پیدا ……… سو لفظوں کی کہانی- مبشر علی زیدی

ڈوڈو نے مجھے نیا بجلی گھر دکھایا۔
میں شان دار عمارت دیکھ کر مرعوب ہوا۔
جدید مشینری، کمپیوٹرائزڈ نظام۔
’’کتنی لاگت آئی؟‘‘
میں نے دریافت کیا۔
’’دو ارب ڈالر۔‘‘
ڈوڈو نے آگاہ کیا۔
’’اور کون سا ایندھن چاہئے؟‘‘
’’یہاں گیس سے بھی بجلی بنائی جا سکتی ہے،
تیل سے بھی۔‘‘
’’اور کتنی بجلی بنائی جا رہی ہے؟‘‘
ڈوڈو نے ہچکچاتے ہوئے بتایا،
’’یہاں پانچ سو میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے،
لیکن فی الحال پیدا وار صفر ہے۔‘‘
میں حیران ہو؎ا، ’’ایسا کیوں؟‘‘
ڈوڈو نے آنکھیں چرا کے کہا،
اس منصوبے کا مقصد بجلی بنانا نہیں،
کمیشن بنانا تھا۔‘‘

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam