بچوں میں مطالعہ کی عادت کیسے پیدا کریں - حرم فارس

بچے کا ذہن ایک صاف شفاف تختی کی مانند ہوتا ہے۔ وہ کچھ سیکھ کر نہیں آتا، فطری صلاحیتیں اپنی جگہ لیکن بچہ سیکھتا وہ ہے جو آپ سکھاتے ہیں۔ اس صاف تختی پر آپ جو مرضی لکھنا چاہیں، باآسانی لکھ سکتے ہیں۔ جو عادات منتقل کرنا چاہیں، کر سکتے ہیں۔ اس لیے اگر بچوں کے مطالعے کی جانب راغب کرنا ہے تو اس کے لیے بچپن ہی میں عادات بنانی پڑیں گی۔ مطالعہ ایسی عادت ہے جو زندگی سنوار سکتی ہے۔ صحت مند مطالعہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور بچہ تو سیکھنے کے مراحل میں ہوتا ہے۔ اس عمر میں گیمز میں مصروف رہنے والے اور کتابیں پڑھنے والے بچوں میں واضح فرق دیکھا پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر والدین سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم بچوں کو مطالعے کی جانب کیسے راغب کریں؟

درحقیقت بچے کی توجہ کسی جانب دلانے سے پہلے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ بذات خود اس پر توجہ دیں۔ آپ بچے کے سامنے موبائل لے کر بیٹھیں، کال پر باتیں کریں یا میسیجنگ کریں یا نیٹ استعمال کریں اور چاہیں کہ آپ کا بچہ کتاب ہی پڑھتا رہے تو ایسا ممکن نہیں۔ یا آپ ٹیوی دیکھیں اور بچے سے مطالعے کی طلب رکھیں تو جان رکھیں کہ بچہ اس طرف لپکے گا جدھر والدین کا رحجان ہوگا۔ اگر ماں کے ہاتھ میں موبائل رہتا ہے تو بچہ موبائل کی طرف ہی ہاتھ بڑھائے گا اور اگر ماں کے ہاتھ میں کتاب ہے تو بچہ تب بھی ہاتھ بڑھائے گا لیکن کتاب کے لیے کیونکہ وہ فطرتاً متجسس ہے اور سامنے موجود چیز حاصل کرنا چاہتا ہے۔

بچوں کے ذہن میں تصورات کی ایک دنیا بستی ہے۔ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بچہ اپنے دوستوں سے، یا آپ سے، بے سر و پا باتیں کرتا ہے یا ایسے قصے کہانیوں کا ذکر کرتا ہے جن کا ہونا ناممکن ہو۔ مثلاً میرا ایک چھوٹا کزن جو تقریباً تین سال کا ہے، مجھے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہانی سنانے لگا جس میں اس کی ملاقات ایک ڈائنوسار سے ہوئی جو ان کی کار پر چڑھ گیا تھا اور بعد میں اس نے ڈائنوسار کو مار دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے قصے کہانیوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔ جنات کے بارے میں علم نہ ہونے کے باوجود ان سے ڈرتے ہیں اور جن اور پریوں کی کہانیاں بڑے غور سے سنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بابا بلھے شاہ کی نگری میں پھر خوف کے سائے - رانا ظفر اقبال

پھر اردگرد کی باتوں، یا ٹی وی، سے بچےبہت کچھ اخذ کرتے ہیں۔ جب وہ کاغذ کا جہاز بنا کر اسے ہوا میں اڑانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ بھی ان کے تجسس اور شوق ہی کو بیان کرتی ہے کہ جو چیز ان کی دسترس میں نہیں، وہ اس کی بھی ایک خود سے کہانی بناکر اسے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔اس جہاز سے کھیلتے ہوئے ان کے ذہن میں ایک پورا خاکہ ہوتا ہے کہ وہ اڑ رہا ہے، کبھی وہ جہاز کو گرا بھی دیتے ہیں اور کبھی لینڈ بھی کروا دیتے ہیں۔ یہ سب ان کے ذہن کی اختراع ہوتی ہے۔

بچوں کا یہ تجسس اور عادات انہیں مطالعے کی جانب راغب کرنے میں آپ کو بہت مدد دے سکتی ہیں۔ ذیل میں چند نکات ملاحظہ کیجیے، جن پر عمل سے ان شاء اللہ آپ خود کو کامیاب پائیں گے:

1۔ دن بھر کی مصروفیات کے بعد رات کا ایک خاص وقت بچوں کو کہانی سنانے کے لیے مخصوص کردیں۔ آپ کے ذہن میں پہلے سے ایک 'پلانٹڈ' کہانی ہونی چاہیے جو اس رات آپ نے بچوں کو سنانی ہو۔ یاد رہے کہ یہ عمل بچے کی چھوٹی عمر ہی میں شروع کیا جائے تو زیادہ مفید ہوتا ہے۔

2۔ چونکہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ ایک اچھا انسان اور مسلمان بنے اور اسے اگر مطالعے کی عادت ہو تو بھی مفید مطالعہ کرے، اس لیے آپ اپنی کہانیوں اور قصوں پر غور کریں کہ آپ جو بچے کو سنانے جا رہے ہیں، وہ کیا ہے؟ کیا وہ ایسی ہی جھوٹی باتیں اور جن پریوں کی کہانیاں ہیں یا سچی داستانیں ہیں۔ بچے اگر جن پریوں کی باتیں سننا پسند کرتے ہیں تو آپ انہیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے قصے سنا سکتے ہیں کہ وہ کس طرح جنات پر بھی حکومت کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مفلوج ذہن لوگ - حسان بن ساجد

3۔ انبیاء علیہم السلام کے قصے سنائیں، بچوں کے لیے انبیاء کے قصے بہت خوبصورت اور دلچسپ پیرائے میں لکھے گئے ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہیں کہانی بنا کر بچوں تک پہنچائیں تاکہ وہ بے شمار نیک اور بیش بہا سیرتوں سے مستفید ہو اور اس میں نیکی کا رحجان پیدا ہو۔

4۔ عام معلومات کے لیے معلوماتی کتب کا استعمال کریں جن میں بچوں کے لیے رنگوں اور اشکال کے ساتھ خوبصورت انداز میں منفرد معلومات ہوتی ہیں۔

5۔ چھوٹی چھوٹی دینی باتیں، صاف ستھری شاعری اور روز مرہ کی معاشرتی کہانیوں کے لیے بچوں کے رسالے لگوائیں۔ ان میں سے پہلے خود پڑھ کر سنائیں تاکہ بچے کو کہانی کے ساتھ ساتھ آپ کے ہاتھ میں موجود کتاب میں بھی دلچسپی پیدا ہو۔

6۔ آپ کا کہانی سنانے کا انداز ایسا ہو کہ بچہ کبھی یہ نہ کہے کہ "مجھے نہیں سننی "۔ درحقیقت بچوں کے لیے کہانیاں سننا بڑا پسندیدہ عمل ہوتا ہے اور ان سے بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں اور دوستوں کو بھی سناتے ہیں۔

7۔ بچے کو بتائیں کہ سب سے پیاری کتاب قرآن پاک ہے، اور سب سے اچھی کہانیاں اس میں ہیں۔ یوسف علیہ السلام اور اصحاب کہف سمیت کئی ایسی داستانیں ہیں جو بچے کے لیے دلچسپ ہو سکتی ہیں پھر اس کو پتہ بھی چلے گا کہ مطالعے کے لیے بہترین کتاب قرآن مجید ہے۔

8۔ بچوں کی کسی کتاب سے کوئز بھی کروائیں اور جیتنے پر انعام بھی دیں۔

کہانی سنانے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے بچے میں قصے کہانیاں سننے میں دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے اور وہ سننے کے لیے بے چین رہتا ہے۔ بار بار یاددہانی کے بعد جب آپ نہیں بھی سنا پاتے تو اس کے اندر کا تجسس اور شوق اسے خود رسالہ اٹھانے اور پڑھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہیں سے مطالعے کی بنیاد پڑتی ہے۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بچے کو اچھے اور صحت مند مطالعے کے لیے تیار کریں۔