کیا جمہوریت اسلامی نظام حکومت ہے؟ محمد فہد حارث

ہمارے ایک دوست جو کہ کافی عرصہ سلفی المشرب رہنے کے بعد دو تین سال قبل ہی فکر غامدی سے منسلک ہوگئے ہیں، دوران گفتگو اس بات پر مصر تھے کہ اسلام کا اصل نظام حکومت جمہوری ہی ہے اور مسلمانوں کے اولین چار خلفاء مشاورتی اصولوں کے تحت ہی منتخب ہوئے اور قرآن کا حکم امرھم شوریٰ بینھم، جمہوریت کے اسلام کے نظام حکومت ہونے پر سب سے بڑی دلیل ہے۔

میں نے عرض کیا کہ شریعت کو اس سے قطعی بحث نہیں کہ نظام سیاسی کی ہیئت ترکیبی کیا ہوگی؟ سربراہ حکومت کیسے برسر اقتدار آئے گا اور مختلف النوع معاشروں کو اسلامی برادری کے ایک رشتے میں کیسے منسلک کیا جائے گا۔ اللہ نے مسلمانوں سے جس خلافت کا وعدہ کیا تھا، اس میں یہ نہیں بتایا کہ اس کا دستور اساسی کیا ہوگا، وہاں الفاظ ہیں ’’کما استخلف الذین من قبلھم‘‘ (جیسے ان سے پہلے لوگوں کو حکومت دی تھی)۔ دنیا میں حکومت کی جتنی اور جیسے بھی صورتیں رائج چلی آرہی ہوں گی، ویسی ہی مسلمانوں کی حکومت بھی ہوگی، فرق صرف اتنا ہوگا کہ اس حکومت کا مقصد دین برپا کرنا ہوگا اور اس کے قوانین ایسے لچکدار ہوں گے کہ دنیا کی ہر قوم ان کے تحت زندگی بسر کر سکے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب کی زندگی قبائلی تھی اور ہر قبیلہ اپنے اصول و رواج کے مطابق اپنا سردار مقرر کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سلسلہ ایسے ہی قائم رہنے دیا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو والی مقرر کر کے بھیجا ہو یا جو نمائندہ تبلیغ و اشاعت اور اجراء قوانین کی طرف سے گیا ہو، اس نے قبائل کا اندرونی نظام مختل کرنے کی کوشش کی ہو۔

مکہ کے قرب و جوار میں شخصی حکومتیں قائم تھیں، انہیں جب آپ ﷺنے دین کی دعوت دی تو صراحت کر دی کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو ان کی حثییت عرفی برقرار رہے گی اور جس سیاسی نظام کے وہ لوگ عادی ہیں، اسے توڑا نہیں جائے گا۔ چنانچہ ہر قل کو جو نامہ مبارک بھیجا، اس میں صراحت تھی کہ ’’اسلام لے آؤ، محفوظ رہو گے‘‘ (صحیح بخاری) یہاں محفوظ رہوگے کہ صرف ایک ہی معنی ہوسکتے ہیں کہ دنیا و آخرت میں زوال و عذاب سے محفوظ رہوگے، ہرقل اگر مسلمان ہوجاتا تو کیا اس کو اسلام لانے کی یہ سزا ملتی کہ اپنا تخت چھوڑ کر وہ کسی فرضی ’’شوروی و جمہوری حکومت‘‘ کا پابند ہوجاتا؟ یقیناً اس کی حکومت برقرار رہتی جیسا کہ نجاشی کی حکومت برقرار رہی۔ نجاشی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مطالبہ نہیں کیا کہ فی الحال حکومت چھوڑ دو، پھر استصواب رائے کے بعد اگر تم صدر منتخب ہوگئے تو رہوگے، ورنہ نہیں۔ اسی طرح باذان ؓ جو کسریٰ کی طرف سے یمن کے حاکم تھے، انہیں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی پیغام بھیجا تھا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں تو یمن کی حکومت پر بدستور فائز رہیں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

آج اگر امریکہ یا برطانیہ میں اسلام آجاتا ہے تو وہاں کا سیاسی نظام جمہوریت ہی ہوگا کیونکہ وہاں کا پہلے سے موجود سیاسی انفراسٹرکچر جمہوری ہے، بس زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ اس جمہوری نظام میں جو باتیں غیر اسلامی ہوں گی، ان کو نکال دیا جائے گا اور اصل سیاسی نظام اپنی جگہ رہے گا۔ اسی طرح سے اگر آج پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صحیح اسلامی نظام آتا ہے تو وہاں بھی قبائلی نظام ہی سیاسی انفرا اسٹرکچر کے طور پر رہے گا البتہ اس کی اسلامی قواعد کی روشنی میں تطہیر کر دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   ملحدین پر گراں دین کی تین توجیہات - عظیم الرحمن عثمانی

پھر یہ کہنا کہ شروع کے چاروں خلفاء جمہوری طرز پر منتخب ہوئے تو یہ ایک خلاف حقیقت بات ہے۔ ہم جب خاص تاریخ خلافت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں کسی طرح یہ معلوم نہیں ہوتا کہ نصب امام کا کوئی خاص طریقہ ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے سقیفہ بن ساعدہ میں اچانک اٹھ کر سیدنا ابوبکر ؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی، اور ان کو خلیفہ بنانے پر پہلے کوئی مشورہ نہیں کیا۔ سیدنا ابوبکرصدیق ؓ نے سیدنا عمرفاروق ؓ کو محض اپنے ذاتی اجتہاد سے خلیفہ مقرر کیا اور اس سلسلے میں کسی سے مشورہ نہیں لیا۔ سیدنا عمر ؓ نے اپنے بعد محض اپنی مرضی سے پوری امت مسلمہ میں سے صرف 6 آدمیوں کا انتخاب بغیر کسی مشورہ کے کیا۔ یہ چیز تو صاف بتاتی ہے کہ اسلام میں خلیفہ کے انتخاب کا کوئی واحد طریقہ مقرر ہی نہیں ہے۔ جمہوریت، آمریت، ملوکیت بذات خود کوئی بھی بری چیز نہیں ہے۔ یہ بری چیز اس وقت بنتی ہیں جب ان کے چلانے والے ان کے ذریعے اسلام کے اصولوں سے انحراف کرتے ہیں۔ جس حکومت میں قانون سازی کا حق سربراہ حکومت یا قوم کے نمائندوں کو ہو، ایسی حکومت خلافت نہیں، مذموم ملوکیت کہلائے گی جیسے دنیا کی اور حکومتیں ہوتی ہیں، وہ حکومت شخصی ہو، آمرانہ ہو، جمہوری ہو یا اشتراکی، اسے مذموم ملوکیت کہا جائےگا۔ اور اگر ایسی حکومت کتاب و سنت پر مبنی ہو اور وہاں قانون سازی کتاب و سنت کے تحت ہو تو وہ خلافت کہلائے گی، اگرچہ اس کی شکل کچھ ہو اور کسی زمانے میں ہو۔ مذموم ملوکیت صرف وہ حکومت کہلائے گی جو کہ کتاب و سنت پر مبنی نہ ہو، ایسی حکومت کا سربراہ خلیفہ نہیں بادشاہ کہلائے گا۔

اوپر کے مبحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر زمانے کے حساب سے جو طرز حکومت عام اور قابل قبول ہوگا، اس کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں نافذ کر دیا جائے گا۔ اب چاہے وہ جمہوریت ہو یا پھر ملوکیت۔ اگر جمہوریت میں سربراہ مملکت نواز شریف جیسا کرپٹ حکمران ہو اور آمریت میں عمر بن عبد العزیز جیسا لائق و متقی حکمران ہو تو میری نظر میں ایسی آمریت جمہوریت سے کروڑ ہا درجہ بہتر اور لائق تحسین ہوگی، اور اسی مثال کو آپ الٹا بھی کر سکتے ہیں۔ مجھے کسی بھی نظام حکومت سے کوئی مسئلہ نہیں جب تک کہ وہ اسلامی اصولوں سے نہ ٹکرائے۔ نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کے دور میں چونکہ قبائلی نظام تھا، اس لیے وہاں جمہوریت اس شکل میں رائج نہ تھی، جس شکل میں آج مغربی ممالک میں رائج ہے، اس لیے تمام خلفاء کا تقرر اس طرز پر قطعاً جمہوری نہ تھا جس طرز پر آج جمہوری تقرر ہوتے ہیں. سیدنا ابوبکر ؓ سے لے کر سیدنا معاویہ ؓ تک کا تقرر کل مسلمانوں کے مشورے یا ووٹنگ سے نہ ہوا تھا بلکہ ارباب حل و عقد کےمشورے سے ہوا تھا جو کہ آج کی جمہوریت کے قطعی منافی ہے۔ امرھم شوریٰ بینھم کا حکم استحبابی پہلو میں تو اختیار کیا جاسکتا ہے لیکن اس کو وجوبی ماننے کی کوئی دلیل قرآن و سنت میں منقول نہیں، یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے دور میں جہاں قبائلی نظام کامیابی سے چل رہا تھا، وہاں قبائلی نظام چلنے دیا اور جہاں بادشاہت تھی وہاں بادشاہت کو برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:   خدا کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

جمہوریت موجودہ شکل میں ان ملکوں کے لیے قابل قبول ہو سکتی ہے جہاں کے لوگ پولیٹیکلی و دینی ایجوکیٹڈ ہوں، پولیٹیکلی اور دینی ایجوکیٹڈ کی قید لگانے کی دو وجوہات ہیں، پولیٹکلی ایجوکیٹڈ ہونے کی بات اس لیے کی کہ اگر لوگ پولیٹکلی ایجوکیٹڈ نہ ہوں تو جمہوریت کے نام پر بغاوتیں وہی گل کھلائیں گی جو عرب اسپرنگ کے بعد عرب ملکوں میں فساد اور انارکی کی صورت میں نظر آ رہا ہے، اور دینی ایجوکیٹڈ کی قید اس لیے لگائی کہ اگر لوگ دینی ایجوکیٹڈ نہیں ہوں گے تو بعض مغربی ممالک کی طرح ہم جنس پرستی اور جسم فروشی بھی مسلمان ملکوں میں جمہوریت کی بنیاد پر حلال کر لی جائے گی۔ کس ملک میں کیا نظام حکومت ہوگا؟ اس کا فیصلہ وہاں کے حالات کے تحت ہوگا، جیسا کہ سعودی عرب میں ایک خاص خاندان حکومت کر رہا ہے اور اس ملک کے سارے شہری اس خاندان کی سربراہی میں خوش ہیں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ یہاں خواہ مخواہ میں جمہوریت لانے کے لیے جدوجہد کی جائے اور ملک میں سیاسی انارکی پھیلائی جائے۔ اصل مقصود کوئی مخصوص نظام حکومت نہیں ہے بلکہ عوام کی فلاح و بہبود ہے اور اگر ملک اسلامی ہے تو وہاں عوام کی فلاح و بہبود کے ساتھ دین برپا کرنا بھی ہے (یہ بحث بعد میں ہوگی کہ دین برپا کرنے سے کیا مراد ہے)۔ اب یہ مقاصد چاہیں جمہوریت سے حاصل ہوں یا پھر ملوکیت سے یا پھر آمریت سے۔ سو میں جمہوریت کا مخالف ہوں نہ ملوکیت کا۔ ہر نظام حکومت مباح ہے، صرف اس کا استعمال اس کو جائز و ناجائز بناتا ہے کیونکہ نظام حکومت کا تعلق چونکہ معاملات و معاشرت و عادات سے متعلق ہے اور غامدی حضرات چونکہ فقہ کے کافی شائق نظر آتے ہیں، سو انھیں فقہ کا یہ عام اصول معلوم ہی ہوگا کہ چونکہ معاملات و معاشرت و عادات میں اصل حلت کی ہوتی ہے یعنی ہر چیز ان سے متعلق حلال ہے جب تک کہ ان کا حرام ہونا ثابت نہ ہوجائے۔ اسی لیے ملوکیت، جمہوریت یا کسی بھی نظام حکومت کی ’’اصل‘‘ کو حرام کرنے کی کوئی دلیل مجھے تو قرآن و حدیث میں نہ مل سکی۔

اس لیے اس سلسلے میں میری گزارش صرف یہ ہے کہ اسلام کو کسی بھی زمانے میں چلتے نظام حکومت سے نتھی نہ کریں. یہ کام بہت سے علماء ماضی قریب میں کرتے آئے ہیں، جب سوشلزم کا بازار گرم ہوا تو اسلام کا مرغوب نظام حکومت سوشلزم بنا دیا گیا، کمیونزم نے دنیا میں پاؤں جمائے تو اسلامی نظام حکومت کمیونزم کا حامی بنا دیا گیا، جب بادشاہت کا دور دورہ تھا تو نبی ﷺ اور صحابہ ؓ کی صورت میں سب کو ایک عادل بادشاہ نظر آنے لگ گیا اور اب چونکہ جمہوری دور ہے تو اسلام جمہوریت کا دلدادہ ہوگیا۔ اسلام کوئی مخصوص نظام حکومت نہیں دیتا، اسلام میں جمہوریت کے بعض اصول بھی ملتے ہیں تو کمیونزم کی بعض جائز باتیں بھی اس کی تعلیمات میں پائی جاتی ہیں، سوشلزم کے مباح قوانین بھی اسلامی مزاج رکھتے ہیں تو داؤد اور سلیمانؑ جیسے عادل بادشاہ بھی اسلام میں گزرے ہیں۔