امریکہ میں پاکستان کی گونجتی ہوئی آواز- الطاف حسن قریشی

یہ غالباً فروری کی 19تاریخ تھی اور نصف شب گزر چکی تھی کہ موبائل فون کی گھنٹی نے مجھے گہری نیند سے جگا دیا۔ فرمایئے، دوسری طرف سے آواز آئی کہ میں لاس اینجلس سے وقار علی خاں بات کر رہا ہوں۔ آپ کا ٹیلی فون نمبر شارق زیدی سے لیا ہے جو آپ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ایک باکمال شخصیت کے مالک ہیں۔ میں چودہ برسوں سے جیو ٹی وی پر ’سفیرِ پاکستان‘ کے نام سے ہفتے میں دو بار پروگرام کرتا ہوں۔ اس کا بنیادی مقصد ان اولوالعزم شخصیتوں کو روشناس کرانا ہے جو امریکہ یا پاکستان میں اپنے وطن کے لیے عظیم الشان خدمات سرانجام دے رہی اور اچھا نام پیدا کر رہی ہیں۔ وقار علی خاں مزید کہہ رہے تھے کہ لاس اینجلس میں ایک حلقے نے فاؤنڈیشن قائم کی ہے جس کے تحت ہر سال کسی شعبے میں غیر معمولی خدمات سرانجام دینے والے چند افراد لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے منتخب کیے جاتے اور ایک باوقار تقریب میں ایوارڈ دیے جاتے ہیں۔ اس تقریب میں ممتاز پاکستانی اور امریکی شخصیتیں مدعو کی جاتی ہیں جو پاک امریکی تعلقات کی نشوونما میں سودمند ثابت ہوتی ہیں۔ اس بار ہمارے بورڈ نے صحافت اور اُردو ادب میں بلند مقام حاصل کرنے پر آپ کا نام اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا ہے۔ یہ تقریب 30اپریل کو منعقد ہو گی اور میں بورڈ کی طرف سے آپ کو اس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔
میں پہلے جناب وقار علی خاں سے ملا تھا نہ سفیرِ پاکستان ٹی وی پروگرام سے واقف تھا، اس لیے میں نے ان کی دعوت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کا مکمل تعارف ای میل کرنے کے لیے کہا اور یہ بھی بتا دیا کہ میری صحت شاید اس قدر طویل سفر کی متحمل نہ ہو سکے۔ انہوں نے اپنی ویب سائٹ کا پتہ دیا اور ای میل ارسال کی جن سے بہت سارے دلچسپ اور خوش کن حقائق کا سراغ ملا۔ جناب شارق زیدی کے علاوہ امریکہ میں متعدد احباب سے رابطہ کیا۔ ان سب نے سفیرِ پاکستان پروگرام اور پاکستان کے ساتھ جناب وقار علی کی زبردست کمٹ منٹ کی شہادت دی کہ ان کے پروگرام میں پاکستانیوں کی عظمت، محنت اور کامیابی کی جو داستانیں بیان کی جاتی ہیں، ان سے تارکینِ وطن کے اندر اعتماد بھی پیدا ہوتا ہے اور وہ اجتماعی معاملات میں مزید جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت اور سوسائٹی پر بھی یہ واضح ہوتا رہتا ہے کہ ان کی معیشت اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی اور مختلف اہم اداروں کے استحکام اور ارتقا میں پاکستانیوں کا حصہ کس قدر گراں قدر ہے۔ سفیرِ پاکستان پروگرام کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں امریکہ کی مقتدر شخصیتیں بھی شریک ہوتی ہیں۔ مشعل اوباما اور ہیلری کلنٹن کئی بار آئیں اور پاکستان کے بارے میں نہایت اچھے خیالات کا اظہار کرتی رہیں۔
میں امریکہ آخری بار 1997ء میں وزیراعظم نوازشریف کے وفد میں گیا تھا۔ تب امریکہ میں لاتعداد احباب سے رابطے قائم تھے۔ جنوری 2017ء کے بعد امریکہ بہت بدل گیا ہے، چنانچہ یہ خیال تقویت پکڑتا گیا کہ صدر ٹرمپ کا امریکہ دیکھنا چاہیے اور ان جواں ہمت امریکی شہریوں کو وہاں جا کر سلامِ عقیدت پیش کرنے کو جی چاہا جنہوں نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ٹرمپ کی طرف سے سات مسلم ممالک کے مسلمانوں کی امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کے خلاف ایئر پورٹس پر مسلمانوں کا زبردست خیر مقدم کیا تھا، ان کی حفاظت کے لیے ہزاروں رضاکار نکل کھڑے ہوئے تھے اور لاکھوں کی تعداد میں امریکیوں نے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ میں ریلیاں نکالی تھیں۔ ان مناظر نے مسلمانوں کی حمایت میں زبردست جوش و خروش پیدا کر دیا اور امریکہ کا ایک نیا رُخ سامنے آیا۔ اِسی جذبے کے تحت ویزا لگوا لیا اور سب سے پہلے اکنا (ICNA) تنظیم یاد آئی جو پاکستان اور مسلم کاز کے لیے بہت متحرک ہوا کرتی تھی۔ جناب شکور عالم، اجمل چودھری، ڈاکٹر زاہد بخاری، افضل اعزاز اور عزیزم حسین فاروق مودودی یاد آئے۔ اس کے بعد یادوں کا ایک تانتا بندھتا چلا گیا۔ امریکہ میں پاک امریکن کانگریس (PAC) ایک زمانے میں بہت بڑی طاقت سمجھی جاتی تھی، پھر اس میں اختلافات پیدا ہو گئے۔ آج کل اس کے صدر ڈاکٹر اشرف طور ہیں جو بہت بڑے سرجن ہیں۔ اسی طرح جناب احتشام ارشد نظامی شکاگو میں رہتے ہیں اور بنگلہ بہاریوں کی بحالی کی تنظیم کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ وہ صاحبِ تصنیف بھی ہیں۔ انہوں نے شکاگو آنے اور وہاں کی ادبی تنظیموں سے ملاقاتوں کی دعوت دی ہے۔ نیویارک میں ہفت روزہ اُردو ٹائم کے مدیر جناب خلیل الرحمٰن ایک طاقتور ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں اور پاکستان کی آواز امریکہ کے علاوہ کینیڈا تک پہنچاتے ہیں۔ ان سے بھی ملنے کو بہت جی چاہتا ہے۔ ہمارے دوست مشتاق جاوید نے امریکہ کا سیاسی منظر نامہ اور ڈاکٹر نوید شیروانی نے ہوشربا سیلی کن ویلی دکھانے کا عندیہ دیا ہے۔ جناب شارق زیدی کی صحبت میں اچھا وقت گزرے گا کہ وہ غالبؔ اور اقبالؔ کے شعروں میں گفتگو کرتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ توانائی عطا فرمائے!
امریکہ کا سفر اختیار کرنے سے پہلے پاکستان میں چند ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ دل بہت سوگوار اور زخم خوردہ ہے۔ عبدالولی خاں یونیورسٹی میں جو اعصاب شکن حادثہ پیش آیا، اس نے بڑے سنگین سوالات اُٹھائے ہیں جن کا جواب اربابِ اختیار اور اہلِ نظر کو تلاش کرنا ہو گا۔ مشال خاں کا سفاکانہ قتل کسی دینی مدرسے میں نہیں ہوا، بلکہ یونیورسٹی میں ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذہبی شدت پسندی اور عدم رواداری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پروان چڑھ رہی ہے۔ پھر اے این پی کے عہدِ حکومت میں صوبہ خیبر پختونخوا میں جو تین یونیورسٹیاں قائم ہوئی تھیں، ان کے بارے میں تفصیلی معلومات کا حصول از بس ضروری ہے۔ پھر یہ سوال بار بار اُٹھتا ہے کہ مشال خاں کی لاش کی اس قدر بے حرمتی کیوں کی گئی اور تازہ ترین معلومات کے مطابق اس کے قاتلوں میں زیادہ تر اسی کے نظریات کے طلبہ شامل تھے۔ اب اس بنیادی سوال کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے کہ یونیورسٹیوں میں تجربہ کار وائس چانسلر تعینات کیوں نہیں کیے جا رہے۔ اسی طرح مشال خاں کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے تک عبدالولی خاں یونیورسٹی کا نام تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
اس ہیجان انگیز ماحول میں ہمارے عہد کے عظیم ادیب، مایہ ناز دانش ور، بے مثال منتظم اور رعنائی خیال کے خالق جناب مختار مسعود 12؍اپریل کے دن بڑی خاموشی سے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ ان کے انتقال سے قحط الرجال میں نہایت اذیت ناک اضافہ ہو گیا ہے۔ وہ اپنی کتابیں ’آوازِ دوست‘ ’سفر نصیب‘ اور ’لوحِ ایام‘ کے حوالے سے زندہ رہیں گے اور مینارِ پاکستان اور مسجدِ شہدا کی تعمیر ان کے عظیم کارناموں کی آب و تاب کم نہیں ہونے دے گی۔ علی گڑھ یونیورسٹی نے ان کی شخصیت کو جس قالب میں ڈھالا تھا، اس میں پاکستان سے محبت کا لازوال جذبہ محفوظ تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر شبنم افشانی کرے اور ہمارے اندر دوبارہ دیدہ ورپیدا ہونے لگیں۔
آج بدھ ہے اور مجھے کالم لکھتے ہوئے رات کے نو بج گئے ہیں۔ پاناما پیپرز کے مقدمے کے فیصلے کا اعلان ہونے میں صرف سترہ گھنٹے رہ گئے ہیں۔ میڈیا میں قیاس آرائیوں کا ایک اژدہام ہے جو فکری انتشار میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ فیصلے کا اعلان ہوتے ہی ایک نیا سلسلۂ روزوشب شروع ہو جائے گا اور اچھے اعمال کا پلڑا بھاری ثابت ہو گا اور پُرامن انتقالِ اقتدار کا راستہ مزید ہموار ہوتا جائے گا۔

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam