پانامہ ایشو پر سول سوسائٹی کہاں ہے؟ محمودفیاض۔

آپ کے ملک کے وزیر اعظم کے پورے خاندان پرالزام لگ چکا۔ پانامہ لیکس میں دوسرے بڑے چور کی حیثیت میں وزیر اعظم کا نام لکھا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا میں پیوٹن اور نواز شریف کی تصویریں ساتھ ساتھ چھپتی رہیں۔

ملک میں احتساب کی آواز اٹھی بھی تو ایک مخالف سیاسی جماعت کی طرف سے۔ تحریک انصاف اصلی اپوزیشن کے طور پر سڑکوں پر آئی جبکہ سرکاری اپوزیشن اندر کھاتے سودے بازی اور اپنے کرمنلز کو رہا کرواتی رہی۔ عمران خان نوازشریف کے خلاف ڈٹا رہا تو اس پر پھبتی (ایک خاص ایجنڈے کے تحت) کسی جا رہی ہے کہ وہ ہر صورت میں نواز شریف کو ہٹانا چاہتا ہے، اس کا ایجنڈا یک نکاتی ہے، اس لیے وہ پانامہ ایشو پر شور مچا رہا ہے۔

یاد رکھا جانے والا فیصلہ بھی آ گیا اور جے آئی ٹی بھی بن گئی۔ فیصلے نے وزیر اعظم کو چالیس فیصد مجرم، اور ساٹھ فیصد مشکوک قرار دے دیا۔ اس فیصلے کے بالواسطہ نتائج میں وزیراعظم کی ساری پارلیمانی تقریریں، بیانات اور پیش کیے گئے کاغذات جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوئے۔ صادق اور امین کی شقیں اگر کوئی صادق اور امین شخص پڑھے تو اس میں اس کو وزیر اعظم کا چہرہ ایک خائن اور کذاب کا نظر آئے گا۔ اگلے دنوں میں ساتویں ایٹمی قوت اور اسلام کے نام پر بنے ملک کے پارلیمانی سربراہ کو کرپشن کے الزامات میں تفتیشی ٹیم کا سامنا کرنا ہوگا، جس پر یار لوگ تالیاں بجا رہے ہیں کہ نواز شریف اگلے ساٹھ دن بے عزت ہوتا رہے گا اور ہم سب دیکھتے رہیں گے۔ کوئی یہ نہیں سمجھ رہا کہ اس گلوبل ویلیج دنیا میں نواز شریف نہیں، پاکستان کا وزیر اعظم کٹہرے میں کھڑا ہے اور یہ انسلٹ نوازشریف کی نہیں اس عہدے کی ہوگی، جو باقی دنیا میں ہم سب پاکستانیوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

مہذب ملکوں میں، جہاں کسی پر ذاتی حیثیت میں کوئی الزام لگ جاتا ہے تو وہ اپنے الزام کا سامنا کرنے کے لیے سرکاری عہدے سے ہٹ جاتا ہے۔ اس طرح عہدے کی توقیر بھی بچ جاتی ہے اور جزا و سزا کا فیصلہ بھی انفرادی ہو جاتا ہے۔ مگر چونکہ ہمارے یہاں ’’بڑی مشکل سے ہوتا ہےدیدہ ور پیدا‘‘، تو استعفیٰ دینے کا سوچا بھی نہیں جاتا۔ جب ہمارے ناگزیر سیاستدان اپنے بغیر ملک کو بغیر ناخدا والی کشتی سمجھتے ہیں تو مجھے وہ بندہ یاد آ جاتا ہے جس نے اپنی ملازمت کے چالیس سال محض اس لیے چھٹی نہ کی کہ کہیں اس کے باس کو یہ پتہ نہ چل جائے کہ اس کے بغیر بھی کام چل سکتا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کو ڈر یہی ہے کہ ان کے بغیر ملک چلتا رہا تو عوام کو پتہ چل جائے گا کہ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری سے زیادہ اپنی آنکھوں پر بندھی پٹی کی وجہ سے روتی رہی۔

خیر تفنن برطرف، ہمارے وزیر اعظم کا بعد از خرابی بسیار بھی مستعفی ہونے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا، اور جیسا کہ ان کا سیاسی ماضی گواہ ہے وہ اپنی جان اور اپنے خاندان کی بغیر رسیدوں والی دولت کو بچانے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ تو آثار یہی بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ہمارے وزیراعظم، وزیرخارجہ سمیت پانچ وزراء اس اسکروٹنی کا سامنا کر رہے ہوں گے، کہ یہ سارے عہدے ٹوپیوں سمیت وزیر اعظم نے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔

اب سوال صرف یہ بنتا ہے کہ ہماری سول سوسائٹی کدھر ہے۔ جب سے پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوا ہے، یہ سوال مسلسل میرے دماغ میں اودھم مچا رہا ہے۔ ہمارے استاد، طلبہ، ادیب، شاعر، سوشل ایکٹوسٹس، فنکار، وکلاء، یہ سب کدھر ہیں؟ کیا جو کچھ اب تک پانامہ کے نام پر ہو چکا ہے، وہ کافی نہیں تھا کہ یہ سب لوگ باہر سڑکوں پر آجاتے اور دنیا کو بتا دیتے کہ ہم بھی ایک مہذب قوم ہیں، اور دنیا کی ایک بہترین نوجوان اور تعلیم یافتہ آبادی رکھنے والا ملک ہیں، اور ہم باقی مہذب دنیا کی طرح کرپشن کی ذلت کو ایک لعنت سمجھتے ہیں اور ایسے کسی شخص کو اپنے ملکی معاملات کا نگران نہیں بنا سکتے جس کا نام بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسے کسی اسکینڈل میں آیا ہو، جو پورے ملک کی بدنامی کا باعث ہو۔

چلیں پانامہ میں نام آنے پر نہ سہی، جب وزیر اعظم نے پارلیمان کے تقدس کو مجروح کرتے ہوئے جھوٹے ’’یہ ہیں وہ ذرائع معزز اسپیکر‘‘ پیش کیے تھے، تب ہماری سول سوسائیٹی سڑکوں نکل آتی اور اعلان کر دیتی کہ بس جناب وزیر اعظم، ہماری سیاسی تاریخ میں بہت سی کوتاہیاں اور زیادتیاں ہوئی ہیں، مگر پارلیمان کا تقدس اس درجے میں پامال نہیں کیا گیا۔ مگر ہر طرف خاموشی اور تماشبینی کے انداز میں عمران اور نواز کا ملاکھڑا دیکھنے کی روایت پر عمل کیا گیا۔

پھر عدالتی ٹرائل شروع ہوا، لطیفے بنے، قطری خط جیسا مضحکہ خیز ثبوت پیش کیا گیا۔ تب بھی سول سوسائٹی کے نام پر کوئی بندہ سڑکوں پر نہ آیا۔ اتنی جگ ہنسائی کا نوٹس بھی نہ لیا گیا۔ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا، دو یا تین سیاسی پارٹیوں کے لوگ اور چند عدالتی و انتظامی عہدیدار اس کھیل کو کھیلتے رہے اور باقی پورا ملک محض تماشائی بن کر رہ گیا۔

آخری مرحلہ شاید فیصلے کا دن تھا، جس میں اگر وزیر اعظم کو کلین چٹ دے دی جاتی تو معاملہ اپنی موت آپ مر جاتا۔ مگر وزیر اعظم کے دیے گئے بیانات کا جھوٹ پکڑنے پر، قطری خط جیسی بوگس دستاویزات پیش کرنے پر عدالت کے کوئی ایکشن نہ لینے کے باوصف وزیر اعظم کی پوزیشن انتہائی مشکوک ہو چکی ہے۔ اور اب اگلے ساٹھ دنوں میں وزیر اعظم اپنی کابینہ کے آدھے عہدوں کے ساتھ گریڈ بائیس کے تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہوں گے اور ملکی جگ ہنسائی کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی جائے گی۔

مگر مقام حیرت یہ ہے کہ ملک میں سول سوسائٹی نام کا کوئی وجود موجود دکھائی نہیں دیتا۔ وکلاء بار کونسل کی طرف سے ایک اڑتی اڑتی خبر آئی ہے کہ وہ وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کریں گے یا پھر ان کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ میرا سوال مگر پھر بھی وہیں ہے، وکلا تحریک بھی صحیح ، مگر عدلیہ کی بحالی کے وقت جو سول سوسائٹی سڑکوں پر وکلا کے ساتھ ساتھ تھی، وہ کہاں ہے؟ اگر وہ اب بھی نہ نکلی، تو میں یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاؤں گا کہ ہم بحیثیت قوم ایک مردہ وجود بن چکے، اب ہم پر صادق حکومت کرے یا کاذب، امین حکومت کرے یا خائن، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور ہمیں اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا جب پوری دنیا میں پاکستان کا نام سن کر لوگ کہیں گے، ہاں! وہی لوگ جو اپنے کاذب اور خائن حکمرانوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ پاکستانی ہوتے ہی ایسے ہیں۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.