احساس گناہ جو جان لیوا ثابت ہوا - زینی سحر

مجھے امید نہیں تھی کہ ایڈ کرنے کے بعد وہ فوراً ان باکس میں چلا آئے گا، ایسوں کے سلام کا جواب نہ دینا ہی بہتر ہوتا ہے لیکن پھر اس کا دوسرا میسج آیا۔
اس نے کہا تم میری کہانی لکھو گی، اور جس وقت تم یہ کہانی لکھو گی میں اس وقت اپنی لاش اٹھا کر کہیں دور جا چکا ہوں گا، اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں. بس اپنے قلم میں میرے درد کی سیاہی بھرو اور میرے الفاظ سن کر کہیں لکھ لو. مجھے پتا ہے تم میری بات سننے کی بھی روادار نہیں لیکن میرا یہ کام تمہیں ایک نہ ایک دن کرنا پڑے گا. تب مجبوراً مجھے اس کی بات کا جواب دینا پڑا۔

اس نے پھر بولنا شروع کیا. یہ بوجھ نہ جانے میں کب سے اٹھائے پھر رہا ہوں. یہ قرض کا بوجھ خالہ کے وہ احسانات تھے جو اتارنا میرے اوپر فرض تھے. یہ قرض بچپن سے ہی میرے اوپر لدنا شروع ہو گیا تھا جس سے دن بدن میں بوجھل ہوتا جا رہا تھا. آخر ایک دن ادائے قرض کی غلط سوچ کے تحت ایک گناہ کر بیٹھا، جس کے بعد ایک نیا بوجھ میرے سر پہ آگیا جس کے ہاتھوں اب میں دن بدن زمین میں دھنستا چلا جا رہا ہوں۔

لیکن میں اس سلسلے میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں؟ نہ آپ کے مسئلے میں پڑنے کی مجھے کوئی ضرورت ہے. آپ یقیناً پڑھے لکھے اور سمجھدار انسان ہیں لہذا اپنے بوجھل مسائل آپ خود حل کریں. میں نے بے رخی سے جواب دیا اور سمجھی شاید اب بات ختم ہو جائے گی لیکن کچھ ہی دیر بعد اس کا پھر سے میسیج آگیا۔

میرے کہہ دینے اور تمھارے سن لینے سے میرا گناہ کم نہیں ہوگا. یہ کہانی میں جس کو بھی سناؤں گا وہ مجھے گنہگار ہی سمجھے گا لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی ایک شخص جو میرا ہمدرد ہو. کوئی ایک شخص جو کہے کہ ہاں تم نے برا تو کیا لیکن .... مجھے امید ہے کہ وہ ہمدرد تمھی ہو. بہت تلاش کے بعد ایسا لگا ہے کہ تمہاری شکل میں مجھے وہ ہمدرد میسر آگیا ہے. بس وعدہ کرو تم میری کہانی بھی لکھو گی. اس سے شاید مجھے کچھ اور ہمدرد میسر آجائیں. اگر ایسا ہوا تو شاید میری روح کو کچھ اور سکون مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   دراڑ - حنا نرجس

پھر اس نے اپنا قصہ سنانا شروع کیا.
ہم تین بہن بھائی تھے، ابا آرمی میں تھے، زندگی اچھی گزر رہی تھی. ایک دن اماں بابا سرکاری جیپ میں کہیں جا رہے تھے کہ اچانک بارودی سرنگ پھٹنے سے دونوں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے. بہن بھائی مجھ سے چھوٹے تھے. ہماری پرورش کے لیے خاندان کے لوگوں نے ہمیں آپس میں بانٹ لینا چاہا تاکہ کسی ایک پر کوئی زیادہ مالی بوجھ نہ آئے مگر ہم بہن بھائی جدائی کے ڈر سے ایک دوسرے کے گلے لگ کے رو رہے تھے، ہم ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونا چاہتے تھے لیکن کوئی ہمارا یہ درد سمجھنے کو تیار نہ تھا. یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ بہن بھائی ایک ایک چچا کے پاس رہیں گے اور مجھے پھوپھی کے ہاں رہنا ہوگا اور یوں چہلم سے پہلے ہی ہم سب بہن بھائی روتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہو گئے. اماں ابا کی وفات کے بعد یہ جدائی دنیا کا دوسرا بڑا صدمہ تھا جو ہم بہن بھائیوں نے ایک ساتھ جھیلا۔

پھر شاید ہم بہن بھائیوں کی فریاد رنگ لائی تھی کہ آسمان ہم پر مہربان ہو گیا. چہلم پر ہماری کراچی والی خالہ آئیں جو ہم سب کو اپنے ساتھ لے گئیں. یوں ہم سب بہن بھائی ایک ساتھ رہنے لگے. خالہ کی اپنی چار بیٹیاں تھیں. انہیں دو بھائی مل گئے اور ہمیں ماں کا پیار بھی ملا اور زندگی کی بیشتر سہولتیں بھی. تعلیم اس کے علاوہ تھی. جب خالو ریٹائر ہوئے تو میں پڑھ لکھ کر افسر بن چکا تھا اور ساری تنخواہ اچھے بچوں کی طرح خالہ کے ہاتھ پہ رکھنے لگا تھا۔

گھر میں پہلی شادی خالہ کی بڑی بیٹی کی ہوئی تھی. وہ بڑی ہونے کے ناطے ہمیشہ میرا خیال رکھتی تھی. ہمارے درمیان تحفے تحائف کا تبادلہ اور فرینکنیس بھی کافی حد تک موجود تھی، وہ ایک اچھے کھاتے پیتے گھرانے میں بیاہ کر گئی تھی لیکن شادی کے چھ سال بعد بھی اس کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی. سسرال والے اب اسے نہ صرف باقاعدہ تنگ کرتے تھے بلکہ اسے طلاق دے کر اپنے لڑکے کی دوسری شادی بھی رچانا چاہتے تھے. طلاق کا نام سن کر خالہ کو غشی کے دورے پڑنے شروع ہوگئے اور خالو بھی بظاہر ٹھیک نظر آتے تھے لیکن اندر ہی اندر ان کو کوئی غم کھائے جا رہا تھا. جب ایک بیٹی کو طلاق ہو جائے تو باقی تین کا رشتہ طے ہونے میں بھی بہت سی خرابیاں در آتی ہیں. معاشرے میں منہ دکھانا ایک علیحدہ دکھ کا باعث بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مثبت سوچ کا ہماری زندگی پر اثر - اقصیٰ عتیق

میں ایک معصوم بچے کی طرح ہی تھا لیکن اتنی سی بات پہ ایک ہنستا بستا گھرانہ یوں برباد ہوتے ہوئے مجھ سے نہ دیکھا گیا. پھر ایک دن ہم دونوں نے ایک فیصلہ کیا، ہم دونوں کزن تھے، کوئی شک نہیں کر سکتا تھا. کچھ عرصے بعد اس کے ہاں بیٹا ہوا، آج اس کا بیٹا دس سال کا ہے، اس کا گھر آباد ہوگیا اور ہمارا آشیانہ تباہ ہونے سے بچ گیا. میں اپنے محسنوں کا ہر طرح سے خدمت گزار رہا ہوں. اب ان کا گھر بھی شاد و آباد ہے. سب بچوں کی شادیاں ہوگئی ہیں. وہ بھی سب بخیر و عافیت ہیں لیکن میرے اپنے گھر میں کوئی اولاد نہیں ہوئی.

میری بیوی میری بہت خدمت گزار ہے، ہر طرح سے میرا خیال رکھتی ہے، پھر بھی میں دن بدن مرتا جا رہا ہوں. میرے دل کا بوجھ دل کی بیماری میں بدل چکا ہے. ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس کے دل پر کوئی بوجھ ہے جو اسے افاقہ نہیں ہونے دیتا. میں مر رہا ہوں لیکن ابھی علاج چل رہا ہے. ڈاکٹر پر امید ہیں، میری بیوی میری امید بندھاتی ہے، لیکن میں دھیرے دھیرے مر رہا ہوں. مجھے پتا ہے کہ میں بچ نہیں پاؤں گا کیونکہ میں نے اپنی زندگی گناہ کے کفارے میں دے دی ہے.

وہ مجھ سے ہمدردی چاہتا تھا لیکن میں فوری طور پر کوئی فیصلہ نہ کر پائی. جس دن میں نے اس کے ساتھ ہمدردی کرنے کا فیصلہ کیا، اس دن تک اس کی آئی ڈی بند ہو چکی تھی، اب میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ حسب وعدہ اس کی کہانی لکھ دوں.

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.