پاکستان میں مذہبی سیاست کہاں کھڑی ہے؟ عابد محمود عزام

جمعیت علمائے اسلام کے کامیاب اجتماع کے بعد ایک بار پھر پاکستان میں مذہبی سیاست زیر بحث ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے تقریبا تمام مکاتب فکر کے افراد کو ایک اسٹیج پر اکٹھا کر کے آئندہ الیکشن کی تیاری کا آغاز بھرپور طریقے سے کیا ہے۔ اجتماع میں تمام مکاتب فکر کے رہنماﺅں کی شرکت سے سیاسی مبصرین یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن آئندہ الیکشن میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے ایم ایم اے کی طرز کے کسی اتحاد کے متمنی ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اجتماع میں اپنی تقریر کے دوران مذہبی جماعتوں کے اتحاد کا اختیار مولانا فضل الرحمن کو سونپ دیا ہے۔ مذہبی جماعتوں کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اگر وہ اتحاد کر لیتی ہیں تو ان کو کس حد تک کامیابی مل سکتی ہے؟ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا، جہاں ایک مذہبی معاشرہ ہے، مگر بھرپور تگ و دو کے بعد بھی مذہبی جماعتوں کو بہت ہی کم کامیابی ملتی ہے۔ مذہبی سیاسی قوتوں کو ان عوامل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جو آج تک ان کی شکست کا باعث بنتے آرہے ہیں۔

پاکستان میں مذہبی سیاست کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مذہبی جماعتوں کے منشور اور دستور میں عوامی مسائل کے حل سے متعلق کوئی واضح نصب العین نظر نہیں آتا، اس حوالے سے ترک حکومت پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ طیب اردوان نے ترکی میں یہ ثابت کیا ہے کہ اگر حکمت عملی کے ساتھ مسلسل جدوجہد کی جائے تو عوام کے دلوں میں جگہ بنا کر کامیابی حاصل کرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ ترکی میں ملک کی کٹر سیکولر اور عالمی قوتوں کی سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود ”انصاف اور ترقی پارٹی“ کامیابیاں سمیٹ رہی ہے، جبکہ پاکستان میں اسلام پسند سیاسی جماعتوں کو ایک عرصے سے تمام تر کوششوں کے باوجود ایسی کامیابیاں نہیں مل سکیں، حالانکہ پاکستان ایک مذہبی معاشرہ ہے، یہاں ہر شخص مذہب اور مذہبی شخصیات سے محبت کرتا ہے، مساجد اور مدارس کا احترام کرتا ہے، علماءکی دل سے عزت کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود مذہبی سیاسی جماعتیں کامیاب نہیں ہوپاتی ہیں۔ اسلام پسند سیاسی جماعتوں کا المیہ یہ ہے کہ یہ نچلی سطح پر عوام اور ان کے مسائل سے تقریباً لاتعلق ہوتی ہیں۔ صرف مسجد، مدارس اور جلسے جلوسوں تک محدود رہتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام ان کو عزت تو بہت زیادہ دیتے ہیں، لیکن ووٹ نہیں دیتے۔ عوام ووٹ ان کو ہی دیتے ہیں، جو عوام کے ساتھ گھل مل کر رہتے اور ان کے مسائل حل کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں۔ ترکی میں اسلام پسندوں کو زیادہ ووٹ ملنے کی وجہ نظریاتی بنیاد کی بجائے عوامی خدمت ہے اور پاکستان میں بھی لوگ ووٹ نظریاتی بنیاد پر نہیں دیتے، بلکہ عوام میں کیے گئے کاموں کی بنیاد پر دیتے ہیں۔ لوگ نظریات کی بنیاد پر جان تو دے دیتے ہیں، لیکن ووٹ نہیں دیتے، کیونکہ ووٹ اس کا ہی حق ہوتا ہے، جو ان کے مسائل حل کرے۔ اگر ہماری مذہبی جماعتیں خدمت کی سیاست کو اپنی اولین ترجیح بنا کر عوامی مسائل کے حل کے لیے میدان میں اتر کر اپنی اہلیت ثابت کردیں تو ترکی کی طرح یہاں بھی وہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں۔

اسلام پسند سیاسی جماعتوں کی ایک بہت بڑی خامی مسلکی تعصب اور آپسی اختلاف ہے۔ نظریاتی و مسلکی اختلاف پائے جانے کے باوجود ملک میں تمام مذہبی جماعتوں کا دعویٰ ملک کو اسلامی نظام کے تابع کرنا ہی ہے۔ اگر یہ تمام جماعتیں آپس میں دست و گریباں ہونے کی بجائے متحد ہوکر جدوجہد کریں اور اے کے پارٹی کی طرح اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ ملک کی مذہبی سیاسی جماعتیں بھی بہتر طریقے سے کام کرسکتی ہیں تو کامیابی ان کے قدم چوم سکتی ہے، مگر ہوتا اس کے برعکس ہے۔ پاکستان کی سیاست میں شریک مختلف جماعتیں مختلف مسالک کی بنیاد پر حصہ لیتی ہیں، جو قوم کے بدنِ پارہ پارہ کو مزید ریزہ ریزہ کرنے کے مترادف ہے۔ اگر اسلام پسند سیاسی جماعتیں اپنے نعروں میں واقعی سچی ہیں تو اپنی جماعتوں میں بھی غیر مسکی بنیاد پر افراد کو دعوت دیں اور شریک کریں،مسلکی تقسیم سے بالاتر ہو کر ماہرین کو شریک کریں، بلکہ کھلے دل سے دیگر مسالک کے افراد کی آراءاور تحفظات کو بھی ملحوظ رکھیں۔ مذہبی جماعتوں کی اس مسلکی روش سے اپنے مسلک کا ووٹ تو مل جاتا ہے، مگر مجموعی طور پر یہ بات پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔

مذہبی سیاسی جماعتوں کے کارکنان کے رویوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی جماعتیں اپنے کارکنان کو سیاست میں نہ روا داری سکھاتی ہیں، نہ کسی اختلاف کو برداشت کرنے کی وسعتِ قلبی اور نہ ہی دوسرے مسلک کو برداشت کرنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ عدم برداشت اور تنگ نظری دوسری سیاسی جماعتوں میں نہیں، دوسروں میں بھی ہے، مگر مذہبی جماعتوں میں یہ ہرگز نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ لوگ مذہب کی تعلیمات کا درس دیتے ہیں اور مذہب تو رواداری اور ایک دوسرے کو براشت کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اگر ان میں عدم برداشت اور تنگ نظری ہوگی تو ان کے قول و فعل کے خلاف ہوگا۔ اس کے ساتھ مذہبی جماعتوں کو ملاں و مسٹر کی تقسیم ختم کرنا ہوگی اور مسٹرز کے لیے اپنی صفوں میں اتنی محبت پیدا کرنا ہوگی کہ وہ بغیر کسی ہچکچاہت کے خوشی کے ساتھ ان کی جماعتوں میں شامل ہوں۔ داڑھی ٹوپی اور پینٹ کوٹ والوں کے درمیان مشرق و مغرب کی دوریاں ہیں، جس کو پاٹنے کے لیے مذہبی جماعتوں کو کوشش کرنی چاہیے۔

مذہبی سیاست کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ موجودہ مذہبی جماعتوں کے پاس کوئی واضح قومی ایجنڈہ نہیں ہے، وہ اپنے ورکروں میں جذباتی عقیدتوں اور اندھی نفرتوں کے سوا کوئی اجتماعی اور انسانی اقدار پر مبنی نقطہ نظر پیدا کرنے سے عاری معلوم ہوتی ہیں۔ ہر جماعت اسی کوشش میں ہے کہ اسے چند سیٹیں مل جائیں اور کچھ حصہ اقتدار میں سے مل جائے۔ موجودہ سیاسی فضا میں دینی سیاسی قوتیںواضح طور پر دو الگ الگ فریقوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ ایک طرف مولانا فضل الرحمن، عمران خان کو یہودی لابی کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے پی کے میں عمران خان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے کھڑی ہے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کرپشن کے خلاف ریلیاں نکالتے ہیں اور مولا فضل الرحمن پاناما لیکس کے معاملے میں نواز حکومت کے ساتھ خم ٹھوک کر کھڑے ہیں۔ ہماری پاکستانی سیاست بدترین سرمایہ دارانہ روایات کی حامل ہے اور اس میں غریب کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس نظام میں اسلام پسند سیاسی جماعتوں کو غریب کی جنگ لڑنی چاہیے تھی، لیکن یہ صرف نظریے اور مذہب کا نعرہ دے کر مطمئن ہوجاتی ہیں، حالانکہ اس وقت عوام کی اکثریت کا مسئلہ غربت ہے، اگر انہیں پیٹ بھرنے، بدن ڈھانپنے اور سر چھپانے کے لیے کچھ ملے گا تو ہی یہ کسی نظریاتی نعرے کی جانب توجہ دیں گے۔ ملک میں اسلام پسندوں کی سیاست کی بہت جگہ ہے، اگر وہ طریقے سے کریں۔ اگر مذہبی جماعتیں متفقہ لائحہ عمل کے تحت بلاتفریق خدمت و محبت عوام کو دے کر ان کے دلوں میں اپنی قدروقیمت پیدا کریں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ عوام انہیں مسترد کریں، کیونکہ عوام آج بھی سب سے زیادہ دیانت دار اور صالح مذہبی نمائندوں کو تصور کرتے ہیں۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.