نیشنل بک فاؤنڈیشن کتاب میلہ - سید متین احمد

جس طرح ’’الناس علی دین ملوکھم‘‘ کا اصول سلطنت کی سطح پر درست ہے، اسی طرح اداروں اور جماعتوں کا رخ متعین کرنے میں سرپرستوں کا کردار بھی اسی اصول پر استوار ہے. اداروں سے وابستہ افراد میں اگر نوکری کرنے کے بجائے مشنری جذبہ ہو تو ان کے مقاصد شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں ورنہ اینٹوں کی خوش نما عمارتیں کہیں بھی تعمیر ہو سکتی ہیں.

نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام کتاب میلوں کا آغاز کراچی میں ہوا تھا جس کے پیچھے ابن انشا جیسے ادیبوں کی تمنائیں کارفرما تھیں. دوسرا سال ہے اسلام آباد میں پاک چائنا سینٹر میں ‏NBF‏ کے کتاب میلے میں جانا ہوتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ اسلام آباد جیسے ثقافت کے قاتل شہر میں بھی خون زندگی رواں ہے. اس سال اس میلے میں ڈیڑھ سو سے زائد کتاب فروشوں نے سٹال لگائے ہیں. ادارہ ثقافت اسلامیہ، اقبال اکادمی، الفیصل، کتاب محل، اسلامک پبلیکیشنز، سی پی ایس پاکستان، المورد، سنگ میل اور کئی ناشرین نے کتابیں سجائی ہیں. ایسے مواقع پر لوگوں کا ازدحام دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے سماج میں کتاب دوست خواتین و حضرات کی کمی نہیں. ادارے انہیں فروغ دینے میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لیں تو یہ بڑی سطح کا کار خیر ہے.

اردو سٹالوں پر عام طور پر اب کم ہی کوئی سٹال جالب توجہ ہو پاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے ہاں کے اچھے لکھنے والوں کا اکثر کام کسی حد تک پیش نظر رہ چکا ہے، اس لیے عربی یا انگریزی کتابوں کی تلاش زیادہ رہتی ہے، تاہم عربی کتابیں ہمارے یہاں بہت کم کہیں نظر آتی ہیں. علماء بیچاروں کے پاس ظاہر ہے اتنے مالی وسائل نہیں ہوتے کہ کتابیں خرید سکیں لیکن پھر بھی احساس ہوتا ہے کہ معاشرے میں ان کی تعداد کافی زیادہ ہے، بعض دینی مدارس اچھے وسائل بھی رکھتے ہیں لیکن ہمارے یہاں ایسے مواقع پر عربی کتابوں کی ‏Supply‎‏ میں کمی آیا ‏Demand کی کمی کا نتیجہ ہے یا کوئی اور بات ہے. بظاہر جہاں اور اسباب ہیں وہیں عربی کتابوں کے مطالعے کے ذوق کی واضح کمی بھی اس کا سبب معلوم ہوتا ہے. انگریزی کتابوں کے سٹالوں پر زیادہ تر ناول اور افسانے نظر آتے ہیں لیکن مغربی دنیا میں شائع ہونے والی اعلی سطح کی فکری کتابیں (خصوصا مطالعات قرآنی، حدیث، فکر اسلامی، استشراق وغیرہ میدانوں سے متعلق ) عام طور پر ہمارے یہاں دستیاب نہیں ہوتیں. کہیں کچھ نظر بھی آ جائے تو اس طرح کے کتاب میلوں میں عمدہ ڈسکاؤنٹ ریٹ کے باوجود وہ نہایت گراں قیمت ہوتی ہیں. ایک کتاب میلے میں علامہ اقبال پر ایک انگریزی کتاب نظر آئی. قیمت دریافت کی تو ڈسکاؤنٹ کے بعد بارہ ہزار بتائی گئی. صفحات یہی چار ایک سو ہوئے ہوں گے. ظاہر ہے اس طرح کی کتاب صرف ’’دیکھی‘‘ جا سکتی ہے. ‏Amazon اور ‏Goodreads‏ وغیرہ تجارتی سائٹس پر کئی کتابیں نظر آتی ہیں لیکن انہیں صرف ’’یورپ‘‘ میں دیکھ کر ’’دل سیپارہ‘‘ ہوتا ہے. اس کتاب میلے میں مختلف کتابیں لیں. ڈاکٹر رفیع الدین کی ایک مختصر نایاب کتاب ‏The Fallacy of Marxism ‎ کا ملنا باعث شادمانی ہوا. ڈاکٹر برہان احمد فاروقی کے استاد نامور فلسفی ڈاکٹر سید ظفر الحسن کی کتابThe Philosophy : A Critique ‎ کی تلاش تھی. ایک ناشر سے جان کر خوشی ہوئی کہ اشاعت کے مرحلے میں ہے.

مولانا وحید الدین خان کی کتابوں کے سٹال پر کھڑا تھا کہ ایک آواز آئی: ’’متین صاحب کو ’تعبیر کی غلطی‘ دیجیے.‘‘‎ مڑ کر دیکھا تو کچھ فاصلے پر خورشید احمد ندیم صاحب کھڑے یہ کہتے ہوئے مسکرا رہے تھے. ان کے ساتھ غامدی صاحب کی فکر پر کچھ تو تکار بھی ہوئی.

گزشتہ سال کی طرح اب کی بار بھی یہ کتاب میلہ اپنی رونق اور کتابوں کے تنوع کے لحاظ سے کافی دل پسند معلوم ہوا. کتابوں کے لحاظ سے بہتری کی گنجائش تو بہت ہے لیکن اہل ذوق اس میں برابر دل چسپی لیتے رہیں تو امید ہے ہمارے یہاں یہ سفر خوب سے خوب تر کی طرف گامزن رہے گا.

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!