حمیرا انجم ، محنت اور حوصلے کی مختصر داستان - ناصر تیموری

مالی و معاشی بوجھ فطرتاً مرد اٹھاتا ہے اور اس کے کمائی کو اپنی سلیقہ مندی سے گھر میں بدلنے کی ذمہ داری خواتین کی ہوتی ہے۔ گھر کے معاملات دیکھنا اور بچوں کی تربیت جیسی اہم ذمہ داری انجام دینے کے لیے اگر مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑے تو عورت کو ایک اضافی ذمہ داری بھی نبھانے نکل پڑتی ہے۔ کراچی کی 50 سالہ حمیرا انجم کی داستان بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

16 سال پہلے حمیرا نے حیدرآباد سے نقل مکانی کرکے کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ ان کے شوہر ایک معمولی سرکاری ملازم ہیں اور نئے شہر میں آنے کے بعد انہیں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گو کہ ان کے پاس سلائی کڑھائی کرنے کا آپشن تھا لیکن انہوں نے کچھ نیا کام کرنے کا سوچا۔ اللہ نے حمیرا کے ہاتھوں میں بہترین ذائقہ دے رکھا ہے اور انہوں نے اپنی اسی خداداد صلاحیت کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ کام کا آغاز انہوں نے گھر گھر جاکر کھانے کے مفت سیمپل تقسیم کرکے کیا اور ان کے کھانوں نے آہستہ آہستہ لوگوں کے دل، اور پیٹ، میں اپنی جگہ بنا لی ۔

حمیرا نے دیکھا اور محسوس بھی کیا کہ شہر کی پیشہ ورانہ زندگی میں دوپہر میں غذائیت سے بھرپور کھانا بہت بڑی ضرورت ہے۔ اگر دفتروں میں دوپہر میں گھر کا پکا ہوا کھانا میسر ہونے لگے، جو ذائقے دار بھی ہو اور غذائیت سے بھرپور بھی تو اس کی خاصی مانگ ہو سکتی ہے۔ یوں حمیرا نے ایک نئے میدان میں قدم رکھا۔ قریبی علاقوں میں ٹفن کے ذریعے دفاتر میں کم قیمت کھانا پہنچنے لگا تو ان کی شہرت بڑھتی چلی گئی۔

آج حمیرا کے دن کا آغاز سورج طلوع ہونے سے ہوتا ہے جب وہ کھانا پکانا شروع کرتی ہیں اور پھر انہيں اکٹھا کرکے گلشن اقبال سے 24 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کلفٹن میں واقع ڈالمین ایگزیکٹو ٹاور کی کینٹین میں لاتی ہیں۔ یہ کینٹین 'فوڈ فیکٹری' کے نام سے مشہور ہیں جہاں دوپہر میں ذائقے کے متوالے اس کھانے کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں۔ شام پانچ بجے تک وہ یہیں رہتی ہیں اور اس دوران لوگ ان کے مصالحہ دار کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اب حمیرا گھر کی آمدنی میں ایک اہم ستون بن چکی ہیں۔ ان کے شوہر بھی کھانے کا سامان خریدنے میں اہلیہ کی مدد کرتے ہیں بلکہ زندگی کے ہر مرحلے پر دونوں نے ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ اگر یہ ساتھ نہ ہوتا تو شاید حمیرا اتنا لمبا سفر طے بھی نہ کر پاتیں۔

یہ حمیرا کی مستقل مزاجی اور مستقبل بینی تھی جس کی وجہ سے آج ان کا گھرانہ مثالی تصور کیا جاتا ہے۔ تینوں بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ ایک بیٹے نے ایم بی کرلیا ہے، دوسرے نے اے سی سی اے کیا ہے جبکہ بیٹی انٹیریئر ڈیزائننگ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

یہ داستان بتاتی ہے کہ اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے فیصلے کریں تو گھرانے پھلتے پھولتے ہیں اور مستقبل بنتے ہیں۔ نامساعد حالات کے باوجود خاندان کے لیے نیا راستہ بنانے میں جس طرح حمیرا نے اپنا کردار ادا کیا، وہ قابل تقلید ہے۔