وارننگ - محمد عامر خاکوانی

پچھلے چار پانچ دنوں میں دو ایسے بڑے و اقعات ہوئے، جن کے اثرات ملک پر خاصے عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔ ان میں سے ایک واقعہ نے میڈیا پر بہت زیادہ کوریج بھی حاصل کی، یہ سب تھا ہی ایسا اندوہناک کہ ہر صاحب دل تفصیل جان کر دہل گیا۔ مشال خان کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا اور بعد میں لاش کی بےحرمتی کی گئی، اس کی ویڈیو اور تصاویر دیکھنا ممکن نہیں۔ اخبارات میں واقعہ کی کوریج کے ساتھ مختلف سائیڈ سٹوریز میں دو سطری خبر شائع ہوئی جو خنجر کی طرح کلیجے میں پیوست ہوگئی ۔ مشال کی والدہ نے بڑی دل سوزی سے کہا: ”میں نے اپنے بیٹے کے ہاتھ چومے، اس کی انگلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں ناں۔“ ہر صاحب اولاد اس فقرے میں چھپے حزن و ملال کے سمندر کو محسوس کر سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں ایک ایسی لہر پیدا ہوئی جس نے دو چیزیں نمایاں کر دیں۔ اس پر تو مکمل اتفاق رائے پایا جا رہا ہے کہ قانون ہاتھ میں لینے کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اگر کہیں پر توہین رسالتﷺ کا کوئی ایشو پیدا ہو تو اسے عدالت میں لایا جائے۔ مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والی کئی نامور شخصیات نے کھل کر یہ بات کہی۔ مفتی نعیم نے واضح الفاظ میں کہا کہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کے خلاف اسی قانون کے تحت مقدمہ چلانا چاہیے۔ کئی اور معروف علما نے ان کی تائید کی ہے۔ مذہبی حلقوں میں یہ ادراک موجود ہے کہ اگر ہجوم کو خود فیصلہ سنانے اور اس پر عمل درآمد کرنے کا اختیار مل گیا تو پورا معاشرہ تھل پتھل ہوجائے گا۔ جنون اور اشتعال کے ریلے سے پھر کوئی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔

دوسرا اہم احساس توہین رسالت قانون کی مخالفت کرنے والے بعض حلقوں میں پیدا ہوا ہے۔ کئی ایسے لبرل لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملا جو پہلے اس قانون کے بارے میں تحفظات رکھتے تھے، ان کا خیال تھا کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوسکتاہے۔ اس واقعے کے بعد ان سے بات ہوئی تو وہ قانون کے حق میں لگے۔ انہیں یہ احساس ہوا کہ توہین رسالت کا معاملہ ہمارے سماج کے لیے غیر معمولی حساسیت کا حامل ہے، اس حوالے سے قانون نہ ہوا اور لوگوں کو عدالتوں سے ریلیف کی امید نہ رہی تو پھر گلی گلی اسی نوعیت کا موب جسٹس (Mob Justice) نظر آئے گا۔ اگلے روز لندن میں مقیم ایک وکیل دوست انعام رانا نے اپنا آرٹیکل ان باکس کیا۔ وہ سوشل میڈیا کے معروف بلاگر ہیں، ماضی میں لیفٹ سے وابستہ رہے اور بعد میں اکثر لیفٹسٹوں کی طرح قلابازی کھا کر این جی اوز کے وظیفہ خوار نہیں بنے۔ انہوں نے کھل کر لکھا کہ پاکستان میں اس وقت توہین رسالت کے قانون کی ضرورت ہے، مگر اس کے عدالتی عمل کو تیز اور شفاف بنایا جائے۔ تین چار آئیڈیاز انہوں نے دیے کہ ان کیسز کے لیے خصوصی عدالتیں بنیں، ویڈیو ٹرائل کیا جائے، ججز اور گواہوں کے نام صیغہ راز میں ہوں، تفتیش ڈی آئی جی کے لیول کا افسر کرے اور مکمل فرانزک سپورٹ استعمال کی جائے۔ عدالت نوے دنوں کے اندر کیسز کے فیصلے سنانے کی پابند ہو۔ اپیل کی تعداد کم ہو اور سپیشل بنچ اپیل کا فیصلہ بھی نوے دن کے اندر کر دے۔ ملزم کا جرم ثابت ہونے اور اپیل رائٹ ایگزاسٹ ہوجانے پر نوے دنوں کے اندر سزا پر عمل درآمد کیا جائے۔ جھوٹے الزام لگانے والوں کو سخت سزادی جائے۔ سوشل میڈیا پرکسی کے خلاف الزام کو پھیلانے اور لوگوں کو اکسانے والوں کو بھی سزا دی جائے۔ وغیرہ وغیرہ

اصل میں اس معاملے کا حل سادہ ہے، ریاست اگر چاہے تو اس میں کچھ زیادہ الجھن نہیں۔ توہین رسالت قانون ہمارے معاشرے کے لیے لازم ہے، سماج اور عوام کی یہی خواہش ہے۔ اس میں دوسری کوئی رائے نہیں۔ جو بھی شخص توہین رسالت کا مرتکب ہو، اسے قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ جو فرد، گروہ یا تنظیم قانون اپنے ہاتھ میں لے، سختی سے اس سے نمٹا جائے اور ایسا کرنے والوں کو فوری سزائیں دی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ نہایت ضروری ہے کہ عدالتی عمل بھی تیز اور رواں ہو۔ جلد فیصلے ہوں، ان پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ عوام کا اعتماد قانون اور عدالتوں پر مستحکم ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس قانون کا ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے ساتھ نہایت سختی سے نمٹا جائے۔ جو لوگ اپنے ذاتی ایجنڈے یا مذموم ارادوں کی تکمیل کے لیے عالی جناب رسالت ماب ﷺکا مقدس نام استعمال کریں، وہ سخت ترین سزاﺅں کے مستحق ٹھہریں۔ مشال خان والا معاملہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے لیے بھی ٹیسٹ کیس ہے۔ کے پی کے پولیس کی ساکھ اچھی ہے۔ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مشال خان کے قاتلوں کو خواہ وہ کتنے ہی طاقتور یا پس پردہ ہوں، قانون کے کٹہرے میں لائے اور کیفر کردار تک پہنچائے۔ عمران خان اس حوالے سے خاصے مستعد نظر آئے ہیں، انہیں اس کیس پر مسلسل نظر رکھنا ہوگی۔

حیدرآباد کی رہائشی اور لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نورین لغاری کی لاہور سے گرفتاری بھی دور رس نتائج کی حامل ہے۔ میڈیا میں یہ زیربحث آیا، مگر اس ایشو پر خاصی گہرائی سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے تین چار پہلو اہم ہیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو کریڈٹ ملنا چاہیے کہ انہوں نے دہشت گردی کی ایک بڑی واردات کو ناکام بنا دیا اور خود کش بمبار کو جیکٹ پہننے سے پہلے ہی پکڑ لیا۔ خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ اس معاملے میں شہریوں نے اداروں کے ساتھ تعاون کیا اور اطلاعات کے مطابق اس مکان کے مکینوں کی پراسرار سرگرمی کو رپورٹ کیا گیا، جس پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر لوگ ایسا تعاون نہیں کرتے، شک ہو بھی جائے تو وہ رپورٹ کرتے ڈرتے ہیں کہ کہیں خود نہ پکڑے جائیں۔ اس واقعے سے پتہ چلا کہ یہ ٹرینڈ بدل رہا ہے اور عوام کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون میں بہتری آ رہی ہے۔ تیسرا پہلو عجلت میں خبر میڈیا کو جاری کرنے کا ہے۔ پولیس ہو یا دیگر محکمے، ان میں ایک خرابی یہ پیدا ہوئی کہ ہر معاملے کو سرعت سے میڈیا میں دے کر ہیرو بنا جائے۔ یہ نامناسب رویہ ہے۔ ہر ملک میں کچھ افراد اور ادارے ”ان سنگ“ (Unsung) ہیرو ہوتے ہیں، وہ گمنام رہتے ہیں، مگر ان کے کارناموں کے گیت گائے جاتے ہیں۔ نورین لغاری کو گرفتار کرتے ہی خبر چلا دی گئی کہ وہ دو ماہ شام رہ کر آئی ہے۔ کسی نے یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کہ کہ آخر کس طرح یہ ممکن ہے؟ شام کے حالات ایسے تو نہیں کہ کوئی لڑکی فلائٹ پکڑے اور وہاں پہنچ جائے۔ آئی ایس پی آر کے ڈی جی کو پریس کانفرنس کر کے صورتحال واضح کرنا پڑی کہ نورین کبھی شام نہیں گئی۔ ہمارا میڈیا ویسے ہی سنسنی خیز خبروں کا شائق ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بے بنیاد خبر اڑا دی گئی تھی کہ لاہور کی ایک فیملی داعش سے تعلق کی وجہ سے شام چلی گئی، بعد میں وہ بھی درست نہ نکلی۔
داعش کے حوالے سے مبالغہ آمیز خبریں زیادہ ملتی ہیں، مگر یہ خطرہ بہرحال یکسر بلاجواز نہیں۔

نورین لغاری کے معاملے نے اس کی سنگینی کو نمایاں تو کیا ہے۔ ایک لوئر مڈل کلاس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے کی بچی، جو میڈیکل کالج کی طالبہ ہے، وہ آخر کس طرح انٹرنیٹ پر داعش کے ہینڈلرز کے ہتھے چڑھ گئی؟ میڈیکل کالج کے طلبہ کا پڑھائی کا شیڈول خاصا سخت ہوتا ہے، اس کے باوجود نورین انٹرنیٹ کھنگالتے ہوئے شدت پسند فکر کو پھیلانے والوں کا شکار ہوگئی۔ انیس بیس سالہ لڑکی جو دیکھنے ہی میں معصوم اور دبو لگ رہی تھی، اس کی برین واشنگ اس ہائی لیول کی ہوئی کہ اس نے اپنا گھر چھوڑ کر اکیلے بس پر لاہور چلے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ اسے کیس سٹڈی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ مغربی دنیا میں ایسے بے شمار کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں دنیا کی بہترین یونیورسٹوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان نیٹ پر داعش کے ہینڈلرز کے ہتھے چڑھ گئے۔ ان کی برین واشنگ ایسی ہوئی کہ انہوں نے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر شام یا عراق جانے کا قصد کر لیا۔ پاکستان میں یہ واقعات ابھی زیادہ نہیں ہوئے، مگران کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دہشت گرد تنظیموں کا نیٹ ورک توڑے جانے کے بعد ان کے ایجنٹوں کا ذاتی ملاقاتوں یا دعوتی طریقوں کے ذریعے ریکروٹنگ کرنا آسان نہیں رہا۔ انٹرنیٹ، فیس بک پیجز، ٹوئٹر اور گروپ چیٹ کرنے والی بعض موبائل ایپلی کیشنز اب ان کے ہتھیار ہیں۔ ہمارے اداروں کو ان سب چیزوں پر کڑی نظر رکھنا ہوگی۔ ایسے بہت سے فیس بک پیجز، گروپ پیجز، ٹوئٹر اکاﺅنٹس موجود ہیں جوایک خاص انداز سے شد ت پسندسوچ پھیلا رہے ہیں۔ انہیں بند کرانا چاہیے۔ جو لوگ اس طرح کی فکری تحریک چلا رہے ہیں، ان کا نیٹ ورک توڑا جائے اور قومی میڈیا کے ذریعے شعور اجاگر کیا جائے۔ والدین کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ نورین لغاری کے والد یہ تسلیم کرنے سے انکاری تھے کہ ان کی بیٹی نے خود بس پر سیٹ ریزرو کرائی اور پھر لاہور چلی گئی۔ انہیں اپنی بچی پر اس قدر اعتماد تھا کہ وہ پولیس کے ثبوتوں کو بھی نہیں مان رہے تھے کہ ان کی معصوم صورت بچی نے انہیں دھوکا دیا۔ دراصل یہ اپنے بچوں پر غیر ضروری اعتماد کی شکست ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وہ بدنصیب خاندان اپنے گھر کو تالا لگا کر کسی نامعلوم جگہ پر منتقل ہوگیا ہے۔ ان کی جو جگ ہنسائی ہوئی، اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہر گھر کو ایسے ذاتی المیے سے محفوظ رکھے، مگر نورین لغاری کی گرفتاری کا واقعہ ریاست اور حکومت کے ساتھ افراد کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے۔ مشال خان کا قتل ہو یا حیدرآباد کی گھریلو بچی کا دہشت گردوں کا آلہ کار بن جانا اپنی نوعیت میں ہم سب کے لیے ایک پیشگی وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com