ڈاکٹر مبارک علی کا بیمار ذہن - سجاد میر

اس شخص سے تو خیر کی توقع کرنا ہی عبث ہے۔ ایسی سڑاند زدہ اور متعفن سوچ رکھنے والے لوگ کم ہی ملیں گے، مل جائیں گے مگر اس طرح علمیت طاری کر کے فروتنی سے دھونس جماتے دکھائی نہیں دیں گے۔

مبارک علی کو میں نے عقل کی بات کرتے کبھی نہیں پایا۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ خدا ہر غبی اور کودن شخص کو بھی پیروکار دے دیتا ہے۔ مجھے حیرانی ہوتی ہے جب کچھ لوگ ان ذاتِ شریف کو مؤرخ یا مفکر سمجھتے ہیں۔ مجھے تو وہ ایک پروپیگنڈسٹ سے زیادہ دکھائی نہیں دیتا جسے ہر غلیظ اور ٹیڑھی بات کو علمی قرار دینے کا منصب سونپا گیا ہے۔ کل ڈاکٹر صفدر محمود نے یاد دلایا کہ ایک بار میں یعنی اس خاکسار نے ڈاکٹر صاحب اور اس نام نہاد مؤرخ کو ایک ٹی وی پروگرام میں اکٹھے مدعو کر لیا تھا۔ ان صاحب نے علمی بقراطیت دکھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں قرآن سے اوپر اٹھ کر بھی سوچنا چاہیے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے گزارش کی کہ ہم تو کسی اور کام کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، یہ ایک نیا ”پواڑہ“ ڈال بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو میرا یہ پنجابی اظہار آج بھی یاد تھا۔ مغرب میں ہوتے تو میں شاید اسے بھی ایک خوبصورت نام دے دیتے، مثلاً Post Truth ،ایک نیا لفظ ملا ہے۔ مابعد صداقت، یعنی سچائی تو مثلاً طے ہے کہ بائبل میں ہے، اب اس کو مان کر جو چاہے کرتے رہو۔ میرے پاس ایسا کوئی سہارا نہ تھا، اس لیے پنجابی کا آسرا لیا۔

وہ کئی دن سے ایک نئی بحث میں مبتلا ہیں۔ برادرم مجیب شامی، ڈاکٹر صفدر محمود، منیر احمد منیر اور عامر منیر زاہد ان کی خاصی علمی ٹھکائی کر چکے ہیں۔ کل عزیز محترم حامد میر نے فون کیا۔ انہوں نے اس پر کالم لکھا تھا۔ اب ان مبارک علی کو ڈاکٹر صفدر محمود کے روبرو کرنا چاہتے تھے۔ انہیں کسی نے بتایا کہ میں یہ کام پہلے کر چکا ہوں، مگر وہ تو بہت پرانی بات تھی۔ وہ موجودہ بحث پر چاہتے ہیں۔ مبارک علی کا حال یہ ہے کہ جب ان کی ٹھکائی ہونے لگتی ہے تو ایک عالمانہ رعونت طاری کر کے کہنے لگتے ہیں کہ اسی خاطر میں ان بحثوں میں آتا نہیں۔ دوچار ماہ پہلے لمز (LUMS) یونیورسٹی میں اعتزاز احسن اور مبارک علی کے ساتھ مجھے بھی ایک گفتگو کے لیے بلایا گیا۔ وہاں بھی فرمانے لگے کہ میں بحثوں میں آتا نہیں، یہ تو یونیورسٹی سمجھ کر آ گیا ہوں۔ ایک طویل عرصہ میں ان کے بارے میں احتیاط کرتا رہا کہ چلیے دشمن کے سردار کو بھی برا نہ کہو، مبادا وہ تمہارے قائدین پر کیچڑ اچھالیں۔ پر کیا کریں آخر بندہ بشر ہوں۔ ان لوگوں کی زبانیں تھوتھنیوں میں رکنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ کوئی سڑی چیز کسی گندگی کے ڈھیر سے مل جائے، اٹھا کر پیش کر دیتے ہیں۔

آج کل یہ مقدمہ لے کر آئے ہوئے ہیں کہ 40 کی قرارداد پاکستان انگریز نے مسٹر ظفراللہ خاں سے لکھوا کر قائداعظم کو تھما دی تھی۔ کوئی تیس برس سے زیادہ ہونے کو آیا جب کسی ولی خاں نے یہ نکتہ اٹھایا تھا۔ مسٹر ظفراللہ اس وقت حیات تھے۔ منیر احمد منیر نے وارث میر صاحب کا دامن تھاما اور ان کے پاس جا پہنچے۔ ظفراللہ خان نے اس بات کی قطعاً نفی کر دی اور پس منظر بھی بتا دیا۔ انہیں یہ اگلا ہوا نوالہ کسی گندگی کے ڈھیر سے دوبارہ مل گیا ہے۔ یہ اسے اٹھا کر لے آئے اور اسے خوان نعمت قرار دے کر دستر خواں کی زینت بنانا چاہتے ہیں۔ سبھی نے اپنی بساط کے مطابق اس کا جواب دیا ہے۔ جواب میں وہ فرماتے ہیں اب تو یہ بات انٹرنیٹ پر آ گئی ہے۔ اس سے بندر اور شیر کا وہ لطیفہ یاد آیا کہ اب تو یہ خبر اخبار میں آ گئی ہے۔ شامی صاحب نے درست کہا کہ جس شخص کی علمیت کا یہ معیار ہو کہ وہ انٹرنیٹ کو اپنی تحقیق کی بنیاد بناتا ہو، اس کے علمی مقام و مرتبہ کا تو ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ مبارک علی اور اس قبیل کے بہت سے لوگ جب بھی بات کریں گے، یوں لگے گا جیسے انہیں پاکستان، اسلام اور ہماری تہذیب و ثقافت سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ کوئی حرج نہیں، آپ کو کسی بات پر اختلاف ہو‘ کوئی حرج نہیں۔ آپ کوئی ایک نکتہ بتا دیجئے،جس میں آپ مین سٹریم کے ساتھ چلتے ہوں۔ کوئی ایک بات بتا دیجئے جو آپ کو اس قوم کی اچھی لگتی ہو۔ ایسی منفی سوچ رکھنے والوں سے کوئی کیا بات کرے۔ ان کی تو ذہنی کیفیت ہی قابل رحم اور قابل توجہ ہے۔ ان پر تو نفسیاتی تجزیہ کر کے یہ بات ہو سکتی ہے کہ ان کے دماغ کی یہ ٹیڑھ کہاں سے پیدا ہوئی۔ میں فی الوقت اس طرف نہیں آنا چاہتا۔ یہ ایک پورا قبیلہ ہے جو اس طرح کی باتیں کرتا ہے۔ دین کے حوالے سے ان کی باتوں سے تو میں ازراہ احتیاط اجتناب کروں گا‘ مگر پاکستان کے بارے میں بھی عجیب عجیب نکتوں پر جھومتے ہیں۔

مثلاً۔ قرارداد پاکستان 23 مارچ کو نہیں 24 مارچ کو پاس ہوئی تھی۔ 23 مارچ کو تو پیش ہوئی تھی۔ گویا سارا قلعہ ہی مسمار ہوگیا۔ 23 مارچ کا دن منا کر آپ ثابت کرتے ہیں یہ ملک بنا ہی غلط ہے یا آپ کی تاریخ ہی غلط ہے۔ اگر کسی قوم نے قرارداد پیش کرنے کی تاریخ کو اصل قرار دیا اور پاس ہونے کے دن کو ثانوی حیثیت دی‘ تو اس سے کیا تاریخی خرابی پیدا ہو گئی۔

یا یہ کہ پاکستان 14 اگست کو بنا ہی نہ تھا، یہ تو 15اگست کو وجود میں آیا تھا۔ گویا یہ جو ہم جس پاکستان کی آزادی کا دن منارہے ہیں، وہ دن ہی غلط نہیں یہ آزادی بھی غلط ہے اور ملک بھی غلط ہے۔ حالانکہ یہ ساری بحث تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے۔ یا ایک اور لطیفہ بھی قائداعظم کی 11 اگست کی تقریر کے بارے میں گھڑا ہوا ہے کہ اسے نوکر شاہی نے سنسر کر دیا تھا۔ تھی کسی کی ہمت کہ وہ قائد کی تقریر کو سنسر کرتا۔ چلیے ایک آدھ لفظ پر جو آپ کا اصرار ہے، وہ بھی لے لیجیے، اس سے کیا معنوی تبدیلی آ گئی ذرا اتنا تو بتا دیجیے۔

ایک بار ایسا ہی مباحثہ سجایا گیا کہ تاریخ غلط پڑھائی جاتی ہے۔ میں نے ہنس کر کہا آپ اورنگزیب عالمگیر، محمود غزنوی، صلاح الدین ایوبی اور ایک آدھ شخصیت کے خلاف بولنا چاہتے ہیں۔ بس اتنا ہی ہے یا کچھ اور۔ ان لوگوں کی سوئیاں چند نکتوں پر اڑی ہوئی ہے اور فرماتے یہ ہیں کہ تاریخ غلط پڑھائی جاتی ہے۔ یہ مبارک علی کہتے ہیں ہمارا نصاب تعلیم ہی غلط ہے، اس لیے قوم پرست وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ دل چاہتا ہے ’پوچھ لوں‘ مثال کے طور پر جی ایم سید پاکستان کا نصاب تعلیم پڑھ کر قوم پرست بنے تھے۔ لمس کے مذاکرے میں یہی سوال اٹھا تھا۔ خیر، چھوڑیے، اس درفنطنی کو‘ کوئی اور کام کیجئے۔ کسی وقت فرصت ملی تو اس ذہنیت کا تجزیہ کروں گا کہ اسے کیا نفسیاتی بیماری لاحق ہے۔ ان میں کچھ تو شاید بیمار بھی نہیں، اچھے خاصے صحت مند ہیں۔ مگر ان کی صحت کاراز کچھ اور ہے۔ اس ٹولے کو ایک فہرست میں یک جا کیجیے اور پھر تجزیہ کیجئے کہ ان میں کیا قدر مشترک ہے۔ ان کے ذہنی، ثقافتی، معاشی ڈانڈے کہاں سے ملتے ہیں۔ یہ ایک الگ لائف سٹائل ہے جس کو اقتصادیات کا خون کہیں اور سے ملتا ہے۔

(پسِ نوشت)ویسے کسی کا خیال ہوگا کہ مجھے یہ کالم پاناما پر لکھنا چاہیے تھا۔ کیا خیال ہے، لکھنا چاہیے تھا؟ اب جب کہ فیصلہ سر پر ہے، عقل مندی اسی میں ہے کہ لب سی لیے جائیں۔ آج نواز شریف نے بھکی میں پاور سٹیشن کا افتتاح کیا۔ وہاں ان کی بدن بولی دیکھی، تقریر سنی، لوگوں کی گفتگووں سے لطف لیا، شہباز شریف اور گورنر رجوانہ کی گپ شپ۔ مگر ان سب پر خاموشی ہی بھلی ہے۔ اس لیے اسی کالم پر اکتفا کیجیے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • میں مبارک صاحب کی طرفداری نہیں کر رہا مگر نتقید کے لئے جو زبان آپ نے استعمال کی سڑاند اور بدبو آپ میں سے آرہی ہے ۔ شکریہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */