منکر حدیث کون ہے؟ عظیم الرحمن عثمانی

منکر حدیث وہ ہے جو یا تو حدیث کا مطلق انکار کر دے یا پھر وہ محض حدیث ماننے کا دکھاوا کرے اور صرف ان احادیث کو قبول کرے جو اس کی اپنی ناقص سمجھ سے مماثل ہوں. وہ حدیث کے قبول و رد میں نہ روایت کا اصول دیکھے اور نہ ہی درایت کا پاس رکھے. نہ اسماء الرجال کے فن سے اسے کوئی آگہی ہو اور نہ ہی اصول حدیث سے کوئی واقفیت. وہ نہ یہ جانچے کہ کون سی حدیث راوی سے متصل ہے اور یہ بھی نہ سمجھے کہ کون سی سنت اجتماعی طور پر پوری امت کو منتقل ہوئی ہے. اس کا معاملہ یہ ہو کہ وہ پہلے قران کی من مانی تفسیر کرے اور پھر اسی تفسیر کو قبول و رد کا معیار سمجھ کر یہ غلط فہمی پال لے کہ اس کا غلط فہم ہی درحقیقت قرآن حکیم کی منشاء ہے.
.
ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بہت سے محدثین نے مختلف حدیثوں کو رد کیا ہے تو کیا وہ سب بھی منکر حدیث نہیں ہوئے؟ یہ ایک فکری مغالطہ ہے جو حدیث کا انکار کرنے والے اصحاب کی جانب سے عوام الناس کو دیا جاتا ہے. علم کی دنیا میں ایسے اعتراضات وزن نہیں رکھتے. مثال کے طور پر امام بخاری کو بھی معاذاللہ وہ اپنے ساتھ منکرین میں، اس استدلال سے جوڑنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے بھی لاکھوں احادیث کی قبولیت سے انکار کیا تھا. یہ فرماتے ہوئے، وہ اس حقیقت سے دانستہ یا نادانستہ چشم پوشی کرتے ہیں کہ امام صاحب کا قبول و رد کا معیار خود ساختہ تفسیر پر نہ تھا بلکہ ان متفقہ تحقیقی اصولوں پر تھا جن کا اشارہ میں نے اس پوسٹ کی ابتداء میں درج کر دیا ہے. لہٰذا ان کی اس علمی تحقیق کو انکار حدیث کے فلسفے سے تشبیہہ دینا علمی بد دیانتی اور بھونڈی سازش کے سوا کچھ نہیں. مسلمانوں میں منکر حدیث ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو یا تو حدیث کا مکمل انکار کر دے یا صرف حدیث کے قبول کا ڈھونگ کرے. وہ تمام رائج تحقیقی میعارات کو بالاۓ طاق رکھ کر پہلے لغت یا الفاظ سے کھیل کر ایک خود ساختہ تفسیر ایجاد کرے اور پھر اس تفسیر کو کلام اللہ جان کر اپنی من پسند احادیث کا انتخاب کر لے.
.
ستم یہ ہے کہ اخبار احاد کو بنیاد بنا کر یہ عقلمند حدیث متواتر کا بھی انکار کردیتے ہیں. جو اپنے آپ میں قران حکیم ہی کی طرح دین کا قطعی ماخذ ہیں. اکثر کو تو احاد اور تواتر کا فرق تک نہیں معلوم. قولی یا عملی تواتر وہ ہے جو یا تو نسل در نسل بناء کسی اصولی اختلاف کے منتقل ہوا ہو یا اتنے ذرائع اور روایات سے ہم تک پہنچا ہو کہ اب اس میں شک کی معمولی گنجائش بھی نہ رہے. جیسے صلاہ، صوم وغیرہ مگر منکرین حدیث کے گروہ میں وہ لوگ بھی بکثرت نظر آتے ہیں جو چند بظاہر متنازع اخبار احاد کو بخاری و مسلم سے نکال کر تواتر کے انکار کی حماقت کرتے ہیں. پھر نماز، روزہ، حج، قربانی، معجزات، ملائکہ، جنات غرض ہر ہر دینی تعبیر کو لغت کا کھیل، کھیل کر ایسے ایسے معنی پہناتے ہیں کہ سر پکڑلیں. اس پر طرہ یہ کہ ان کے آپس میں بھی بہت سے گروہ ہیں جو 'صرف قران' سے دین کو سمجھنے کا دعویٰ تو ضرور کرتے ہیں مگر دین کی بنیادی تعبیرات میں مشرق و مغرب کا فرق رکھتے ہیں. اگر آپ کو کسی حدیث (خبر احاد) کی صحت پر اعتراض ہے تو اس کی اسناد کے حوالے سے تحقیق کریں، اگر نہیں تو صحیح اسناد والی احادیث کو بھی درایت کے اصول پر پرکھا جاسکتا ہے. اہل علم نے ہمیشہ یہ کام کیا ہے اور انہیں کسی نے منکر حدیث نہیں کہا. اس کی تازہ مثال ہمارے وقت کے مقبول ترین محدث شیخ ناصر الدین البانی کی ہے، آپ نے صحیح بخاری سمیت کئی کتب پر تحقیق کر کے کچھ روایات کو ضعیف ثابت کیا ہے اور انھیں ہر مکتب فکر کے نمائندہ علماء نے سراہا ہے. یہ تو علمی کام ہے، ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہنا چاہیے، مگر قبول و رد کے پیچھے من مانی لغوی تفسیر یا عقل پرستی کو بنیاد بنانا صریح گمراہی ہے.

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.