شعور و لاشعور کی دنیا - ملک جہانگیر اقبال

کبھی کبھار آپ کو باطل خیالات آتے ہوں گے، کبھی آپ کی سوچ میں شیطانیت بھی در آتی ہوگی اور آپ کو لگتا ہوگا جیسے آپ کا ایمان کمزور ہوگیا ہے یا آپ اپنی راہ سے بھٹک گئے ہو؟

ایسا کس لیے ہوتا ہے یا ایسی سوچ اور نا امیدی پیدا ہونے کی کیا وجوہات ہیں اس پر کچھ بات کرنی ہے ...!

میں مثال اور لاجک سے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں .

جیسے آپ ایک بھیڑ میں ہو آپ کو اپنے ایک دوست کی تلاش ہے. وہ ہزاروں کی بھیڑ میں بھی آپ کو دکھ جاتا ہے پر اگر میں آپ سے پوچھوں کہ آپ کے دوست کے ساتھ کون کھڑا تھا تو یہ آپ کو یاد نہیں ہوگا . کیوں کہ دماغ نے آپ کی آنکھوں کو آپ کے دوست کا چہرہ تلاش کرنے کا حکم دیا تھا. چونکہ آپ کی نظر کا احاطہ کافی بڑا ہوتا ہے لہٰذا ہر وہ شخص جو اس وقت وہاں موجود تھا اور آپ کی نظروں کے حصار میں تھا وہ آپ کے لاشعور (ری سائیکل بن / کوکیز) میں محفوظ ہوگیا اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کمپیوٹر کا ری سائیکل بن یا کوکیز بھلے ہی فضول اور ڈیلیٹ شدہ آئٹم کے لیے ہوتا ہے پر ہارڈ ڈسک کی میموری میں اس کا سپیس گنا جاتا ہے. اگر آپ کے پاس چالیس جی بی کی ہارڈ ڈسک ہے، اور آپ نے انتالیس جی بی ڈیٹا ڈیلیٹ کر کے ری سائیکل بن میں رکھ دیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کی ہارڈ ڈسک خالی ہو چکی ہے، آپ کے پاس اب بھی صرف ایک ہی جی بی بچا ہوگا، کیوں کہ ری سائیکل بن آپ کی ہارڈ ڈسک کا ہی حصّہ ہے. ٹھیک اسی طرح لاشعور دراصل دماغ کا ری سائیکل بن ہے جو فالتو آئٹم رکھتا ہے جسے آپ نظرانداز کر چکے ہوتے ہیں، اور بوقت ضرورت اسے ریسٹور کر کے آپ کے شعور کا حصّہ بھی بنا دیتا ہے .

بات کو تھوڑا اور واضح کرتا ہوں !

جیسے آپ خواب دیکھتے ہیں. اس وقت مکمل دماغ کی حکمرانی ہوتی ہے. خواب میں آپ نئے چہرے دیکھتے ہیں حالانکہ وہ نئے نہیں ہوتے بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنھیں آنکھیں تو دیکھتی ہیں مگر دماغ اس وقت انہیں ضروری نہیں سمجھ رہا ہوتا اور ان کا ڈیٹا لاشعور میں منتقل کر رہا ہوتا ہے اور جب خواب میں دماغ نئی شخصیتوں کو تخلیق کرتا ہے تو ان کے چہروں کو اپنے لاشعور سے لے لیتا ہے. اب جیسے آپ کے ساتھ ایسا کئی بار ہوا ہوگا کہ آپ نے دن میں کوئی واقعہ دیکھا مگر اسے اہمیت نہیں دی اور بھول گئے، لیکن آپ کو رات خواب میں وہی واقعہ نظر آیا. یا پھر آپ کوئی خواب دیکھتے ہیں اور اگلے دن راہ چلتے ہوئے اچانک کسی جگہ پر رکتے اور سوچتے ہیں کہ یہ جگہ تو کل میں نے خواب میں دیکھی تھی. تب آپ کو یہ لگتا ہے کہ شاید کوئی اشارہ مل رہا ہے جبکہ حقیقت میں آپ بہت وقت پہلے کسی تصویر یا ٹی وی پر وہ منظر دیکھ چکے ہوتے ہیں، آپ کی آنکھوں نے وہ سین کیپچر کیا ہوا ہوتا ہے ، بس اس وقت آپ کا دماغ اسے اہمیت لائق نہیں سمجھ رہا ہوتا لہٰذا وہ نظارہ (ری سائیکل بن یا کوکیز) میں منتقل ہوجاتا ہے.

یعنی ایک بات تو اس سے یہ واضح ہوتی ہے کہ آپ کا لاشعور آپ کے شعور سے بہت زیادہ طاقتور ہوتا ہے ، کیوں کہ جہاں شعور ایک وقت میں ایک ہی شے اپنی یادداشت بنا رہا ہوتا ہے وہیں ٹھیک اسی وقت لاشعور سینکڑوں واقعات کو خود میں قید کر رہا ہوتا ہے.

ٹی وی وغیرہ کو اسی لیے مسائل کی جڑ اور دجال کا سب سے طاقتور ہتھیار کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ انسان کے لاشعور میں بیک وقت بہت کچھ بھر رہا ہوتا ہے اپنی مرضی سے. آپ چینل تبدیل کرتے ہیں، اس دوران ہر قسم کا چینل چاہے وہ آپ کو پسند ہو یا نہ ہو مگر آپ کی آنکھوں کے سامنے سے گزر رہا ہوتا ہے. آپ کا لاشعور ہر شے اپنے اندر ڈالے جا رہا ہوتا ہے. اب جیسے ایک بات ہی لے لیں. پہلے اگر ڈراموں میں کوئی لڑکا کسی کا ہاتھ بھی پکڑ لیتا تو چینل فوری طور پر تبدیل کر دیتے تھے کہ یہ کیا بےحیائی ہو رہی ہے. مگر پھر آہستہ آہستہ آپ کو یہ نارمل لگنے لگتا ہے اور پھر کرتے کرتے ایسا وقت بھی آتا ہے کہ اگر لڑکا لڑکی گلے بھی مل رہے ہوں تو آپ کو وہ معیوب نہیں لگ رہا ہوتا، صرف اس لیے کیوں کہ آپ کے لاشعور میں اتنا گند بھر چکا ہے کہ آپ کی سوچ اس منظر کو اب بےحیائی نہیں سمجھ رہی ہوتی.

ٹھیک اسی طرح جب ہم کسی سے مناظرہ کرتے ہیں، کسی ملحد یا مختلف سوچ رکھنے والے سے بحث کرتے ہیں تو ہمارے لاشعور میں ملحدوں کی باتیں اور لبرلز کی روشن خیالی بھی جمع ہوتی رہتی ہے. آپ نے سنا ہوگا کہ فلانا شخص پڑھتے پڑھتے پاگل یا نفسیاتی ہوگیا؟ یا یہ بھی پڑھا ہوگا کہ ایک شخص نے اسلام کے خلاف جانے کے لیے اس کا مطالعہ کیا تاکہ اس کی بہتر مخالفت کر سکے مگر وہ مسلمان ہوگیا. نائن الیون کے بعد جب اسلام بطور دہشت کا مذہب دنیا میں جانا جانے لگا تو لوگوں نے اس کی برائی کے لیے اس کا مطالعہ کیا مگر وہ مطالعہ ان کے ایمان کا باعث بن گیا. زمانہ جاہلیت میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب قرآن کی آیات پڑھتے تھے تو قریش کانوں میں انگلیاں رکھ لیتے تھے کہ کہیں آواز کانوں میں پڑ گئی اور دماغ تک پہنچ گئی تو ہم بھی مسلمان ہوجائیں گے.

پاگل یا نفسیاتی والا معاملہ اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اپنے شعور اور لاشعور کے درمیان تمیز کرنا بھول جاتا ہے یعنی اس کی ایکچول میموری اس کی وہسٹڈ میموری پر حاوی نہیں ہو پا رہی ہوتی. وہ الٹی سیدھی خبطیوں والی باتیں کرنے لگتا ہے. اور اپنے شعور کو لاشعور کے ساتھ اس طرح جوڑتا ہے کہ اس کی باتیں بہت عجیب لگنے لگتی ہیں. پر جب شعور و لاشعور کی کسی بات کا میچ ہوجاتا ہے تو آپ بہت کمال کی علم والی بات بھی اس سے سنتے ہیں جیسا کہ آپ نے سنا ہوگا اور شاید دیکھا بھی ہو کہ باز اوقات یہ نفسیاتی مریض ایسی کمال کی بات کر جاتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے .. یہ سب اسی ’’کیمکل لوچے‘‘ کی وجہ سے ہوتا ہے.

جبکہ عقیدہ اس طرح سے تبدیل ہوتا ہے کہ جب آپ کسی مذہب کے خلاف جائیں گے تو اس کے لیے اس مذہب کا مطالعہ کرنا ہوگا جو کہ بظاہر آپ مخالفت میں کر رہے ہوں گے مگر اس کے پوائنٹس آپ کے لاشعور میں جمع ہو رہے ہوں گے اور نیند میں یا سوچ میں وہی پوائنٹ بڑھ بڑھ کر آگے آ رہے ہوں گے. اس وقت آپ کی مجبوری ہوگی کہ آپ نیوٹرل ہو کر سب پڑھو تاکہ دماغی سکون حاصل ہو کیوں کہ آپ کے شعور اور لاشعور ایک دوسرے سے بالکل متصادم ہو چکے ہیں. آپ جاگتے ہوئے کچھ اور سوچنا چاہ رہے ہوتے ہیں مگر رہ رہ کر آپ کا دماغ آپ کو مخالف باتیں بتا رہا ہوتا ہے. اب جیسے میں مسلمان ہوں اگر میرے خواب میں روز کالی ماتا آئے تو میرا پریشان ہونا لازمی امر ہے.

آپ نے سنا ہوگا کہ اچھے لوگوں کی محفل اختیار کرنا چاہیے، آپ کی محفل کا آپ کی سوچ پر بہت اثر ہوتا ہے. ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان کا دماغ جتنی بھی سوچ تخلیق کرتا ہے، وہ دراصل لاشعور کا ہی نچوڑ ہوتا ہے. جو آپ کا دماغ جانتا ہے وہ کبھی سوچ یا تخلیق نہیں ہوسکتی، ہاں اگر آپ کا دماغ لاشعور میں سے باتیں چنے تو وہ آپ کے لیے نئی ہوں گی. ٹھیک ایسے ہی جیسے میری امی جی نے میرے لیے پچھلے سال جوتے لائے مگر مجھے نہیں بتایا، اب میں کل جوتے لینے جارہا تھا تو امی جی نے جوتوں کا ڈبہ میرے سامنے رکھ دیا. اب کہنے کو تو یہ ایک سال پرانا خریدا ہوا آئٹم ہے مگر سرکار جی میرے لیے تو نیا ہے ?

قرآن پاک کا یہ وصف ہے کہ جو بھی غیر جانب دار ہو کر اسے پڑھے، یہ اس پر اپنی حقانیت کھولتا ہے اور ایک چیز اگر آپ دیکھیں کہ قرآن پاک کو ٹھہر ٹھہر اور سمجھ سمجھ کر پڑھنے کا کہا گیا ہے. جس سے یہ شعور اور لاشعور میں با یک وقت داخل ہوتا ہے آپ کے دماغ کی مرضی سے، اور جو حصّہ لاشعور میں ہو تو وہ بھی آپ کی سوچ کو تقویت ہی دیتا ہے. کیوں کہ اس میں ضائع کرنے جیسا کچھ ہے ہی نہیں ہر بار ایک الگ علم سکھاتا ہے ایک الگ روشن رہ کا پتہ دیتا ہے. اور نتیجہ دماغی سکون کی صورت میں نکلتا ہے کیوں کہ پھر دماغ کو میموری میں سے کچھ ضائع نہیں کرنا پڑ رہا ہوتا. آپ کے خواب آپ کی سوچ آپ کی حقیقت جیسی ہی ہوتی ہے. پھر آپ کو اپنے خواب بھی ’’سچے‘‘ لگنے لگتے ہیں ?

اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ پھر تو ہر پڑھنے والی کتاب کا یہی معاملہ ہونا چاہیے ..!

اب اگر آپ کم کہانی پڑھیں تو اس میں ’’اور ، یہ ، تو ، ہمم ، اوہ ، کیا‘‘ یا اس طرح کے کتنے ہی الفاظ آپ نظر انداز کر دیتے ہیں . کہانی کا مین کردار آپ کے ذہن پر ہوتا ہے باقی چھوٹی موٹی عبارتیں الفاظ دماغ لاشعور میں ڈمپ کر رہا ہوتا ہے. کوئی سائنسی کتاب پڑھیں تو اس میں بھی ہمارا بنیادی اصول مین پائنٹ پر فوکس کرنا ہوتا ہے اور اگر ایک تعریف کو ایک ہزار بار بھی پڑھو تو بھی وہ ایک ہی معنی رکھے گی جس سے اپنے حصے کی شے دماغ قبول کرتا ہے باقی ری سائیکل بن، جبکہ قرآن پاک کی یہ خوبی ہے کہ یہ ہر زمانے میں اپنا الگ مفہوم رکھتا ہے ہر زمانے میں اس کی آیات ماڈرن لگتی ہیں، ایک تو شعور اور لاشعور کا بیلنس بنا رہتا ہے اور دوسرا ہر بار نئے زاویے اور حالات میں سمجھنے کی وجہ سے دماغ اسے waste میموری میں نہیں رکھتا.

یہ سب باتیں کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ میری ایک درخوست ہے آپ سب مہینے میں تین سے چار دن فیس بک سے دور ہو کر ایسے ضرور گزاریں جس میں آپ کا رابطہ زیادہ سے زیادہ قرآن پاک سے ہو، ترجمے سے پڑھیں اور سمجھیں ایک ایک لفظ پر غور کریں. ایک تو اس سے آپ کے شعور اور لاشعور میں مثبت بیک اپ اسٹور ہوگا، ٹھیک ویسے ہی جیسے سلائی مشین میں ہم مشین کے اندر شٹل لگاتے ہیں، جس سے بظاہر تو اوپر سے سوئی سلائی کر رہی ہوتی ہے مگر سلائی کو مضبوطی نیچے لگا وہ شٹل دے رہا ہوتا ہے جس میں ہم نے ٹھیک ویسا ہی دھاگہ جمع کیا ہوتا ہے.

دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ جب شور اور لاشعور کی گتھیاں سلجھیں گی تو آپ کے پاس سوچ کا ایک وسیع ذخیرہ آجانا آپ کا شعور اگر زمین کا خشک حصّہ ہے تو آپ کا لاشعور زمین پر سمندر کی مانند ہے اور ہم جانتے ہیں سمندر والا حصّہ خشک حصّے سے پانچ سے چھ گنا زیادہ وسیع ہے. یا پھر یہ سمجھ لیں کہ ’’آئس برگ‘‘ کے بارے میں تو آپ نے سنا ہوگا؟ جس کا بہت تھوڑا سا حصّہ سمندر سے باہر ہوتا ہے جبکہ نیچے سمندر میں وہ پورے پہاڑ جتنا ہوتا ہے . اب آپ اس واضح حصے کو شعور سمجھ لیں اور اس باقی ماندہ پورے پہاڑ کو اپنا لاشعور ..

اور تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اتنا وقت جو فیس بک یا دیگر ایسی محافل جہاں آپ کے ایمان کو خطرہ ہے، وہاں کا گند اپنے لاشعور میں ہم بھر چکے ہیں اس کی صفائی ہوگی جو کہ ہم سب کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے، یہ بات یاد رکھیے گا کہ نیک کو بد بننے میں ایک لمحے کی دیر لگتی ہے. باقی کچھ غیر مسلم حضرات بھی میری پروفائل میں ہیں، ان سے بھی گزارش ہے کہ ایک بار میرے کہنے پر عمل کر کے دیکھیں، اگر فائدہ ہو تو ٹھیک اور اگر نہ ہو تو ہم پھر کوشش کر لیں گے.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com