسی کا دل نہ دکھائیں، کبھی آپ کی وجہ سے کسی کی آنکھ میں آنسو نہ آئیں، کسی کی خوشیوں کا باعث بنیں نا بنیں مگر یاد رکھیں کہ کبھی کسی کے آنسوؤں کی وجہ نہ بنیں کہ کسی کے دل کا دکھانے کی سزا زندگی بھر اٹھانی پڑتی ہے۔ کسی کی آنکھ کے آنسو آپ کی زندگی میں آنے والی ہر خوشی کو بیڑیوں کی طرح جکڑ لیتے ہیں اور جب تک وہ شخص خود آپ کو معاف نہ کردے، آپ کی سزا ختم نہیں ہوتی، آپ کی سزا ختم نہیں ہوتی ۔۔۔ سزا ۔۔۔
اس کے دماغ میں وہی الفاظ کسی ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے، اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے کنپٹیوں کو دبایا، اسے لگتا تھا کہ اس کے دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی۔ وہ مشکل سے اپنے کمرے تک پہنچ پائی تھی۔ اس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا۔ بس آخری لمحے میں اس نے کچھ پکڑنا چاہا تھا مگر اس کے ہاتھ ہوا میں ہی معلق رہ گئے تھے اور سارا کمرہ اسے اپنےسر پرگرتا محسوس ہوا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)

پہلی قسط یہاں پڑہیے
دوسری قسط یہاں پڑہیے
تیسری قسط یہاں پڑہیے
چوتھی قسط یہاں پڑہیں
پانچویں قسط یہاں پڑہیے

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.