کامیابی کی اُمید - رضوان اللہ خان

موٹیویشن، مثبت وائبز، شعور، ہمت، حوصلہ، اعتماد، خوداعتمادی، امید، بھروسہ، جذبہ، لگن، ناکامی، ناکامی کے بعد کوشش اور پھر کوشش سے کامیابی تک کا سفر دلچسپ ضرور ہوتا ہے لیکن اس دوران کتنی ہی ٹھوکریں ایسی ہیں کہ:
جہاں انسان کی امید دم توڑتی محسوس ہوتی ہے،
جہاں حوصلے کی سانسیں تھم سی جاتی ہیں،
جہاں آرزئوں کا گلہ دبادینے کو دل چاہتا ہے،
جہاں شعور و آگہی سے پیچھا چھڑانے کو دل کرتا ہے،
جہاں مثبت وائبز کی جگہ منفی وائبز کو ملنے لگتی ہے،
جہاں لگن سستی کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے،
جہاں جذبے کو دورے پڑتے ہیں،
جہاں اعتماد کی موت واقع ہوجاتی ہے،
اور ساتھ ہی ناکامی کا کفن اوڑھنا پڑھتا ہے.

یہ وقت بہت کٹھن ہوتا ہے، یہ ٹھوکریں بہت ظالم ہوتی ہیں، یہ لمحات کاٹنا سب سے دشوار ہوتا ہے اور پھر شیطان جاگ جاتا ہے اور مایوسی کی ہوا چلاتا ہے۔ انسان اس ہوا سے متاثر ہونے لگتا ہے، وہ اس ہوا سے محنت کے پسنیے کو خشک کرنے کی کوشش کرتا ہے اور جیسے ہی یہ پسینہ سوکھتا ہے تو ناکامیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ وجود کے کسی حصے کی طرح زندگی کے ساتھ ہی چپک سا جاتا ہے۔

مایوسی کی یہ ہوا گرم لُو میں بدلتی ہے، حبس بڑھتی ہے، دم گھٹتا ہیں، ڈپریشن، ٹینشن، فرسٹریشن اور پھر موت، موت، موت۔

لیکن اگر ان ٹھوکروں کے مقابلے میں، ان رکاوٹوں کے مقابلے میں، ان پریشانیوں کے مقابلے میں ہم جمے رہیں، کھڑے رہیں، چلتے رہیں، رینگتے رہیں تو ناکامی سے کامیابی تک کا سفر طے کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ دم ٹوڑتی آرزوئیں پھولوں کی مانند کھلتی نظر آتی ہیں، لگن کی خوشبو مہکنے لگتی ہے، جذبات کا پانی لگتا رہتا ہے، اعتماد کی جڑیں مضبوط ہوجاتی ہیں اور بالآخر کامیابی کے پھل بار بار کھانے کو ملتے ہیں۔

لیکن سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ سب کب ہوگا؟ کیسے ہوگا؟ کیوں ہوگا؟ بھلا کوئی وعدہ، کوئی حوصلہ یا کوئی اشارہ؟ جی جی ضرور صرف اللہ جی کے اس فرمان پر ڈٹے رہیں، جمے رہیں اور کھڑے رہیں۔ فرمایا:
لا تقنطوا من رحمۃ اللہ
اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہونا (سورہ الزمر: 53)

ارے واہ۔۔۔ اب کیسی مشکل بس امید کا دامن تھامے رکھیں، کیسی امید؟ خدا کی رحمت کی امید، ایسی رحمت جو اس مایوسی کی گرم لُوکو ٹھنڈی رحمت کی بارش میں بدل دے، تو پھر پریشانی کیسی؟ کہا تو ہے، ڈٹے رہیں، جمے رہیں، کھڑے رہیں، چلتے رہیں اس امید کے ساتھ کہ اللہ جی کے گھر ’’دیر ہے اندھیر نہیں۔‘‘

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */