لوگو ! میں کام یاب ہوگیا - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

چند ماہ قبل کی بات ہے، مرکز جماعت اسلامی ہند میں کام کرنے والے اور اطراف میں رہنے والے ظہر کی نماز کے لیے مسجد کی طرف رواں دواں تھے. اسی دوران بھائی معین الدین، جو مرکز کے شعبہ مالیات میں کام کرتے ہیں، اپنے بچے کا ہاتھ پکڑے ہوئے ’اسکالر اسکول‘ کی طرف سے آ رہے تھے. بچے کی عمر چار پانچ برس ہوگی، یعنی اس نے ابھی اسکول جانا شروع کیا تھا. اس کے دوسرے ہاتھ میں رزلٹ کارڈ تھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ چند ماہ کی تعلیم کے بعد پہلی مرتبہ اسے رزلٹ ملا تھا. بچہ اتنا خوش تھا کہ اسے الفاظ میں نہیں بیان کیا جا سکتا. راستے میں جو بھی ملتا، اسے روک کر اپنا کارڈ دکھانے لگتا. اس کی زبان پر بس ایک ہی جملہ تھا: ’’میں پاس ہوگیا ہوں‘‘، اس کے باپ اسے گھر کی طرف لے جانے کے لیے اسے کھینچتے، لیکن وہ بار بار ان سے ہاتھ چھڑا کر راستے میں ملنے والے ہر شخص کو مخاطب کرتا، اسے اپنا کارڈ دکھاتا اور اپنے پاس ہونے کی خبر سناتا.

کل ترکی میں ، آئندہ کے لیے مجوّزہ صدارتی نظام کے حوالے سے ہونے والے ریفرنڈم میں، رجب طیّب اردوان کی فتح کی خبر جب سے ملی ہے، میں بھی اسی ننّھے منّے بچے کی طرح خوشی سے سرشار ہوں. یہ کسی دور دراز ملک میں کسی الیکشن یا ریفرنڈم میں، کسی پارٹی یا کسی شخص کی کامیابی نہیں ہے، بلکہ مجھے محسوس ہورہا ہے کہ یہ میری کامیابی ہے، اس لیے میں ہر شخص کو بتادینا چاہتا ہوں کہ ’’میں کامیاب ہو گیا ہوں‘‘

میں اپنی خوشی میں شریک کرنا چاہتا ہوں، اپنی بوڑھی ماں کو، جو اس وقت بسترِ مرگ پر ہیں (اللہ ان پر رحم فرمائے)، اپنی اہلیہ کو، جو اپنی بیماریوں کی وجہ سے برابر اسپتال کے چکّر لگا رہی ہیں، اپنے بچے کو، جس نے تعلیم میں انہماک کی وجہ سے اپنی دوسری سرگرمیاں کم کرلی ہیں، اپنے مہمانوں کو، جو برابر میرے یہاں آتے رہتے ہیں، اپنے ملاقاتیوں کو، جو مسلسل مجھ سے رابطہ رکھتے ہیں، اپنے دفتر والوں کو، جو میرے ہم فکر و ہم خیال ہیں. میں چاہتا ہوں کہ جو بھی میرے رابطہ میں آئے، یا جس کے پاس سے میرا گزر ہو، چاہے وہ میری طرف توجہ کرے یا نہ کرے، میری بات سننے پر آمادہ ہو یا نہ ہو، لیکن میں اسے روک کر بتاؤں کہ ترکی میں میں کامیاب ہوگیا ہوں.

یہ بھی پڑھیں:   کیا دین اسلام بازیچۂ اطفال ہے ؟ - محمد ریاض علیمی

ترکی میں خلافت عثمانیہ کا شان دار ماضی رہا ہے. وہاں کے حکم رانوں نے دنیا کے بڑے حصے پر حکومت کی ہے، لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا جب وہاں اسلام کا نام لینا جرم قرار پایا. اذان، نماز، قرآن، حجاب اور داڑھی وغیرہ پر پابندی عائد کردی گئی اور اسلام کے دیگر شعائر اور علامتوں کو کھرچ کھرچ کر مٹانے کی کوشش کی گئی، لیکن اسلام پسندوں نے ہمّت نہیں ہاری. انھوں نے نہ صرف اپنے دین و ایمان کی حفاظت کی، بلکہ اسے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتے رہے. اس کوشش میں نہ جانے کتنے لوگوں کو بدترین ایذا و تعذیب کا نشانہ بنایا گیا، کتنوں کے سر قلم کر دیے گئے اور کتنوں کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا، لیکن ان بےمثال قربانیوں کی بدولت رفتہ رفتہ تاریکی کے بادل چھٹتے گئے اور شمع اسلام کی لَو تیز سے تیز تر ہوتی گئی. شیخ سعید نورسی، عدنان مندریس اور نجم الدین اربکان تو صرف چند علامتی نام ہیں، ورنہ ترکی میں اسلام کے احیا میں بےشمار لوگوں کی قربانیاں ہیں. ان میں سے کچھ لوگ اپنے حصے کا کام پورا کرکے اللہ کے حضور پہنچ گئے اور کچھ اب بھی جدّوجہد میں لگے ہوئے ہیں، جن میں موجودہ صدرِ ترکی رجب طیّب اردوان اور ان کے رفقائے کار بھی ہیں.

معلوم نہیں کیوں؟ ترکی میں اردوان کی کامیابی مجھے اپنی کامیابی لگ رہی ہے. میری خوشی چھپائے نہیں چھپ رہی ہے. کوئی پوچھے یا نہ پوچھے، میں ہر ایک کو بتا دینا چاہتا ہوں: اسلام پسندوں کو، غیر جانب دار لوگوں کو، سیکولروں کو، ملحدوں کو، لبرلز کو، اسلام سے چِڑنے والوں کو، اسلام سے دشمنی رکھنے والوں کو، سب کو کہ میں ترکی میں کامیاب ہوگیا ہوں.

لوگو! سن لو! میں کامیاب ہوگیا ہوں.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.