میں کون ہوں؟- حرم فارس

سورج ڈوب رہا ہے، شام ہو رہی ہے، وقت بھاگ رہا ہے اور میں آپ کی خاطر شام کی چائے چھوڑ کر آ گیا ہوں۔ آپ کے پر زور اصرار پہ اپنے خوبصورت ترین انداز میں دلنشین باتیں کرنے۔ میں جانتا ہوں کہ شام /ادلب کے معاملے پہ جب میں نے سحر انگیز گفتگو فرمائی، تب سے آپ میرے فین ہو چکے ہیں لیکن اظہار کے معاملے میں شرماتے ہیں۔ میں آپ کے جذبات کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں اسی لیے میں نے سوچا کہ میں آج آپ کو اپنے جیسے بے مثال انسان سے ملوا ہی دوں، جس کی باطن کی خوبصورتی سے تو آپ ایک تحریر میں ہی متاثر ہو چکے ہیں، یہ میں نہیں کہتا بلکہ لوگوں کی جو سوچ ہے۔

سچ بولنا ہی مجھے بھاتا ہے لہذا جو ہے اسی پہ صاف صاف بات کرتا ہوں میرے پاس بہت سے موضوعات ہیں بولنے کو۔ جیسے کہ تازہ تازہ موضوع پانامہ کیس، کچھ دن پرانا مشعال کا موضوع اور جو میں نے اپنے تجربات سے سیکھا وغیرہ وغیرہ۔ ۔۔میں بات کرنا چاہوں تو فرفر بولتا جاؤں گا اور بات اول تا آخر کامیاب رہے گی لیکن نہیں!! میں اس قدر خود غرض نہیں ہوں۔ لہٰذا میں آپ کے احساسات کا خیال کرتے ہوئے آج صرف اپنا تعارف دوں گا تاکہ اپنے اس ہیرو کو جان سکیں اور اس بات پہ فخر محسوس کر سکیں کہ زندگی نے آپ کو مجھ سے ملوایا ہے۔ زیادہ وقت نہیں لوں گا بس کچھ بتا کر چلنے کی کروں گا۔

میں ایک مصروف آدمی ہوں میرے پاس نیٹ کی دنیا کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے اور یہاں زیادہ تر فارغ لوگ ہی پائے جاتے ہیں میں دن میں سے صرف بیس گھنٹے نیٹ یوز کرتا ہوں باقی سارا دن میں عبادت میں مصروف رہتا ہوں۔ اللہ ریاکاری سے بچائے یہ میں صرف آپ کے نالج کے لیے بتا رہا ہوں، ورنہ میرے اور اللہ کے معاملے میں کوئی تیسرا آئے یہ مجھے گوارا نہیں۔ بات لمبی ہو رہی ہے اور ہر بار کی طرح وقت کی قلت ہےلہٰذا سیدھا موضوع پہ آتا ہوں میں اپنا تعارف کھل کے دینے کے معاملے میں اکثر محتاط رہتا ہوں کیونکہ مشہور لوگوں کو کافی خطرات بھی ہوتے ہیں لیکن پھر بھی آپ کے لیے آج اپنی احتیاط قربان کر دیتا ہوں ہاں تو سوال یہ ہے کہ میں کون ہوں؟؟

میں انسان ہوں، آسمان سے اترا ہوں، اشرف المخلوقات، فرشتوں سے برتر!! ہاں میں انسان ہوں مجھے میرے رب نے اس لیے پیدا کیا ہے کہ میں اس عبادت کروں اور جیسے کہ آپ کو میں بتا چکا ہوں کہ میں بیس گھنٹوں کے علاوہ باقی سارا دن عبادت میں صرف کرتا ہوں کیونکہ مجھے جواب دہی کا خوف لاحق رہتا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ قیامت ہر صورت آنی ہے جو شخص اس سے انکار کرے میں مرنے مارنے پہ تل جاتا ہوں کیونکہ اس کے ایمان کی خرابی کی یہی دلیل کافی ہے کہ وہ کہے کہ قیامت نہیں آنی چونکہ میں انسان ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہوں اسی لیے میرا اس پہ پختہ عقیدہ ہے لیکن میں صحیح کہوں تو آجکل کے مسلمان بس نام کے مسلمان رہ گئے ہیں ۔ جھوٹے، مکار، منافق لوگ!! قیامت پہ یقین تو ہے پر اعمال کالے سیاہ، کرتوت مانند شہتوت۔ اللہ توبہ! استغفار! میں تو کہتا ہوں کہ ایسے اعمال ہیں کہ مرتد ہونے میں کوئی کسر نہیں رہ گئی استغفار!

خیر ان کی باتیں کرکے میں کیوں اپنی زبان کالی کروں؟ ٹھیریں ذرا پانی پی لوں۔۔۔بس ایسے ہی لوگوں کی بے اعمالیاں دیکھ کر دل بھر آتا ہے تو پانی کی بوتل ساتھ رکھ لیتا ہوں ۔ ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ میں کون ہوں ؟ میں کافی پرہیز گار اور متقی ہوں۔ میرے متقی ہونے کی یہی نشانی ہے کہ اللہ مجھے ہر بندے کے بارے میں الہام کر دیتا ہے کہ کون منافقت سے لبریز ہے تو کون کھرا ہے؟ ظاہر ہے دوسروں کے ایمان سے متعلق ایسی باتیں صرف ولی اللہ کو ہی پتا چل سکتی ہیں۔ میری تو گردن ہی نہیں اوپر ہوتی احساس تشکر سے کہ اللہ نے مجھے اس قابل سمجھا ہے۔ آپ یہیں سے اندازہ کیجیے کہ میرا جو ہمسایہ ہے وہ دن میں فقط چار نمازیں ادا کرتا ہے، فجر کی نماز ادا کرتے میں نے کبھی اسے نہیں دیکھا۔ باقی نمازیں ادا کرنے جب وہ مسجد جاتا ہے تو مجھے دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز سے سمجھ آ جاتی ہے۔ مجھے تو لگتا کہ جان بوجھ کر زور سے کھولتا اور بند کرتا ہے تاکہ سب کو بتا سکے کہ مسجد جا رہا ہے۔ میں اگر چہ بے حد مصروف ترین آدمی ہوں لیکن میں دن میں جو دو نمازیں ادا کرتا ہوں وہ بھی اس قدر خشوع و خضوع سے کرتا ہوں کہ اگلی تین نمازوں کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ صبح میری آنکھ نہیں کھل پاتی۔ عشا کے وقت آنکھ لگ جاتی ہے جبکہ عصر کے وقت میں آرام کر رہا ہوتا ہوں۔

حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ میں حقوق العبادبھی پورا کرتا ہوں۔ میرے بیوی بچے ہیں سب مجھ سے خوش ہیں۔ میرے اخلاق کا ہر کوئی گرویدہ ہے میری کمائی مکمل حلال کمائی ہے بس اگر کوئی خود سے پیسے دے تو لینے میں کوتاہی نہیں کرتا کہ ہاتھ آئی نعمت کو دھتکارنا بھی ناشکری ہے۔ اسی لیے گھر میں پیسے کی ریل پیل ہے، برکت ہی برکت ہے میں نے اسی وجہ سے گھر کے دروازہ پہ بڑا سا ما شاءاللہ لکھوایا ہوا ہے۔ یعنی جو اللہ چاہے کہ اللہ کے چاہے بغیر تو کچھ نہیں ہوتا۔

یہ تو میں ہوں نا! دوسری جانب ایک دوست بھی ہے میرا۔ عجیب سا بندہ ہے، کنجوس سا، اپنی بیٹی کی شادی پہ گن چن کا مہمانوں کو بلایا نکاح پڑھا اور رخصت کر دیا، بغیر جہیز کے اور نام لگا دیا اسلام کا کہ اسلام میں فضول خرچی نہیں ہے۔ اب اسلام کو لوگوں نے ایسے ہی بدنام کر رکھا ہے۔ اسلام کہاں خوشی کرنے سے روکتا ہے؟ آپ اس بندے سےاگر کہیں نا کہ اپنا تعارف دو تو کبھی نہیں دے سوائے اس کے کہ اللہ کا بندہ ہوں۔ اب اللہ کے بندے تو سبھی ہیں یہ کون سا والا بندہ یہ کبھی نہیں بتائے گا کہ ریا کاری نہ ہو جائے۔ عجیب ہی منطقیں ہیں لوگوں کی۔۔ ہر وقت اذکار کرتا رہتا ہے ہمیں دکھانے کو کہ دیکھو میں کتنا نیک ہوں ۔ ذکر تو وہ ہوا نا جو تنہائی میں کیا گیا ہو؟

اب ہلکا پھلکا تعارف تو میں نے دے دیا، باقی آپ خود مجھے جان جائیں گے میں تو بس لوگوں کی اصلاح کے لیے بولتا اور لکھتا ہوں تاکہ لوگوں میں شعور اجاگر کر سکوں کہ یہاں پہ شعور کی بہت کمی ہے۔ جیسے میرے دوست کو یہ ہی نہیں پتا تھا کہ آج کل مردوں کے لباس کے لیے کیسا فیشن چل رہا ہے میرا کام بس تبلیغ و دعوت ہے اللہ کے لیے زندگی وقف کی ہوئی ہے بس اللہ کے لیے یہ سب کرتا ہوں تاکہ آخرت کے لیے کچھ ذخیرہ کر سکوں اسی خاطر میں اکثر آپ سب سے مخاطب ہوتا رہوں گا چاہے اس کے لیے مجھے کتنی تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔۔!

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam