کینیڈا میں کیا یاد آتا ہے؟ نیرتاباں

چند دن میں کینیڈا آئے دس سال ہونے کو ہیں۔ ایک رخ سے سوچوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ چند ساعتوں میں اتنا طویل عرصہ گزر گیا۔ دوسرے رخ سے سوچوں تو لگتا ہے جیسے صدیاں بیت گئی ہوں۔ دس سال کچھ کم عرصہ نہیں لیکن کچھ چیزیں پاکستان کی ایسی ہیں جو ہم آج بھی مس کرتے ہیں۔

- امی ابو!
ظاہر ہے! امی ابو کے بغیر رہنے کی عادت تو کبھی نہیں پڑتی۔ نہ صرف امی ابو جی اور بھائی بھابھیاں، ایکسٹینڈڈ فیملی بھی، ماموں مامیاں، چاچا جی، بچہ پارٹی، سبھی! خوشی اور تکلیف میں جو ”پردیس“ والی فیلنگ آتی ہے، نہ ہی پوچھیے۔

عیدیں
کتنی ہی عیدیں اکیلے منائی ہیں لیکن عادت نہیں پڑی۔ ہر بار عید کی صبح امی ابو اور بھائیوں کو یاد کر کے آنکھیں ڈبڈبا جاتی ہیں۔ عید کی نماز سے ابو اور بھائیوں کی واپسی، عید ملنا، عیدی ملنا۔ سارا دن ایک رونق سی لگی رہتی ہے۔ اور پھر بڑی عید کے بعد جو بار بی کیوز کا سلسلہ چلتا ہے۔۔۔ واللہ عید کا مزہ پاکستان میں ہی ہے۔ سالہا سال گزارنے کے بعد بھی یہاں کی عید پھیکی سی، پرائی سی لگتی ہے۔

اذان کی آواز
پاکستان جا کر ایک بہت بڑی ٹریٹ قریبی مسجد سے آنے والی آذان کی آواز ہے اور اس کا ”لائیو“ جواب دینا، اس کے فوراً بعد دعا مانگنے والا مرحلہ۔۔۔

شادیوں کی رونق۔
چاہے میں اپنے دل کو کتنا بھی سمجھا لوں کہ یہ سب خرافات ہے، اسراف ہے، لیکن حقیقت بہرحال یہی ہے کہ دس دن پہلے سے ہی جو رونق پاکستان میں قریبی شادیوں پر لگتی ہے، اس کی کیا ہی بات ہے۔ تیاری کے مراحل، بھابی آپ کے فلاں بندے میرے ڈریس کے ساتھ میچ ہوتے ہیں، شام کے لیے ادھار دیں، امی آپ کا وہ والا دوپٹہ چاہیے۔ تم میرے بال سٹریٹن کر دو، میں تمہارا آئی میک اپ کر دوں۔ اور گیدرنگ کے بعد پھر کزنز کے جگ راتے، پرانی بےتکی باتوں اور ”کارناموں“ کو یاد کر کے بےتحاشا ہنسنا، آدھی رات میں آوارہ گردی پر نکلنا، کسی کافی شاپ پر جا کر کولڈ کافی پینا، یا لیمن سوڈا! اگر اس سے بھی زیادہ رات ہو چکی ہو تو کسی پٹرول پمپ سے ہی آئس کریم لے لینا۔ نہ ختم ہونے والی باتیں، شرارتیں۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   قومیانے سے نجکاری کی سعی و جہد تک - حبیب الرحمن

بارش کی خوشبو۔
ہمارے یہاں ہر وقت ہی بادل اور بارش رہتی ہے، اتنی کہ ہم تنگ آ جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان جا کر گھٹا ٹوپ بادل، رم جھم بارش کی آواز، اس کی خوشبو، بارش میں واک کرنے کا جو لطف ہے، وہ جدا ہی ہے۔

سردیوں کی دھوپ سیکنا۔
سردی کی نرم دھوپ میں سب کا ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنا، ساتھ میں مالٹوں، ڈرائے فروٹس کے ساتھ بھی پورا پورا انصاف۔ لکھتے لکھتے ایک لمحے میں کتنا ہی کچھ یاد آ گیا ہے۔۔۔

ہر نکڑ سے حلال کھانا ملنا۔
امی کے ہاتھ کے کھانوں کی کمی تو اپنی جگہ، آرام سے حلال کھانا دستیاب نہ ہونا بھی ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی بڑی یاد آتی ہے۔ سستے سے سستا اور مہنگے سے مہنگا ریسٹورینٹ، اور سب حلال!

پھل اور ٹھیلوں سے ملنے والی گندی مندی لیکن مزیدار چیزیں۔
سردیوں میں سینکڑوں کے حساب سے کینو، اور گرمیوں میں پیٹیاں بھر بھر کے آم! ہائے! کیا دن تھے۔ اور وہ ذائقہ! نہ صرف چونسا آم اور کینو، بلکہ قندھاری انار اور سندرخانی انگور بھی۔ پھر وہ ریت والی چھلی، بھنے مکئی کے دانے،گول گپے، پاپڑ، گولہ گنڈا۔۔۔ واہ! اور آہ!

موتیے کے پھول۔
موتیا میرا پسندیدہ پھول ہے لیکن یہاں شاید موسم کی وجہ ہو کہ ملتا نہیں۔ بہت یاد آتی ہےوہ مسحورکن میٹھی پیاری سی خوشبو۔ اور موتیے کے پھول کے گجرے۔ ان کو پہننے سے کلائی جکڑی سی جاتی اور پھول بھی جلدی کملا جاتے ہیں لیکن پھر بھی موتیے کے گجروں کی کیا ہی بات ہے۔

لان کے پرنٹ۔
ان کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے؟ حسین رنگوں اور دیدہ زیب ڈیزائینز والے بڑے بڑے لہراتے ہوئے دوپٹے۔ انسان کے لیے چناؤ ہی مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا لیں اور کون سا چھوڑیں۔

ایک پورا عشرہ گزر چلا! کینیڈا اب میرا سیکنڈ ہوم ہے، مجھے بہت اچھا بھی لگتا ہے، لیکن یہ فرسٹ ہوم کبھی نہیں ہو سکتا۔ پاکستان تو پھر پاکستان ہے ناں! اپنی زبان، اپنا لباس، اپنے کھانے، اپنے لوگ۔ سب آج بھی یاد آتے ہیں۔

Comments

نیر تاباں

نیر تاباں

نیّر تاباں ایک سلجھی ہوئی کالم نگار ہیں - ان کے مضامین دعوتِ فکر و احتساب دیتے ہیں- بچّوں کی نفسیات اور خواتین کے متعلق ان موضوعات پر جن پہ مرد قلمکاروں کی گرفت کمزور ہو، نیّر انھیں بہت عمدگی سے پیش کرسکتی ہیں- معاشرتی اصلاح براستہ مذہب ان کی تحریر کا نمایاں جز ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.