بورڈ کا فیصلہ: ۳ ہرحال میں۳ ہی مانی جائے گی- حفیظ نعمانی

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ایک ایسا معتمدادارہ تھا کہ سال میں کہیں ایک اجلاس ہوجایا کرتا تھا جس میں اس سال میں پیش آنے والے اہم واقعات پر یا مستقبل میں کسی خطرہ پر غور ہو کرآگے کامنصوبہ بنالیا جاتا تھا اور پھر ایک جلسہ عام کرکے تمام مسلمانوں کو دین اور شریعت پر عمل کرنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ اسے مسلمانوں کی بدقسمتی کہا جائیگا کہ اب سال میں صوبوں صوبوں اور شہر شہر بورڈ کے مصروف اور دینی کام کرنے والوں کوسب کام چھوڑ کر جلسے کرنے پڑے رہے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک طبقہ جس میں تعلیم یافتہ مردبھی ہیں اور جاہل ، من مانی اور خودرائی کرنے والی فیشن ایبل عورتیں اور لڑکیاں بھی وہ دوسروں کے نقش قدم پر چل پڑی ہیں۔

دو تین مہینے پہلے کی بات ہے کہ ا یک مندر میں مردوں کو ہر جگہ جانے کی اجازت تھی لیکن عورتوں کو ایک حد تک رہنے کی پابندی تھی۔نام تو معلوم نہیں کیا ہے لیکن ایک عورت جو بوڑھی نہیں جوان تھی جس کے بال لڑکوں جیسے تھے اور جینس اور اس کے اوپر ٹاپ پہنے رہتی تھی اس نے ہندو عورتوں کو ساتھ لیا اور عدالت جا کر فریاد کی کہ جب بابا کے قریب مردجاسکتے ہیں تو عورتیں کیوں نہیں؟ اور وہ ہائی کورٹ سے یہ آرڈر لے آئی کہ جہاں مرد جاسکتے ہیں وہاں عورتیں بھی جائیں گی۔ پھر اس نے ایسا جشن منایا اور عورتوں کو لے کر ایسی اچھل کود مچائی کہ سب سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
ممبئی کی چند مسلم عورتوں نے اسے ہی اپنا لیڈر بنالیا اور سمندر کے اندر حاجی علی کے مزار پر جو پابندی تھی کہ عورتیں بس یہاں تک آسکتی ہیں اس کے خلاف عدالت چلی گئیں اور اسی مندرکے مقدمہ کو نظیر بنا کر یہ آرڈر لے آئیں کہ عورتیں وہ مسلمان ہوں یا ہندو مزار کے ہر حصہ میں جاسکتی ہیں۔ اور اس کے بعد اس کی قیادت میں مسلم عورتوں کا ایک جتھا درگاہ گیا اور ہر وہ کام کیا جو مرد کرتے ہیں۔
کئی برس سے تین طلاق برابر ایک طلاق کا مطالبہ کیا جارہا ہے اچھے اچھے دین دار تعلیم یافتہ یہ مطالبہ پرسنل لا بورڈ سے کررہے ہیں کہ وہ تین طلاق کو ایک طلاق کے برابر قرار دے۔ ان کے خیال میں یہ پرسنل لا کے عالموں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ تین کو ایک کردیں۔ برس پر برس گذرگئے۔ بورڈ کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ یہ انسان کے اختیار کی چیز نہیں ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک مسلمان نے ایک ہی وقت میں تین طلاق دیدی تھی آقائے کائنات کے علم میں یہ بات آئی تو چہرۂ اقدس غصہ سے سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ ابھی تو میں دنیا میں موجود ہوں اس کے باوجود اتنی غلط حرکت کرنے کی ہمت کرلی؟ لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ طلاق نہیں ہوئی یہی بات بورڈ کی طرف سے کہی جار ہی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کو اور حضرت محمد ﷺ کو سخت ناگوار ہے اور صحابہ کرام نے بھی یہی کیا ہے لیکن اگر کوئی بد نصیب ایک وقت میں تین طلاق دے تو طلاق ہوجائے گی۔ یہ کسی کے اختیار میں نہیں ہے کہ اسے ایک کردے۔
مسلمان مردوں اورعورتوں میں ایک طبقہ ہمیشہ سے وہ بھی رہا ہے جس کونماز روزہ یا عبادت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن وہ ثابت یہ کرتا ہے کہ بس وہی مسلمان ہے۔ اسی طبقہ نے تین طلاق کے مسئلہ کو ایسے اٹھایا ہے جیسے ہر مسلمان کے گھر میں صرف طلاق ایک مسئلہ ہے۔ اس کے علاوہ سب ٹھیک ہے۔ جبکہ ہر مذہب کے مقابلہ میں سب سے کم طلاق کے واقعتاً مسلمانوں میں ہوتے ہیں۔ انتہا یہ ہے کہ مسلم خواتین پر سنل لا بورڈ بھی ایسی ہی عورتوں نے بنالیا۔ جبکہ اس کا تعلق قانون سے ہے جسے اسلام میں فقہ کہتے ہیں اور ہرمرد کو تو کیا ہرعالم کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ فتوا دے دے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ایک موکل ہوتا ہے جو مقدمہ کے ذریعہ اپنا حق لیتا ہے ایک وکیل ہوتا ہے جو جج کو سمجھاتا ہے کہ مقدمہ کیا ہے؟ اور ایک جج ہوتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ حق کس کا ہے۔ عام مسلمان کی حیثیت موکل کی ہے اور عالم کی وکیل کی جبکہ فیصلہ مفتی کو کرنا ہے کیوں کہ وہ جج ہے ہم بدنصیب مسلمانوں میں وہ عورتیں جج بن گئیں جو وکیل بھی نہیں ہیں۔ لیکن جب ہائی کورٹ یہ کہنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں کہ مذہبی معاملات میں بھی وہی فیصلہ کریں گے اور مرد عورت کو برابر کا مقام دیں گے تو دیکھئے اور کیا کیا ہوتا ہے؟
بعض جاہل آوارہ بدچلن عورتوں نے پیشہ بنا لیا ہے کہ وہ پورا ملک میکپ کرکے کالے برقع میں چہروں کی نمائش کرنے کے لیے ہر وقت کیمرے کے ذریعہ ا پنے حسن کی نمائش کرتی ہیں یا سج بن کر بال کھول کر ٹی وی چینل میں بیٹھ کر کہتی ہیں کہ قرآن شریف میں تین طلاق کہیں نہیں ہے، اور جاہلوں سے معلوم کرنیوالے اگر معلوم کریں کہ کیا قرآن میںیہ ہے کہ کس نماز میں کتنے فرض، کتنے واجب کتنی سنت مؤکدہ کتنی سنت مستحبہ اور کتنے نفل ہیں تو وہ دکھادیں گی۔ قرآن میں نکاح بھی ہے طلاق بھی ہے لیکن ولیمہ کہاں ہے؟ ختنہ اور عقیقہ کہاں ہے اور کیا قرآن پاک بھی ایسی کتاب ہے جسے صرف تلاوت کرنے اور ترجمہ پڑھنے والی سمجھ لیں کہ قرآن نے کیا کہا؟ سیکڑوں برس ہوگئے اس کی تفسیریں علماء لکھ رہے ہیں ا ور اب تک درجنوں عالموں نے تفسیریں لکھیں مگر آج بھی سلسلہ جاری ہے۔جس قرآن عظیم کا یہ فیشن کی بیٹیاں باربا ر حوالہ دے رہی ہیں اس میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ قرآن پہاڑوں پر اتارا جاتا تو تم دیکھتے کہ وہ روئی کے گالوں کی طرح اڑ رہے ہیں۔ اس کی عظمت اس کا جمال و جلال کیا ایسا ہے جس سے پوری طرح جاہل لڑکیاں کھلواڑ کریں؟
آج سیکڑوں عورتیں مودی جی کے پاس اور اب یوگی جی کے پاس جارہی ہیں کہ ہماری شریعت کو ٹھیک کردیجئے اور تین طلاق کے خلاف قانون بنادیجئے۔ وہ بے وقوف یہ سمجھتی ہیں کہ حکومت یا سپریم کورٹ کا بنایا ہوا قانون شریعت میں اصلاح کردے گا۔ ان کا مقصد تین طلاق کو ایک طلاق بنوانا نہیں ہے بلکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کو ہرانا ہے۔ وہ جاہل سمجھ رہی ہیں کہ کوئی الیکشن ہورہا ہے۔
اگر وہ دختران ا سلام ہیں تو ذرا تا ریخ اسلام پڑھیں وہ چاہے ہندی میں ہو اس میں انہیں ملے گا کہ ہمارے آقا نے کتنے عیسائی یہودی اور بت پرست اور خود پرست حکمرانوں کو خطوط لکھے تھے کہ وہ صرف اللہ کو معبود مانیں مجھے اس کا نبی اور اسلام کو سچا مذہب۔اوراس کے جواب میں کوئی پہلے اسلام لایا اور کوئی بعد میں۔ یہاں تک کہ آدھی سے زیادہ دنیا اسلام کو ماننے لگی۔ آج ہندوستان کے وزیر اعظم مودی جی کہہ رہے ہیں کہ ’’تین طلاق سے مسلم بہنیں تکلیف میں ہیں‘‘ انھوں نے بھروسہ دلایا کہ حکومت اور پارٹی ان کے ساتھ ہیں۔ اب اگر وہ بہنیں واقعی مسلم ہیں تو مودی جی بھائی سے کہیں کہ ہمیں اس کی تکلیف ہے کہ مرنے کے بعد جنت میں آپ کا ساتھ نہیں ہوگا۔ آپ اسلام قبول کرکے تین طلاق کا مسئلہ حل کریں اور ہمارے ساتھ جنت میں رہیں۔ اور ان مسلمان بہنوں کو اگر طلاق اور حلالہ سے شرم آرہی ہے تو ان کے سامنے دوسرے مذاہب بھی ہیں وہ ان میں سے کسی کو قبول کرلیں۔
اسلام مخالف عناصر اور میڈیا نے حلالہ کو مذاق بنالیا ہے۔یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جب کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو اب وہ کون ہے یہ فیصلہ کرنے والا کہ وہ کس سے شادی کرے یا شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرے؟ جو لوگ حلالہ کے ذریعہ بستربدلتے ہیں وہ اس قابل ہیں کہ ان کی گردن مار دی جائے۔رہی یہ بات کہ پھر اس سے شادی ہوجائے تو دس مرتبہ اگر ایسا ہوجانے کے بعد اور سو میں شاید دو چار بھی ایسے نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ موضوع بات کرنے کا ہے ہی نہیں۔ اب بورڈ نے اپیل کی ہے کہ جو تین طلاق ایک وقت میں دے اس کا سماجی بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اس پر عمل کرانے کے لئے مسجدوں کے ممبر کو ذریعہ بنانا چاہیے اور سماجی بائیکاٹ ایسا ہو کہ کہیں بھی اسے سہارا نہ ملے اور جس دروازہ پر جائے اس کا در نہ کھلے۔لیکن تین طلاق ہر حال میں تین طلاق ہی رہیں گی اور حکومت کی مداخلت کا کوئی اثر نہ لیا جائے اس لیے کہ مسلمان شریعت کا پابند ہے۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam