پانامہ فیصلہ اور شریف خاندان کا مستقبل - جنید اعوان

پانامہ لیکس کا فیصلہ آگیا۔ مسلم لیگ(ن) بھی جشن منا رہی ہے اور پاکستان تحریک انصاف بھی مٹھائیاں تقسیم کر رہی ہے۔واضح طور پر وزیر اعظم نواز شریف نا اہل نہیں ہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اہل بھی نہیں رہے۔مسلم لیگی حلقوں کا گمان ہے کہ پانچ میں سے دو جج گر انہیں صادق اور امین نہیں سمجھتے، تب بھی وہ سرخرو ہیں اور ان کے مخالفین ناکام ٹھہرے ہیں۔ ٹھنڈے دل و دماغ سے اس فیصلے پر غور کیا جائے تو فاضل عدلیہ کے دو ججوں نے میاں نواز شریف کو واضح مجرم قرار دیا ہے اور تین کے نزدیک وہ ایسے ملزم ہیں جن پر سنگین نوعیت کے الزامات ہیں اور ان کے خاندانی مؤقف میں تضاد ہے۔

عدلیہ کے فیصلے کی رو سے ایف آئی اے، آئی بی، ایم آئی، آئی ایس آئی، نیب و دیگر اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جائے گی جو دو ماہ میں تمام الزامات کی تحقیق کرے گی۔ عدلیہ نے جے آئی ٹی تشکیل دے کرشریف فیملی کو ایسے سفر پر روانہ کر دیا ہے جس کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہے۔ اس کمیٹی میں پیش ہوتے ہیں تو بدنام ہوتے ہیں اور فرار ہوتےہیں تو عزت گنواتے ہیں۔ نہ جائے رفتن، نہ پائے ماندن۔ایک ایسی دلدل جس میں زور لگاتے جائیں اور دھنستے جائیں۔ کمیٹی کی سماعتوں کے دوران میں گر میڈیا، چوکوں، چوراہوں، مجلسوں، بازاروں کی گفتگو میں شریف فیملی کی عزت کا جنازہ نہ بھی نکلا تو بھی حالت نزع کی کیفیت اس پر مسلسل طاری رہے گی۔حکمران خاندان سچ بولنے کا خطرہ تو کسی صورت مول نہیں لے سکتا اور قطری خط مسترد ہونے کے بعد اب نیا جھوٹ گھڑنا بھی اتنا آسان نہیں رہا۔

بادی النظر میں ایسا ہی لگ رہا ہے کہ 19ویں یا 20ویں گریڈ کے افسران حکمران خاندان کے سامنے ڈٹ جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکیں گے اور اسی خدشے کا اظہار سابق صدر آصف علی زرداری نے کیا بھی ہے لیکن ہر ذی شعور واقف ہے کہ پاکستان میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے سول حکومت کے کس قدر تابع اور دباؤ میں ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں جب ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی شریف خاندان کی بھارت نواز پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہے، بھارت کے جارحانہ رویے کے جواب میں پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی سے اس تناؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ جلتی پر تیل کا کام ڈان لیکس نے کر دیا ہے۔یعنی اب حکومت ہر طرف سے مسائل میں گھر چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بلف کارڈ اور مولانا کا دھرنا - اعزاز سید

اس موقع پر عدلیہ نے انتہائی سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے کمیٹی تشکیل دے کر گیند ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی گود میں پھینک دی ہے۔ اب عدلیہ پر سیاسی طور پر جانبداری کا الزام بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ماضی کی تاریخ دیکھتے ہوئے یکبارگی مکمل سچ بولنے کے نتیجے میں عدلیہ کو مسلم لیگ(ن) کے بلوائیوں کی جانب سے حملے کا بھی خطرہ تھا۔ نواز شریف سیاسی شہید بن کر اپنے اقتدار کی ناکامی کا گند اپوزیشن اور عدلیہ کی قالین کے نیچے چھپا سکتے تھے لیکن اب وہ ا س قابل بھی نہیں رہے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے درست تبصرہ کیا کہ حکمران آسمان سے گرے اور کھجور میں اٹکے۔اپوزیشن کے بارہا مطالبے کے باوجود استعفیٰ نہ دے کر نواز شریف نے یہ بھی بتادیا ہے کہ وہ بے آبرو ہو کر ہی کوچے سے نکلنے پر آمادہ ہوں گے۔شریف خاندان کے اقتدار کا زوال شروع ہو چکا۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس سفر کا اختتام پاتال کی کس گہرائی میں جاکر ہوتا ہے؟