جادو، جھاڑ پھونک اور خواب؛ اثرات و موانع - حافظ محمد زبیر

عاملین کا کہنا یہ ہے کہ اگر کسی پر جادو، ٹونا، تعویذ، گنڈا، آسیب یا نظر بندی وغیرہ ہو، تو اس کی سب سے بڑی علامت انسان کے خواب ہیں۔ براعظم افریقہ وغیرہ میں کہ جہاں سینکڑوں قسم کا جادو ٹونا پایا جاتا ہے، روحانی عاملین کی ایک ایسی جماعت وجود میں آ چکی ہے کہ جنہوں نے جادو ٹونے کے بارے نہ صرف بیسیوں کتب مرتب کر دی ہیں، بلکہ روحانی ہسپتال بھی قائم کر دیے ہیں اور ایسے دسیوں فورمز بنا دیے ہیں جہاں وہ اپنے مشاہدات اور تجربات سینکڑوں موضوعات کے تحت بیان کر رہے ہوتے ہیں۔

مختصراً کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جادو جس طرح ایک علم کے طور مروج رہا ہے، اسی طرح اب جادو کا علاج بھی ایک سائنس بن چکا ہے کہ جس میں بیسیوں پہلوؤں سے تحقیق ہو رہی ہے۔ کچھ عاملین سائیکالوجی اور جھاڑ پھونک دونوں کو جمع کر کے ایک نیا مکتبہ فکر بنا رہے ہیں تو کچھ میڈیکل سائنس کے ساتھ دم درود کو استعمال کر رہے ہیں۔

عاملین کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو خواب میں بار بار سانپ نظر آئے تو یہ جادوگر کا خادم جن ہے جو آپ کو تنگ کر رہا ہے۔ اگر وہ سانپ آپ کے پیچھے لگتا ہے تو ابھی تک وہ جن آپ کے جسم میں داخل نہیں ہوا اور اگر وہ آپ کو خواب میں کاٹ لیتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس جن نے آپ کو مَس (touch) کیا ہے۔ اگر وہ اژدھا ہے تو یہ کوئی بہت بڑا جن ہے اور اگر عام سا‏ئز کا سانپ ہے تو عام جن ہے کہ جنہیں اصطلاح میں ”عمار“ کہا جاتا ہے۔ اگر کالے سیاہ رنگ کا سانپ ہے تو یہودی جن ہونے کا امکان زیادہ ہے، اگر زرد رنگ کا ہے تو عیسائی جن اور سفید رنگ ہے تو مسلمان جن ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ جادو اور سانپ میں تعلق کے بارے حضرت موسی، اور فرعون کے جادوگروں کے واقعے میں بھی صریح اشارے موجود ہیں۔

اگر خواب میں بلی بار بار نظر آئے تو عاشق جن ہے۔ اور عاشق جن خواب میں ایسی صورت میں آتا ہے کہ جس سے انسان کو مانوسیت ہو۔ اگر خواب میں اونٹ کو دیکھے کہ وہ پیچھے لگا ہے تو یہ سرکش شیطان ہے۔ اور اگر چیتا دیکھے تو یہ بھی متمرد شیطان ہے اور صحرائی ہے۔ اگر بار بار مچھلی دیکھے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ حملہ آور شیطان پانی کا رہائشی ہے۔

اگر خواب میں شیر دیکھے تو یہ جنات میں کوئی مقام اور رتبہ رکھنے والے جن کی علامت ہے اور اگر گدھا دیکھے تو یہ بہت ہی بڑا جن ہے کہ جسے عام جادوگروں کے لیے قابو کرنا مشکل ہے، اور عاملین کے لیے اس کا علاج آسان نہیں ہے۔ اگر خواب میں کتا دیکھے تو یہ بھی جادوگر کا خادم جن ہے، اگر کالا ہو تو یہ یہودی جن ہے اور اگر زرد رنگ کا ہے تو اس کا ایک معنی یہ ہو سکتا ہے کہ وہ عیسائی جن ہے اور دوسرا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ وہ واش روم، بیت الخلا وغیرہ جیسے مکان میں رہتا ہے۔ اور اگر خواب میں چھپکلی دیکھے تو یہ حاسد کی نشانی ہے۔ اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ حاسد کی نظر لگنے کی علامت ہے۔

ان چیزوں کا خواب میں دیکھنے کا ضروری مطلب یہ نہیں ہے کہ جادو ٹونا یا تعویذ گنڈا ہی ہوا ہے بلکہ اگر یہ چیزیں خواب میں بار بار نظر آئیں اور خواب میں یا خواب کے بعد بے چینی اور اضطراب کا باعث بنیں تو آپ کو روحانی علاج کی ضرورت ہے۔ اور بہتر یہی ہے کہ آپ اپنا روحانی علاج خود سے کریں۔ آپ کے لیے آپ سے بہتر روحانی معالج کوئی نہیں ہو سکتا۔

بعض اوقات کچھ بھی نہیں ہوتا، صرف انسانی وہم ہوتا ہے اور انسان اسے جادو ٹونا یا تعویذ گنڈا سمجھ لیتا ہے لیکن وہم اور حقیقت کو جاننے کے کئی ایک ذرائع ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ اچانک انسان کے خواب غیر معمولی ہو جائیں۔ اسی طرح جادو ٹونا ہے یا نہیں، تو یہ معلوم کرنے کا دوسرا راستہ شرعی جھاڑ پھونک اور مخصوص اوراد وظائف ہیں کہ جن کا پڑھنا فوراً تیر کی طرح جا کر لگتا ہے اور چیزیں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں یا پڑھنے والے کو اپنی موجودگی کا احساس دلانا شروع کر دیتی ہیں، چاہے وہ پیشہ ور ہو یا نہ ہو۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْہ وَسَلَّمَ، قَالَ: انَّ الرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: مِنْھا اھاوِيلُ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ بِھا ابْنَ آدَمَ، وَمِنْھا مَا يَھمُّ بِہ الرَّجُلُ فِي يَقَظَتِہ، فَيَرَاہ فِي مَنَامِہ، وَمِنْھا جُزْءٌ مِنْ سِتّۃ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّۃ
”حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول نے فرمایا کہ خواب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ ہیں کہ جو شیطان کی طرف سے ڈراوا ہیں تاکہ وہ ان کے ذریعے انسان کو پریشان رکھے۔ دوسرا وہ خواب ہیں کہ جو کچھ ہم بیداری میں دیکھتے ہیں تو وہ خواب میں نظر آتا ہے۔ اور تیسرا وہ خواب ہیں جو نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں [یعنی یہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور سچے خواب ہوتے ہیں]۔“

آسیب، سحر اور نظر بد تین چیزیں ہیں۔ آسیب تو یہ ہے کہ کسی نے کوئی جادو ٹونا نہیں کروایا لیکن کسی سبب سے کوئی شریر جن یا جننی کسی انسان سے چمٹ گئی، یا اسے اذیت پہچانے لگی۔ اس کا عموماً سبب یہ ہوتا ہے کہ ”عمار“ کو کسی انسان سے لاشعوری طور کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ غصہ اور رد عمل میں اس انسان کو تنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یا کوئی شخص جنات قابو کرنے کے لیے چلہ کاٹتا ہے تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ یا کوئی جن کسی انسان پر کسی سبب سے عاشق ہونے کی وجہ سے اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا اور اس کی شادی میں رکاوٹ بن رہا ہوتا ہے، اور ایسا بہت ہی نادر ہے۔ یا پھر کسی قسم کی خوشبو لگانے سے کوئی جن کسی انسان کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ یا بعض اوقات نیک لوگوں کی نیکی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بھی جنات شرارتیں کرتے ہیں تاکہ انہیں پریشان کر کے ان کی نیکی میں رکاوٹ بن جائیں ۔ اور بعض لوگوں کو یہ خوابوں میں ڈراتے یا پریشان کرتے ہیں۔ اور بعض اوقات صرف وہم ہوتا ہے کہ جنات ہیں جبکہ وہ حقیقت میں نہیں ہوتے۔ اور بعض اوقات کوئی نفسی مسئلہ ہوتا ہے مثلاً خاص طور نوجوان لڑکوں یا لڑکیوں کا بروقت شادی نہ ہونے کا مسئلہ ہوتا ہے لیکن اسے جنات کا مسئلہ بنا لیا جاتا ہے۔

اس بارے ہمارے معاشرے میں دونوں انتہائیں موجود ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ جن وغیرہ کچھ نہیں ہے، بس ماہر نفسیات کو دکھائیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو بچوں کے نفسی مسائل کو بھی جنات کا مسئلہ بنا دیتے ہیں۔ اگر روحانی معالج اچھا اور نیک ہو تو جھاڑ پھونک سے اسے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ مسئلہ جنات کا نہیں ہے بلکہ نفسی ہے یا شادی وغیرہ کا ہے۔ اور ماہرین نفسیات تو وہ اکثر و بیشتر جنات وغیرہ کی حقیقت کو مانتے ہی نہیں ہیں لہذا انہیں کبھی یہ اندازہ نہیں ہو پاتا کہ مسئلہ نفسی ہے یا روحانی۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ نفسی طریقہ علاج سے کسی قدر مریض کو افاقہ ہوتا ہے لیکن مکمل صحت نہیں ملتی۔ روحانی مریض کو نفسی طریقہ علاج سے جو کسی قدر شفا ملتی ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جنات کا حملہ انسان کے دل ودماغ اور جسم کے ان حصوں پر ہوتا ہے جو کمزور ہوں۔ پس اگر ان اعضا میں قوت مدافعت بڑھ جائے تو مریض کو نقصان کم پہنچتا ہے۔ محسوس یہی ہوتا ہے کہ شیطان، انسان کے جسم میں بیماری پیدا نہیں کرتا بلکہ انسانی خون میں موجود بیماری کے جراثیم کو چھیڑتا ہے اور دل و دماغ میں وسوسہ پیدا کرتا ہے اور یہ وسوسہ بڑھتے بڑھتے ذہنی بیماری کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ پہلی صورت سے جسمانی اور دوسری سے ذہنی بیماری پیدا ہوتی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
انَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الانْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ
”بے شک شیطان انسان کی رگوں میں خون کی جگہ میں دوڑتا ہے۔“

روحانی معالج جسمانی اور نفسی بیماری کے بیرونی سبب کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ طبیب (physician) اور ماہر نفسیات (psychologist) مریض کے جسم اور دماغ میں قوت مدافعت پیدا کر کے اور بیماری کے جراثیم کا مقابلہ کروا کے علاج کرتے ہیں۔

سحر یہ ہے کہ کسی رشتہ دار، دوست، پڑوسی، دشمن نے حسد، بغض، نفرت کے سبب تعویذ گنڈا یا جادو ٹونا کروا دیا۔ جادوگر کفریہ اور شرکیہ عمل کے ذریعہ شیاطین جنات کو خوش کر کے اس کے بدلے میں اُن کی مدد حاصل کرتا ہے۔ اور اُن شیاطین کو اُس کی طرف بھیجتا ہے کہ جس پر جادو کیا جاتا ہے۔ اس کام کے لیے جادوگر جادو کروانے والے سے ایک رقم وصول کرتا ہے۔ اور جادو کرنا کفر ہے کہ جادوگر کو اپنے جادو میں شیاطین کو خوش کرنے کے لیے ان کی عبادت بھی کرنی پڑتی ہے۔ جادو کرنے والا اپنے کفر کے سبب دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جادوگر کی سزا یہ بیان کی ہے کہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ایک موقوف روایت کے الفاظ ہیں:
حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَۃ بِالسَّيْفِ
”جادوگر کی سزا اس کو قتل کرنا ہے۔“

اور نظر سے مراد نظر کا لگ جانا ہے اور نظر کا لگ جانا بر حق ہے ۔ جس طرح انسان کی گفتگو دوسرے کو متاثر کرتی ہے کہ آپ کسی کو گالم گلوچ کریں تو اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہو جاتا ہے، اسی طرح انسان کے جذبات بھی دوسروں کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر آپ کسی سے حسد کا جذبہ رکھتے ہیں تو یہ جذبہ (feeling) آپ کی آنکھوں کے راستے اس شخص کو متاثر کر سکتا ہے کہ جس سے آپ کو حسد ہو۔ اور اسی کو نظر لگ جانا کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں سورۃ الفلق میں حاسدین کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ﴿1﴾ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ ﴿2﴾ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿3﴾ وَمِن شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿4﴾ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ﴾ [الفلق: 5]

”نبی کہہ دیں، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی۔ ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ۔ اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے۔ اور گرہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے۔ اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے۔“

ان تینوں قسموں آسیب، جادو اور نظر کا روحانی علاج الگ ہے جو کہ اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہم اس وقت یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ بعض روحانی معالج بعض اوقات شرعی دم کرتے ہیں لیکن ان کی جھاڑ پھونک کے نتائج برآمد نہیں ہوتے تو اس کی کیا وجوہات ہیں؟ یا شرعی دم کو اثر انگیز بنانے والی کیا چیزیں ہوتی ہیں؟ ذیل میں ہم چھ چیزیں نقل کر رہے ہیں۔

پہلی چیز روحانی معالج کا متقی اور عالم ہونا ہے۔ جھاڑ پھونک کرنے والا جس قدر زیادہ علم اور تقوی کا حامل ہوگا، اسی قدر اس کے دم میں اثر ہوگا۔ اور انسان کی زندگی میں جس قدر علم اور تقوی کم ہو گا، اسی قدر اس کے دم کا اثر بھی کم ہو گا۔ مثال کے طور بہترین بارش بہترین فصل پیدا کرتی ہے۔

دوسری چیز مریض کا اثر قبول کرنے کی صلاحیت رکھنا ہے۔ اگر کسی عامل کا دم مریض کو فائدہ نہیں دے رہا تو سارا الزام عامل کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ بعض اوقات مریض میں دم کے اثرات کو قبول اور جذب کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی یا کوئی رکاوٹ حائل ہوتی ہے۔ فصل کے لیے صرف بارش کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ زمین بھی اس قابل ہونی چاہیے کہ پیداوار دے سکے۔ اگر زمین بنجر یا سخت ہے تو بارش اسے فائدہ نہیں پہنچا جا سکتی۔ ایک روحانی معالج نے بتلایا کہ انہوں نے ایک خاتون کو ہفتوں دم کیا لیکن دوران دم تو کچھ تکلیف کم ہو جاتی تھی لیکن جب وہ گھر جاتی تھیں تو تکلیف دوبارہ لوٹ آتی تھی۔ بعد ازاں معاملہ یہ کھلا کہ وہ سود کھانے میں ملوث ہیں کہ جس کی وجہ سے دم کے اثرات ان تک نہیں پہنچ رہے تھے۔ بلاشبہ حرام کھانا انسانی جسم تک کلام الہی کے انوارات اور برکات کے پہنچنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر مریض متقی اور شریعت پر عمل کرنے والا ہے تو اس پر دم کا اثر زیادہ اور جلدی ہوتا ہے اور مریض جس قدر معصیت میں مبتلا ہو، اس میں دم کے اثرات کو قبول کرنے کی صلاحیت اسی قدر سست ہوتی ہے۔

معالج اور مریض کے علاوہ تیسری چیز دم کے لیے آیات اور اوراد کا انتخاب ہے اور اس کے لیے معالجین کے علم اور تجربے سے فائدہ لینا چاہیے۔ مثلاً اگر تو مریض کو اذیت دینے والا جن یہودی ہو تو اس پر وہ آیات زیادہ اثر کرتی ہیں جو یہود پر لعنت کے بارے میں ہیں۔ اگر ہندو جن ہے تو اس پر مشرکین پر سختی کرنے والی اور توحید کی آیات بہت اثر کرتی ہیں۔ اگر تو کوئی جن مرتد ہے تو پھر ارتداد والی آیات فائدہ دیتی ہیں۔ اسی طرح اگر جادوگر یا جنات کے دل میں رعب ڈالنا ہو تو آیات رعب کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اگر مسلط جن کی حاضر ی لگوانی ہو تو آیات حضور کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اگر جن کو ہلاک کرنا مقصود ہو تو آیات احراق کی تلاوت کی جاتی ہے۔ اگر جن کو مسلمان کرنا ہو تو اسلام پیش کرنے والی آیات تلاوت کی جاتی ہیں۔ اگر مریض کو خوف اور ڈر محسوس ہوتا ہو تو ایسی آیات کی تلاوت کی جاتی ہیں جن میں اہل ایمان کے لیے خوف یا غم کے نہ ہونے کا ذکر ہے۔

چوتھی چیز مریض کا جن ہے۔ جس طرح انسان اپنی قوت برداشت میں مختلف ہوتے ہیں یعنی کوئی پہلوان ہے اور کوئی کمزور تو اسی طرح کا معاملہ جنات کا بھی ہے۔ بعض مریضوں پر جو جنات مسلط کیے جاتے ہیں، ان کی قوت برداشت (stamina) بہت زیادہ ہوتی ہے۔ معالج ان پر ایک آدھ گھنٹہ دم کر کے تھک جاتے ہیں اور جن یہ تاثر دیتا ہے کہ اسے کچھ نہیں ہو رہا حالانکہ اسے اذیت ہو رہی ہوتی ہے لیکن وہ معالج کو دھوکا دیتا ہے۔ بہت سے معالجین نے یہ بیان کیا ہے کہ جب انہوں نے دم کا دورانیہ بڑھایا یعنی کئی گھنٹے مسلسل دم کیا تو جن کی قوت برداشت جواب دے گئی اور اس نے اقرار کیا کہ اثر تو مجھ پر شروع سے ہی ہو رہا تھا لیکن وہ میرے لیے قابل برداشت تھا۔ اس لیے جن کی قوت برداشت بھی بعض اوقات بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اگر مریض کا جن معالج کو یہ چیلنج کرے کہ مجھے کچھ نہیں ہو رہا یا کچھ نہیں ہو گا تو وہ جھوٹا ہے۔ اور اگر معالج ہمت کرے کہ اسے کئی گھنٹے مسلسل دم کر ے تو جن کا تکبر اور غرور خاک میں مل جائے گا، ان شاء اللہ ۔ جنات اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ایک مریض کے لیے معالجین کے پاس اتنا وقت نہیں ہے لہذا تھوڑی دیر برداشت کر لو اور معالج خود ہی مایوس ہو کر چھوڑ دے گا۔ اس لیے وہ برداشت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

پانچویں بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر معالج کے ہاتھ میں ہر بیماری کی شفا نہیں رکھی جیسا کہ ہر طبیب کے ہاتھ میں ہر بیماری کا علاج نہیں ہے۔ اور معالج اپنے علم اور تجربے میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ لہذا ایک خاص وقت میں اگر کسی معالج سے فائدہ نہ ہو رہا ہو تو اپنا معالج تبدیل کر کے دیکھیں۔ اس سے بھی بعض لوگوں کو فائدہ ہو جاتا ہے۔

چھٹی بات یہ ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالی انسان پر کوئی آزمائش کچھ خاص وقت تک لیے باقی رکھنا چاہتے ہیں جیسا کہ انسان جسمانی بیماری کا علاج کرواتا ہی رہتا ہے لیکن شفا نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالی کی طرف امر اور قضا نہیں ہے۔ اس لیے اگر جھاڑ پھونک کی تاثیر کے مذکورہ بالا تمام اسباب موجود ہوں اور پھر بھی دم اثر نہ کر رہا ہو تو اسے اللہ کا فیصلہ سمجھے، اللہ عزوجل سے اس آزمائش کے ٹل جانے کی دعا کرے اور صبر سے کام لے لیکن دم کو ترک نہ کرے۔ اس صورت میں صبر اور صبر کے ساتھ دعا ہی ایک ایسی صورت ہے جو آپ کو اس آزمائش سے نجات دلا سکتی ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.