قانونِ توہینِ رسالت ﷺ میں ترمیم، کیوں اور کیا؟ آصف محمود

قانونِ توہینِ رسالت ﷺ میں ترمیم کا معاملہ کاش اتنا ہی سادہ ہوتا جتنا بتایا جا رہا ہے۔ امر واقع مگر یہ ہے کہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ غالب کے الفاظ مستعار لوں تو: پیامِ تعزیت پیدا ہے، اندازِ عیادت سے۔

مشعال کے قتل کی قریب قریب ہر مکتبِ فکر نے مذمت کی، اہل مذہب نے بھی۔ ابتدائی تحقیقات بتا رہی ہیں کہ یہ معاملہ بنیادی طور پر مذہبی تھا نہ اہلِ مذہب اس میں ملوث تھے۔ قانونِ توہینِ رسالت تو اس معاملے میں کہیں بروئے کار ہی نہیں آیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سماج میں تربیت کے فرسودہ نظام سے لے کر قانون کی حکمرانی کے بوسیدہ ڈھانچے پر توجہ دی جاتی لیکن مشقِ ستم قانونِ توہینِ رسالت ﷺ کو بنا لیا گیا ہے اور اس قانون کے خلاف ایک شور مچا ہے۔ یہ ویسا ہی شور ہے جیسا آغا حشر کے بارے میں لاہور کے ایک مشاعرے میں ہوا تو اقبال نے گرہ لگائی: شور ایسا ہے قصابوں کی ہو جیسے بارات۔

ان حضرات کا مطالبہ یہ ہے کہ قانونِ توہینِ رسالت ﷺ کی زد میں بےگناہ لوگ آتے ہیں، اس لیے اس میں ترمیم کی جائے اور اگر مقدمہ جھوٹا ہو تو مقدمہ قائم کرنے والے کو بھی سخت سزا دی جائے۔ یہاں دو چیزیں قابلِ غور ہیں۔ ایک ہے مقدمہ کروانا یعنی ایف آئی آر درج کرانا۔ دوسری چیز ہے اس مقدمے میں گواہی دینا۔

جہاں تک توہین رسالت ﷺ کے مقدمے میں جھوٹی گواہی دینے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں قانون نہ صرف موجود ہے بلکہ خاصا سخت قانون ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 194 کے تحت اگر کوئی فرد کسی ایسے مقدمے میں جھوٹی گواہی دیتا ہے جس مقدمے میں سزا موت ہو تو اس جھوٹی گواہی دینے والے کے لیے دو طرح کی سزا ہے۔ اگر اس جھوٹی گواہی کے نتیجے میں ملزم کو سزا نہیں ہوتی تو اس صورت میں گواہی دینے والے فرد کو یا عمر قید ہوگی یا دس سال قید بامشقت ہوگی اور دونوں صورتوں میں ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ لیکن اگر اس جھوٹی گواہی کے نتیجے میں بےگناہ کو سزا بھی ہو جاتی ہے تو جھوٹی گواہی دینے والے کے لیے دیگر سزاؤں کے ساتھ سزائے موت بھی دی جا سکے گی۔ چونکہ توہین رسالت ﷺ کے مقدمے میں بھی سزا موت ہی ہے، اس لیے اس دفعہ کا اطلاق توہین رسالت ﷺ کے مقدمے میں دی گئی جھوٹی گواہی پر بھی ہوگا۔ اس دفعہ کی موجودگی میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ توہین رسالت ﷺ کے مقدمے میں جھوٹی گواہی دے کر کسی بےگناہ کو سزا دلوانے کی کوشش کرنے والے کے خلاف قانون موجود نہیں ہے۔

تاہم یہاں معاملہ محض جھوٹی گواہی کا نہیں، ایف آئی آر کا بھی ہے۔ جھوٹی گواہی پر تو سزا موجود ہے لیکن اگر کوئی جھوٹی ایف آئی آر درج کروا دے یعنی جھوٹا الزام لگا دے تو وہاں کیا ہوگا؟ ہمارے ملک میں جھوٹی ایف آئی آر کی سزا نسبتا معمولی ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182کے تحت یہ سزا چھ ماہ تک قید یا ایک ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں یعنی قید اور جرمانہ ہیں۔ تاہم یہ واحد دفعہ نہیں ہے۔ دفعہ 211 کے مطابق اگر کوئی شخص کسی دوسرے پر ایسے جرم کے ارتکاب کاجھوٹا الزام لگا ئے جس جرم میں اسے سزائے موت یا سات سال سے زیادہ قید ہو سکتی ہو تو الزام لگانے والے شخص کو بھی سات سال تک قید ہو سکتی ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ اس معاملے میں ایف آئی آر کھڑے کھڑے درج بھی نہیں ہوتی، اور تفتیش بھی ایس پی سے کم درجے کا افسر نہیں کر سکتا۔ البتہ یہ الزام معمولی بات نہیں۔ اس لیے خود علماء کرام اس بات کے قائل ہیں کہ توہین رسالت ﷺ کا جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی سخت سزا دی جانی چاہیے۔

لیکن مسئلہ یہاں ہے کہ مذہبی طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ایک دفعہ 295C میں ترمیم کی گنجائش نکل آئی تو غیر ملکی دباؤ کے زیراثر اس قانون کی روح متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ خوف بلاوجہ بھی نہیں۔اس بات کے آثار موجود ہیں کہ ترمیم کی آڑ میں اس قانون کی روح کو بدل دینا مقصود ہے۔

سوال یہ ہے کہ اب یہ معاملہ کیسے حل ہو؟ یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ اگر حکومت کی نیت قانون کی روح بدلنا نہیں، صرف جھوٹے الزام کی سزا مقرر کرنا ہے، تو اس کا قابل عمل راستہ موجود ہے۔ اس کام کے لیے توآپ کو 295C میں کسی ترمیم کی ضرورت نہیں بلکہ آپ کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 182 اور 211 میں ترمیم کرنا ہوگی جن کا تعلق جھوٹی ایف آئی آر اور جھوٹے الزام سے ہے۔ یہاں بھی احتیاط اور نیک نیتی لازم ہے۔ جھوٹی ایف آئی آر کی سزا کا تناسب کیا ہو نا چاہیے، یہ معاملہ ہیجان کی فضامیں طے نہ کیا جائے۔ ٹھنڈے دل سے اس پر غور کیا جائے۔

یہ خدشہ بہر حال موجود ہے کہ حکومت اس وقت توہین رسالت ﷺ کے قانون کو تو ختم نہیں کر سکتی، اس لیے جھوٹی ایف آئی آر میں سزائے موت رکھ کر حکومت متبادل راستہ اختیار کرے گی، اور اس کے بعد ملزم تو ایک پالیسی کے تحت بےگناہ قرار دے دیا جائے گا جبکہ شکایت کنندہ کولٹکا دیا جائےگا تاکہ آئندہ کوئی اس جرم کی شکایت لے کر ہی سامنے نہ آئے اور عملا یہ قانون معطل ہو کر رہ جائے.

یہ تاثر اگر مضبوط ہو گیا تو سماج پر اس کے اثرات تباہ کن ہوں گے۔ رد عمل کی فضا میں لوگ سوچ سکتے ہیں کہ قانون کی مدد لینے کے لیے ایف آئی آر درج کرانے کی سزا بھی موت ہی ہونی ہے تو قانون کو ہاتھ میں ہی کیوں نہ لے لیا جائے۔ سواد اعظم اس راہ پر چل نکلے تو سماج کا انجام کیا ہوگا؟ اور یاد رہے کہ آقا ﷺ کی حرمت اور ناموس کا مسئلہ تمام مسلمانوں کا ہے۔ یہ بہت نازک مقام ہے۔ سماج کو کسی نئے الاؤ میں مت جھونکیے۔ رحم کیجیے۔
(روزنامہ 92 نیوز)

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.