شہید - اخترعلی تابش

ظفر احمد بطور انسپکٹر پولیس میں بھرتی ہوا۔ حلف تو اس نے فرض شناسی کا اٹھایا تھا لیکن اہمیت غرض شناسی کو دی یعنی سیدھے الفاظ میں بلا کا کرپٹ افسر۔ بہت کچھ حاصل کرنے کی ہوس نے صحیح اور غلط کا امتیاز ختم کردیا تھا۔ پھر جس تھانے میں وہ تعینات تھا، وہاں تو ویسے ہی کرپٹ مافیا کی چاندی تھی۔ اس کی تھانے کی حدود میں ایک محلہ تھا جسے لوگ 'لاہور کا سہراب گوٹھ' کہتے تھے۔ منشیات فروشی اور جوا بازی کا دھندا عروج پر تھا اور یہ سب ظفر کی سرپرستی میں ہو رہا تھا۔ علاقے کے شریف رہائشی پریشان تھے لیکن کون بولتا؟ سب جانتے تھے کہ یہ سب پولیس کی سرپرستی میں ہو رہا ہے اور یوں وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے گھر کے چراغوں کو منشیات کے دھوئیں میں گم ہوتا دیکھ رہے تھے۔

پھر ایک روز بستی کے ایک پڑھے لکھے نوجوان نے علم بغاوت بلند کیا۔ ایک کھلی کچہری میں میڈیا کے سامنے کرپٹ مافیا اور پولیس افسران کے خلاف کھل کر بیان دیا اور ثبوت پیش کیا۔ معاملہ اخبارات تک پہنچ گیا، انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی۔ ظفر احمد کے خلاف انکوائری ہوئی۔ وہ توقعات کے مطابق بے گناہ ثابت ہوا ، اور کیوں نہ ہو؟ آخر اوپر تک ہر افسر تک اپنا حصہ پوری "دیانت داری" سے پہنچاتا تھا۔ یہی ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ ہر برا کام پوری دیانت داری سے ہوتا ہے۔

بہرحال، ظفر احمد انکوائری میں تو صاف بچ گیا لیکن اس کی حالت زخمی سانپ کی سی تھی۔ وہ بدلہ لینا چاہتا تھا اور مخبروں کے مطابق اس نوجوان کا نام خالد تھا جو مقامی کالج میں پڑھتا تھا۔ ان کے خاندان میں والدین اور ایک بیوہ بہن بھی تھی۔

ایک روز نشے میں دھت ظفر احمد آدھی رات کو خالد کے گھر پہنچ گیا۔ مغلظات بکتے ہوئے دروازہ زور زور سے پیٹنے لگا۔ جب خالد کے باپ نے دروازہ کھولا تو وہ اندر گھس گیا۔ گھر میں شور مچ گیا جب خالد اپنے کمرے سے نکل کر باہر آیا تو دیکھا کہ ظفر اس کی بہن کو بالوں سے پگڑ کر گھسیٹ رہا ہے۔ یہ منظر دیکھتے ہی خالد آپے سے باہر ہوگیا اور ظفر کے ساتھ گتھم گتھا ہوگیا۔ اس دوران ظفر نے اپنا پستول نکالا اور اس سے پہلے کہ فائر کرتا، خالد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ پستول چھیننے کی کوششوں کے دوران اچانک ایک فائر ہوا اور جب حواس بحال ہوئے تو ظفر احمد مرا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی پولیس کو ماہر نفسیات کی ضرورت - اسعد محمد

پھر چار ڈکیتیوں اور ایک "فرض شناس" پولیس افسر کے قتل کے جرم میں عدالت عالیہ نے خالد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور ظفر احمد کو اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ دینے اور اپنی ڈیوٹی کو "ایمانداری" سے نبھانے پھر پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔ آج اس کی قبر پر کتبہ موجود ہے "ظفر احمد شہید"!