گڑیا – شہاب رشید

تما م رات آنکھوں میں کاٹنے کے بعد وہ صبح سویرے بستر سے اٹھا منہ ہاتھ دھو کر گھر کے صحن کی ٹوٹی کرسی پر آن بیٹھااس کی بیوی جو اس کے پیچھے ہی چلی آئی تھی، نے چلاتی ہوئی آواز میں کہا کہ گھر میں کچھ کھانے کو نہیں ہے، راشن کئی دنوں سے ختم ہے، کوشش کرنا کہ آج کوئی دیہا ڑی لگ جائے۔ اتنے میں اس کی ننھی بچی آنکھیں ملتی اس کے پاس آئی اورکہا کہ! ابا میرے لیے وہ گڑیا ضرور لے کر آنا جو ہم نے دکان پر دیکھی تھی۔

آج پھر اس کی بیٹی نے ہر روز کی طرح گڑیا لے کر آنے کی ضد کر دی جس کو لانے کا وہ ہر روز وعدہ کرتا تھا اور ہر روز گھر آنے پر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر ٹال دیتا تھا۔ معصوم بچی کو کیا معلوم تھا کہ بازار سے گڑیا روپوں کی آتی ہے اور باپ کے پاس اتنی رقم بھی نہیں ہے کہ گھر کا چولہا جل سکے ۔ اس نے گھر کی سیلن زدہ شکستہ دیواروں کی طرف دیکھااور تھوڑی دیر اسی طرح بیٹھا رہا۔

ناشتے کی کوئی امید نہیں تھی اس لیے وہ اٹھا، اپنے روزی رساں اوزار، رنگ برش بمعہ خالی ڈبے، اٹھائے اور علاقہ کے مشہور چوک پہ جا پہنچا، جہاں اور بھی بہت سے مزدور اپنے اپنے کام کے اوزار لیے بیٹھے کسی صاحب حال کا انتظار کر رہے تھے۔ جب بھی کوئی گاڑی ان کے پاس آ کر رکتی، تو درجنوں مزدور بھاگتے ہوئے گاڑی کے گرد جمع ہو جاتے گاڑی والا متعلقہ مزدور سے مزدوری طے کرنے کے بعد اپنے ساتھ لے جاتا۔ وہ بھی باقی بدنصیب مزدوروں کی طرح واپس آ بیٹھتا کافی دیر یہی سلسلہ چلتا رہا مگر اس کی قسمت نہ جاگی۔ اس کو رہ رہ کر اپنی بچی کا خیال آ رہا تھا جس کو وہ ہر روز گڑیا لانے کا جھوٹا دلاسہ دے آتا۔ دن چڑھ آیا تھاسب مزدور مزدوری نہ ملنے پر منہ لٹکائے واپسی کی راہ لے رہے تھے۔

سورج جیسے سوا نیزے پہ تھا، تمام مزدور جا چکے تھے وہ بھی اٹھا اورتپتی سٹرک کے کنارے کنارے ایک طرف چل پڑا۔ اس نے اپنی قمیض کے پلو سے ماتھے کا پسینہ صاف کیا، ایک نگاہ اپنے دائیں پاؤں پر ڈالی جو کہ سلیپر کے بیچوں بیچ بڑے سوراخ کی وجہ سے اور پگھلی ہوئی تارکول کے باعث بری طرح جھلس گیا تھا۔ اس کو سمجھ نہ آتی تھی کہ وہ کس منہ کے ساتھ گھر واپس جائے اور اپنی گڑیا کو اور بیوی کو کیا منہ دکھائے، جو آج بڑی آس لگائے اس کا انتظار کر رہی تھیں۔

اسی سوچ میں ڈوبے وہ ایک کھلونوں کی دکان کے پاس سے گزرا اس نے دیکھا بہت سے کھلونے اور مختلف اقسام کی گڑیاں شیشوں کے ریک پر بیٹھی اس کا منہ چڑا رہی ہیں۔ وہ اپنا وجود گھسیٹتے ہوئے دکان کے پاس پہنچا، جھجکتے ہوئے اپنی بیمار بیٹی کے لئے دکاندار سے ایک چھوٹی سی گڑیا ادھار مانگی۔ دکاندار نے اس کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور کہا کہ دفع ہو جاؤ، پہلے گاہک کو ادھار دے کر میں اپنی بوہنی خراب نہیں کر سکتا۔ دکاندار کا برجستہ جواب سن کر اس کا کلیجہ مسوس اٹھا اور چہرے کا رنگ مٹ میلا ہو گیا۔

رات گئے وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی اور بیٹی اس کے ہاتھ میں راشن کے تھیلے دیکھ کرحیرت زدہ بھاگتے ہوئے اس کے پاس پہنچے۔ اس نے کہا آج بہت بڑا ٹھیکا ملا ہے، کچھ ایڈوانس بھی ملا ہے، چند ماہ آرام سے گزر جائیں گے لیکن مجھے ہفتہ بھر کے لیے شہر سے باہر جانا پڑے گا۔باپ کے ہاتھوں میں بڑی سی گڑیادیکھ کر بچی جھوم اٹھی اور باپ کے سینے سے لگ کر بولی آپ دنیا کے سب سے اچھے ابا ہیں۔ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے جو اس کی بڑھی ہوئی داڑھی کو بھگو کر اس کے دامن پر گر رہے تھے۔وہ بیوی سے نظریں چرا کر غسل خانہ کی طرف لپکاکیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیوی اور گڑیا کو پتا چلے کہ اب اس نے تمام عمر ایک ہی گردے کے سہارے گزارنی ہے۔

Comments

FB Login Required

شہاب رشید

شہاب رشید ہے وکالت کے شعبہ سے منسلک ہیں، اور سول کے ساتھ کارپوریٹ اور ٹیکس لاء میں پریکٹس کرتے ہیں۔ اردو ادب سے گہری وابستگی ہے۔ حالات حاضرہ، اردو افسانہ و ڈرامہ پسندیدہ موضوعات ہیں

Protected by WP Anti Spam