اسلامسٹوں کے پاس آخری موقع - محمد علی

2013 کے ”انتخابات“ میں میری ذاتی خواہش تھی کہ عمران خان، نواز شریف اور اسلام کے نام پر سیاست کرنے والی سیاسی جماعتیں یعنی دیوبندی مسلک کی جمیعت علماء اسلام، اہل حدیث کی جمیعت اہل حدیث، بریلوی مسلک کی جمیعت علماء پاکستان، اور جماعت اسلامی سب آپس میں مل کر ایک اتحاد کی صورت میں سامنے آئیں تاکہ ملک کو سیکولر بنانے کی راہ میں بند باندھ سکیں، لیکن یہ جماعتیں آپس میں ہی گتھم گتھا ہوگئیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے فضل الرحمان والے دھڑے نے عمران خان پر زانی خان اور یہودی خان کے لقب چسپاں کیے جس کے نتیجے میں انصافیوں نے نت نئے ڈیزائن کی گالیاں متعارف کروا کر اپنا بھرپور ”جواب“ دیا۔ ۔سوشل میڈیا پر آئے روز جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے مجاہدین ایک دوسرے کے اکابرین کو نشانہ بناکر ”ثواب دارین“ حاصل کرتے رہے۔ ادھر بریلوی مسلک کے مجاہدین بھی کسی سے کہاں کم تھے، انھوں نے بھی سوشل میڈیا پر دیوبندی و اہل حدیث مسلک والوں کے خوب ”دانت کھٹے“ کیے۔ طارق جمیل صاحب ان مجاہدین کا بطور خاص نشانہ بنے جن کی ”مذمت نہ کرنے“ کی وجہ سے پچھلے پندرہ سال سے پاکستان حالت جنگ میں ہے۔

کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن قصہ مختصر یہ کہ دین کے نام پر بندے اکٹھے کرنے والی جماعتیں اپنے اپنے خول سے باہر نہیں نکل سکیں. اس دوران پی پی پی، ایم کیوایم، اے این پی تو سیکولر تو ہیں ہی لیکن نام نہاد اسلامی تشخص رکھنے والی سیاسی جماعتیں جیسے نون لیگ جو پاکستان کی بانی جماعت کی آل انڈیا مسلم لیگ کی ”باقیات“ ہونے کی دعویدار ہے، نے بھی خاموشی سے لبرل ہونا تسلیم کرلیا ہے۔ دوسری بڑی جماعت جس سے ملک کا اسلامی تشخص برقرار رکھنے کی توقع اس وجہ سے بندھی ہوئی تھی کہ اس کے قائد اپنی تقاریر میں ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا اعلان کرتے رہے ہیں، لیکن اس جماعت میں بھی سیکولر لبرل طبقے کا اثر و رسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اس جماعت میں شیریں مزاری صاحبہ صف اول کی لیڈر شمار ہوتی ہیں جنھوں نےچند دن پہلے توہین رسالت کے انسداد کے قانون سے متعلق اپنی ”نیک“ خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عمران خان صاحب جو اس جماعت کے روح رواں اور سربراہ ہیں، ان کی غیرمستقل مزاجی کی وجہ سےان سے کسی بھی قسم کی توقع باندھنا فضول لگتا ہے۔
یہ تو ہے صورتحال سیاسی جماعتوں کی۔ اب آتے ہیں کچھ واقعات کی طرف جن پر ملک کی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان و رہنماؤں کے رد عمل سے بہت کچھ واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستان میں ملک کے اسلامی تشخص کا مستقبل کتنا ”تابناک“ ہے۔

2015ء میں لاہور کے کسی چرچ کے باہر دہشت گردوں کے حملے میں کافی ہلاکتیں ہوئیں جس پر ”مشتعل“ ہوکر اقلیتی بلوائیوں نے ایک باریش حافظ قرآن راہگیر کو پکڑ کر پہلے تو مارا پیٹا، پھر اسے جان کنی کی حالت میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ اس انسان سوز کارروائی کی موقع پر موجود کئی لوگوں نے تصاویر اور ویڈیوز بنائیں جن سے بلوائیوں کی اکثریت کے چہرے واضح طور پر پہچانے جا رہے تھے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ابھی پچھلے ہفتے مردان یونیورسٹی میں پیش آیا جس میں یونیورسٹی کے ایک ”روشن خیال“ ترقی پسند طالب علم مشال خان کو یونیورسٹی کے ہی طلبہ اور کچھ ملازمین نے پہلے گولیاں ماریں اور پھر تب تک تشدد کا نشانہ بناتے رہے جب تک اس کی موت واقع نہ ہوگئی۔ پہلے پہل کہا گیا کہ مقتول کو توہین رسالت کے جرم میں قتل کیا گیا لیکن بعد میں نامزد مرکزی ملزم وجاہت کے بقول اسے یہ سب کرنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے مجبور کیا تھا۔ (واضح رہے کہ یونیورسٹی خان عبدالولی خان کے نام پر قائم ہے جس کی انتظامیہ کی اکثریت روشن خیال، سیکولر لبرل افراد پر مشتمل ہے)۔

کہنے کو واقعات تو دونوں ایک جیسے ہیں جس میں ایک الزام کے تحت ایک ہجوم نے اشتعال میں آکر دو آدمیوں کو قتل کردیا لیکن حکومت، میڈیا اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے آنے والا ردعمل بڑی حد تک متضاد ہے۔ اس کی وجہ بغیر کسی لگی لپٹی کے یہی ہے کہ اول الذکر واقعے میں بدنصیب آدمی ایک باریش حافظ قرآن تھا اور اس کے بہیمانہ قتل کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے کوئی لبرل سیکولر نہیں اٹھا، جبکہ مؤخر الذکر مقتول کے سر پر لال ٹوپی تھی اور وہ ”ترقی پسند“ تھا جس کے لیے موم بتیاں جلانے والوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ یہاں ایک بات ذہن نشین کرلیجیے کہ پاکستان کے مسلمان اکثریت میں ہیں، اس میں شبہ نہیں لیکن یہ اکثریت کسی کام کی تب تک نہیں جب تک ان کی آواز یکجا اور مؤثر نہ ہو۔ فی الوقت تو یہ اکثریت سمندر کی جھاگ جیسی ہے اور ہم 18 کروڑ سمندری جھاگ کے بلبلے ہیں جو تعداد میں تو 18 کروڑ ہیں لیکن کوئی وقعت نہیں رکھتے۔ ہم فرقوں، مسلکوں، قوم، زبان کے مکروہ خول کے اندر جی رہے ہیں اور ہمیں اکثر اوقات اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ہمارے ووٹ سے منتخب ہونے والے ہمیشہ سے ایک مٹھی بھر اقلیت (ملک کے سیکولر و لبرل طبقے) کو اکثریت پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ہر بیان، ہر عمل، ہر ترجیح اس مٹھی بھر اقلیت کی پسند و ناپسند کی آئینہ دار ہوتی ہے۔

میرے خیال میں پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا شاید یہ آخری موقع ہے کہ ملک کے اسلامی تشخص کی حفاظت کو سنجیدگی سے لیکر ملک کی تمام دینی اور اسلامی ترجیحات رکھنے والی سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہونے کے بجائے عملی طور پر اقدامات کریں۔ میرے ذاتی خیال میں اگر ایسا نہیں کرتے تو ان کی طبیعت صاف کرنے والا ایک اتاترک آئے گا اور ان سب کو ایسی حالت میں کان سے پکڑ کر منظر سے غائب کردے گا جب ان سب کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہوں گے۔