برین واشنگ اور بارود کا راستہ - سعدیہ قریشی

10 فروری 2017ء حیدر آباد
یہ حیدر آباد ویژن پلازہ میں واقع ایک پڑھے لکھے مڈل کلاس گھر کا منظر ہے، جس گھر کے سربراہ ہیں پروفیسر ڈاکٹر عبدالجبار لغاری جو سندھ یونیورسٹی میں کیمسٹری پڑھاتے ہیں۔ صبح ناشتے کا وقت ہے اور اُسی طرح کی افراتفری گھر میں نظر آ رہی ہے جیسے عموماً ہر پاکستانی گھرانے میں صبح کے وقت دکھائی دیتی ہے۔ گرم گرم پراٹھے، آملیٹ اور بھاپ اڑاتے چائے کے کپ کے ساتھ ناشتہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر جبار اپنی بیٹی نورین کو آواز دیتے ہیں۔ بیٹا جلدی کرو، ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ ایک دھان پان سی لڑکی کتابیں اٹھائے، ہاتھ میں سفید کوٹ تھامے، ناشتے کی میز تک آتی ہے۔ چائے کے چند گھونٹ پیتی ہے اور جلدی میں سب کو خدا حافظ کہہ کر نکلتی ہے۔ اُسے یونیورسٹی کا پوائنٹ پکڑنا ہے، پہلے ہی دیر ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر جبار اپنی لاڈلی بیٹی پر ایک شفقت بھری نگاہ ڈالتے ہیں اور اُن کے دل سے دُعائیں نکلتی ہیں۔ اس دور میں بھی دوسری لڑکیوں کے مقابل ان کی بیٹی انتہائی سادہ ہے، سادہ لباس پہنتی ہے، پانچ وقت نماز ادا کرتی ہے، سر پر دوپٹہ اوڑھتی ہے۔ وہ اُس کی اچھی صحت کی دُعائیں کرنے لگتے ہیں۔ وہ میڈیکل کے دوسرے سال کی طالبہ ہے ایم بی بی ایس کے مکمل ہونے میں تین برس ابھی اور باقی ہیں ڈاکٹر جبار کا ذہن کئی طرح کی سوچوں میں گم ہے۔ وہ گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہیں اور پھر خود بھی یونیورسٹی جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

10 فروری 2017ء کا یہ دِن ڈاکٹر عبدالجبار کے گھر میں بالکل ایک معمول کی طرح شروع ہوا تھا مگر شام تک اس معمول کے دِن میں تشویش اور پریشانی کے تاریک سائے اُس وقت پڑنا شروع ہوئے جب اُن کی لاڈلی بیٹی شام 5 بجنے کے بعد بھی گھر نہ پہنچی۔ وہ عموماً اپنے، گھر شام پانچ بجے تک پہنچتی تھی۔ کبھی کبھار دیر سویر بھی ہو جاتی۔ گھڑی نے 6 بجائے، پھر سات، تو تشویش بڑھنے لگی۔ اُس کی سہیلیوں سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ کالج سے 10 بجے ہی چلی گئی تھی۔ رات کے سائے پھیلنے لگے اور نورین لغاری کا کہیں کچھ اتا پتہ نہ تھا۔ ایک قیامت تھی جو اس شریف گھرانے پر ٹوٹ چکی تھی۔ اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ نورین کے اغواء کی ایف آئی آر درج کروائی جائے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان کی بیٹی کو کس نے کس دشمنی میں اغوا کیا، اُن کی تو کسی سے آج تک لڑائی نہیں ہوئی تھی، دشمنی تو دور کی بات ہے۔ بہرحال 10 فروری کو یہ گھرانہ ایک کڑی آزمائش سے دوچار ہوا۔ نورین لغاری کہاں گئی۔ پولیس نے کونا کونا چھان مارا، مگر کہیں کوئی اتا پتا نہ چلا۔

یہ بھی پڑھیں:   نیو ورلڈ آرڈر اور پاکستان - فائزہ فرید

14 اپریل 2017ء لاہور
14 اپریل کی درمیانی شب تمام پاکستانی ٹی وی چینلز پر ایک بریکنگ نیوز آتی ہے۔ لاہور کی پنجاب سوسائٹی کے ایک گھر سے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی گرفتاری عمل میں آئی، ان میں علی طارق سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں ابو فوجی اور ایک 22 سالہ لڑکی شامل ہے۔ پھر اس کے بعد جو اطلاعات آئیں وہ حیران کن تھیں. جائے وقوعہ سے خودکش جیکٹس، ہینڈ گرنیڈ اور بھاری مقدار میں اسلحہ پکڑا گیا۔ دہشت گردی کے اس تمام سازو سامان کے ساتھ کچھ شناختی کارڈ بھی ہاتھ لگے. ایک پر لکھا تھا نام نورین لغاری، والد کا نام ڈاکٹر عبدالجبار لغاری، طالبہ لیاقت میڈیکل کالج۔ یہ خبر حیدرآباد کے ذیشان پلازہ میں واقع ڈاکٹر عبدالجبار کے گھر میں بھی سنی گئی۔ مگر کوئی اسے ماننے کو تیار نہ تھا کہ ان کی لاڈلی نازک اندام بیٹی دہشت گردوں کے ایک انتہائی مطلوب گروہ کے ساتھ پکڑی گئی ہے۔ یاد رہے کہ ان دہشت گردوں کا تعلق داعش تنظیم کے ساتھ تھا۔

17 اپریل 2017ء
آئی ایس پی آر، ایک ویڈیو جاری کرتا ہے۔ کالے لباس میں ملبوس نورین لغاری ایک اعترافی بیان میں کہتی ہے کہ وہ 10 فروری 2017ء کو اپنی مرضی سے اپنے گھر سے لاہور کے لیے نکلی۔ علی طارق کے ساتھ اس کا رابطہ فیس بک پر ہوا، پھر اُس نے علی طارق سے نکاح کر لیا تھا۔ وہ اعتراف کرتی ہے کہ اُس نے ایسٹر کے روز چرچ پر خودکش حملہ کرنا تھا۔
اب حیدر آباد کے ویژن پلازہ کے اُس فلیٹ کے باہر تالا لگا ہے۔ ڈاکٹر عبدالجبار کا خاندان کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہو چکا ہے۔ اب ایک اور کہانی سنیے۔

12 ستمبر 2015ء لاہور
یہ جوہر ٹاؤن کے ایک خوشحال گھرانے کا منظر ہے۔ میاں بیوی اور چار خوب صورت بچے۔ گھر کا سربراہ خالد چیمہ دواؤں کا کاروبار کرتا ہے اور اُس کی اہلیہ ایک مذہبی تعلیم دینے والے کالج کی پرنسپل ہے۔ اس روز گھر میں معمول سے ہٹ کر ایکٹویٹی ہے۔ خالد اپنی بیوی سے پوچھتا ہے کہ بچے آج سکول نہیں گئے تو وہ جواب دیتی ہے کہ آج مجھے قصور ایک لیکچر دینے جانا ہے۔ بچوں کو آج میں اپنے ساتھ لے کر جاؤں گی۔ خالد مطمئن ہو جاتا ہے۔ اچھا پھر ذرا جلد لوٹ آنا۔ شام کو میرے ایک دوست اپنی فیملی کے ساتھ کھانے پر آئیں گے۔ اُس کی بیوی جواباً مسکراتی ہے۔ اُس کے پکے ہُوئے کھانوں کی خاندان بھر میں دھوم ہے۔ پھر وہ خدا حافظ کہہ کر اپنے چاروں بچوں کو ہمراہ لیے گھر سے نکل آتی ہے۔ 12 ستمبر کی شام اس گھرانے کے لیے بھی ایک قیامت کا پیغام لے کر آئی جب خالد کی بیوی اپنے چاروں بچوں سمیت گھر واپس نہ پہنچی۔ اُس نے قصور کالج رابطہ کیا تو اُنہوں نے کہا کہ آج میڈم کا یہاں کوئی لیکچر نہیں تھا اور نہ ہی وہ یہاں آئی تھیں۔ تمام ممکنہ جگہوں سے پوچھ لیا۔ کہیں سے بھی ان پانچ افراد کا سراغ نہ ملا۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے۔ خالد کے ذہن میں ایک عجیب خیال آتا مگر پھروہ اسے جھٹک دیتا۔ اُس کی بیوی کچھ عرصہ سے ایسے ہی آرگومنٹ کرتی تھی کہ سچے مسلمانوں کو جہاد کی خاطر افغانستان یا شام چلے جانا چاہیے۔ پاکستان میں رہ کر ہم گنہگار ہو رہے ہیں. یہ آرگومنٹ اُن کے درمیان ایسے ہی ہوتا اور ختم ہو جاتا۔ خالد نے ابھی تک کسی کو اپنی بیوی اور بچوں کی گمشدگی کی اطلاع نہیں کی تھی۔ اُس کا ایک بھائی بیورو کریٹ اور دوسرا ڈاکٹر تھا۔ والد بھی شہر کے نامور ڈاکٹر تھے۔ اُس کے بعد کی ساری کہانی اخبارات میں آ چکی ہے کہ کیسے لاہور کے ایک پڑھے لکھے خوشحال گھرانے سے تعلق رکھنے والی کالج پرنسپل اپنے چار بچوں کے ساتھ شام پہنچ گئی۔ وہ داعش کا حصّہ بن چکی تھی۔ اُس کے بعد کے دو سال انتہائی اذیت میں گزرے، پورا گھرانہ خصوصاً ایک طویل ٹرائل سے گزرا۔ مگر اُس کا اپنی بیوی کے اس پلان کے ساتھ کوئی تعلق ثابت نہ ہوا۔ پھر اُسے چھوڑ دیا گا۔ اس کا گھر اجڑ چکا تھا۔ اُس کی دنیا تہہ و بالا ہو چکی تھی۔ اب اس گھر میں نہ اس کے چار بچوں کی شرارتیں گونجتیں نہ کچن اُس کی بیوی کے ہاتھوں سے پکے کھانوں کی خوشبو سے مہکتا ۔ ایک ویرانی تھی اور اب اُسے اِس ویرانی میں ہی زندگی کے باقی دِن گزرنا تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   عرب اور مغربی میڈیا اور ترکی کے حالات - عالم خان

داعش میں شامل ہونے والی اِن دونوں خواتین کی کہانیوں میں ایک مماثلت یہ ہے کہ بظاہر دونوں پڑھے لکھے خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھتی تھیں۔ پھر ایسا کیا ہوا اُن کے ساتھ کہ وہ بارود سے بھرے راستے پر چل پڑیں؟ برین واشنگ کرنے والے کیسے اُن تک پہنچے؟ وہ جب خطرناک ہاتھوں میں کھیل رہی تھیں، برین واشنگ کے عمل سے گزر رہی تھیں تو ان کے خاندان کے قریبی لوگوں اور قریبی دوستوں نے اُن کی سوچ اور کردار کے اندر کوئی واضح تبدیلی محسوس کیوں نہ کی کہ انہیں اس راستے سے واپس لایا جاسکتا۔

یہ معاملہ بہت تشویش ناک ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا پر اُن کی مصروفیات کو بغور دیکھیں برین واشنگ کرنے والوں کے مذموم مقاصد کو ایسے ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے تاکہ کل کو کوئی اور نورین لغاری بارُود کے اِس راستے پر چل کر اپنا اور اپنے خاندان کا مستقبل راکھ نہ کرے۔