دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کمی کیسے دور ہو؟ عارف عزیز(بھوپال)

کبھی درس وتدریس کی طرح علاج ومعالجہ کا پیشہ بھی نہایت مقدس سمجھا جاتا تھا جن میں داخل ہونے والے خدمت کا جذبہ لیکر اس پیشہ کو اپناتے تھے لیکن آج کے نوجوان صرف پیسہ کمانے اور سماج میں اپنی حیثیت منوانے کے لئے مذکورہ شعبوں میں قدم رکھ رہے ہیں ، اسی وجہ سے ان کامعیار ووقار بھی متاثر ہورہا ہے، خاص طور پر ملک میں باصلاحیت ڈاکٹروں کی کمی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے ، جس کو حل کرنے کیلئے نہ تو حکومتیں سنجیدہ نظر آتی ہیں اور نہ ہی میڈیکل کونسل آف انڈیا جیسا ذمہ دار ادارہ فکر مند دکھائی دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے دیہاتی علاقوں میں صحت خدمات کی صورت حال حد درجہ خراب ہوتی جارہی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے آسام کے جورہٹ میں وزیر اعظم نے اس موضوع پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر شہری تک دواء علاج کی سہولتوں کو پہونچنا آج بھی ایک چیلنج ہے ۔ گاؤں گاؤں تک علاج کی خدمات پہونچانے کے لئے مرکزی حکومت نے ’’نیشنل رورل ہیلتھ مشن‘‘ کا آغاز کیا تھا لیکن یہ منصوبہ بھی ڈاکٹروں اور نرسوں کی کمی کے باعث کامیاب نہیں ہوسکا۔ کچھ سال قبل جاری ہونے والی ’’پلاننگ کمیشن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ملک کے چھ لاکھ دیہات علاج ومعالجہ کی سہولتوں کے فقدان کے شکار ہیں۔ اس رپورٹ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں میں ۴۹۰،۲۱ ڈاکٹروں کے بجائے صرف ۵۹۱۰ ڈاکٹر ہی کام کررہے ہیں، یہی حال کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں کا بھی نظر آتا ہے، جہاں ۳۱۳۸۸ ڈاکٹروں کے بدلے ۲۰۳۰۸ ڈاکٹر پائے جاتے ہیں۔ ملک میں ڈاکٹروں کی بیش از بیش کمی کا حال ایک اور رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے۔ اس کے مطابق ملک میں چھ لاکھ ڈاکٹروں ، دس لاکھ نرسوں اور دو لاکھ سے زیادہ ڈینٹل سرجنوں کی کمی ہے۔ سروے یہ بھی بتاتا ہے کہ ہندوستان میں دس ہزار افراد پر محض دس ڈاکٹروں کا اوسط ہے، اس کے برعکس آسٹریلیا میں ۲۴۹، برطانیہ میں ۱۶۶، کناڈا میں ۲۰۹ اور امریکہ میں ۵۴۸ ڈاکٹر ہیں۔

جہاں تک دیہی صحت خدمات کا تعلق ہے تو اس کا قابل غور پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر دیہاتوں میں اپنی خدمات پیش کرنا نہیں چاہتے۔ دوسرا تاریک پہلو یہ ہے کہ حکومت نے بھی اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور وفکر کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ رسمیات نبھانے کے لئے دیہاتوں میں ہیلتھ سینٹر کھول دیئے لیکن وہاں علاج کے لئے ضروری سہولتیں مہیا نہیں کرائیں، زیادہ سے زیادہ یہ کیا کہ گاؤں کے سیلن سے آلودہ ایک کمرہ پرائمری ہیلتھ سینٹر کا بورڈ لٹکا دیا اور دیگر ضروری سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں، یہی وجہ ہے کہ بیشتر ڈاکٹر جو دیہی علاقوں میں جاتے ہیں وہ کچھ ہی عرصہ میں نوکری چھوڑ کر واپس آجاتے ہیں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ڈاکٹروں کی کمی کو دور کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ میڈیکل کالج کھولے جائیں، اور پرائیویٹ سیکٹر کی بھی اس بارے میں ہمت افزائی کی جائے لیکن میڈیکل کونسل آف انڈیا نے میڈیکل کالج کھولنے کے اتنے سخت ضابطے مقرر کررکھے ہیں کہ ان کی وجہ سے پرائیویٹ ادارے میڈیکل کالج کھولنے کا ارادہ بھی نہیں کرسکتے، جوپرائیویٹ میڈیکل کالج جاری ہیں ان کی منظوری پر بھی ہمیشہ تلوار لٹکتی رہتی ہے، موجودہ پابندیوں کے ساتھ اگر کوئی میڈیکل کالج کھولنا چاہے تو اس کی ملکیت میں ۲۵ ایکڑ زمین اور تین سو بیڈوالا اسپتال ہونا چاہئے جو آسان مرحلہ نہیں، اسی وجہ سے کمیشن نے میڈیکل کونسل کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ضابطوں میں نرمی لائے، وزارتِ صحت بھی اس پر غور کررہی ہے ، کچھ عرصہ سے قبل مرکزی محکمہ صحت کے سکریٹری نے کہا تھا کہ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی مذکورہ دونوں اہم شرائط میں تبدیلی لانے کے بارے میں صلاح ومشورہ ہورہا ہے۔ خاص طو رپر کوئی ادارہ ۲۵ایکڑ کے بجائے دو بڑے پلاٹ اپنی ملکیت میں بتاتا ہے تو اسے اجازت دی جاسکتی ہے، اس کے علاوہ تین سو بیڈ کے اسپتال کے بدلے پرائیویٹ میڈیکل کالج کو ضلع اسپتال سے منسلک کرنے پر بھی سوچا جارہا ہے اگر حکومت حقیقت میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے کئی قدم بیک وقت اٹھانا پڑینگے۔ اول گورنمنٹ کو میڈیکل کالج کھولنے کے بارے میں فوری فیصلہ کرکے اسے خود عملی جامہ پہنانا ہوگا، دوسرے پرائیویٹ میڈیکل کالج کھولنے میں درپیش دقتوں کو دور کرنا ہوگا، تیسرے دیہات میں تعینات ڈاکٹروں کو اچھی تنخواہ اور ضروری سہولتیں فراہم کرنا ہوگا تاکہ وہ دیہاتوں سے گھبراکر واپس نہ ہوں، اسی طرح دیہی علاقوں میں ہیلتھ مراکز کو ضروری سہولتوں سے آراستہ کرنا ہوگا ، تبھی ہر شہری کو علاج کی سہولتیں فراہم کرانے کے بارے میں حکومت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam