اقبال کو آزاد کردیجئے! - عمران عمرام

علامہ اقبال نے کسی دور میں اپنا مشہور زمانہ "ترانہ ہندی " ، "سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا" لکھا۔ یہ برصغیر پاک و ہند میں تقسیم ملک کا نظریہ، نعرہ یا مطالبہ واضح اور قبول عام صورت میں آنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔ یہ ترانہ آج بھی ہندوستان میں بہت مشہور و معروف ہے بلکہ اسے وہاں لگ بھگ قومی ترانے کی سی حیثیت حاصل ہے۔ اس کی وجہ بظاہر یہی ہے کہ یہ ترانہ وطنیت کو فروغ دیتا ہے اور جدید ہندوستان جس کا سرکاری نام بھارت ہے، اس کی بنیاد ہی وطنیت پہ ہے کیونکہ ان کی بانی جماعت انڈین نیشنل کانگریس اور اس کی اتحادی مسلم جماعت جمعیت علماء ہند کا نعرہ تھا کہ قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ اس لئے سارے ہندوستان کے رہنے والے، خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، وہ ایک ہی قوم ہندوستانی یا انڈین شمار ہوں گے۔ جبکہ دوسری طرف آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ نعرہ اور نظریہ تھا کہ "قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں" اس لحاظ سے ہندوستان میں دو قومیں ہوئیں، ایک مسلمان، اور دوسری غیر مسلم، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہندو اور مسلم، کیونکہ یہی دو اکثریت میں تھیں۔ جبکہ باقی مذاہب کے پیروکار کم تعداد یا اقلیت میں تھے۔ اس نظریے کو دو قومی نظریہ کا نام دیا جاتا ہے اور نظریہ پاکستان بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت "پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ " اور "لے کے رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان "کے نعرے لگائے گئے ۔ اسی نظریے اور اسی مذہبی تقسیم کی بنیاد پہ ملک تقسیم ہوا اور دو نئی مملکتیں وجود میں آئیں، یعنی پاکستان اور ہندوستان۔

ان میں سے پہلا ملک یعنی پاکستان نے اپنی شناخت ایک مسلمان ملک کے طور پر بنائی، جبکہ جدید ہندوستان نے اپنے آپ کو ایک سیکولر جمہوریہ کے طور پر سامنے لایا، جس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے مذہب کو ریاست سے الگ تھلگ کرکے اسے کسی شخص کا ذاتی معاملہ قرار دیا۔ اس تناظر میں سارے ہندوستان کا مذہبی اختلافات اور عقائد کے فرق کو نظر انداز کرکے ایک قوم ہونے کا نعرہ نئے سرے سے بلند کرنا اورو طنیت کے نظریے کو پروان چرانا نئے حالات اور وقت کی ضرورت اور مجبوری بن گئی۔ چونکہ یہ ترانہ ان کی یہ ضروریات پورا کرتا تھا، اس لئے اقبال کے اتنے سارے کلام میں سے یہی محبوب و مقبول ٹھہرا۔ اس ترانے میں سے ایک آدھ شعر جو ان کے مطلب پہ پورا نہیں اترتا تھا، اسے چھوڑدیا۔ اب اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اگر ہم اقبال کےباقی کلام کا جائزہ لیں تو ہمیں اسی طرز اور ہیئت کا اور نام بھی اسی سے ملتا جلتا ایک اورترانہ بھی ملتا ہے جس کا مرکزی خیال اور پیش کردہ نظریہ اس پہلے والے ترانے سے بالکل مختلف بلکہ متصادم ہے۔ اس کے نام میں ہی ایک نیا پن اور تبدیل شدہ نظریہ موجود ہے، یعنی "ترانہ ملی"۔ ملت کا لفظ بظاہر قوم کے ہم معنی ہے لیکن استعمال میں فرق ہے، علامہ کے کلام میں عام طور پر ملت کا لفظ امت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی امت مسلمہ۔ جیسے اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر / خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ،

اقبال نے ملک کی بنیاد پہ قوم یا نیشن کے مغربی تصور کو رد کیا اور مذہب یا امت کو قوم کی بنیاد اور ہم معنی قرار دیا۔ اس نئے ترانے کے عنوان سے ہی ظاہر ہے کہ یہ ملت اسلامیہ یا امت مسلمہ کا ترانہ ہے۔ اس کا پہلا شعر ہی سب کچھ واضح کر دیتا ہے ، چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا / مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا ۔ پہلے ترانے میں ہندوستان کو سارے جہاں سے اچھا قرار دیا گیا یا یوں کہ سکتے ہیں کہ "سب سے پہلے ہندوستان" کا نعرہ اور نظریہ پیش کیا گیا۔ لیکن ترانہ ملی میں ہندوستان، چین اور عرب کا نام لے کے کہا گیا کہ ہم مسلمان ہیں اور نہ صرف یہ علاقے بلکہ ساری دنیا مسلمانوں کے لئےوطن ہے۔ یہاں پہ وطنیت یا وطن پرستی کی مروجہ فکر اور مفہوم کی نفی کی گئی اور وحدت امت کا سبق دیا گیا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے (نامور صحافی جناب سہیل وڑائچ کے الفاظ میں) کہ " کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟"اس ظاہری تضاد کی وجہ یہی ہے کہ یہ فکر اقبال کا ارتقاء ہے۔ اور یہ کوئی انہونی بات بھی نہیں کیونکہ دنیا میں اور بھی ایسی مثالیں موجود ہیں جب ادیب، شاعر اور رہنما اپنے سابقہ موقف سے رجوع کرتے ہوئے اور حالات و واقعات، حوادث زمانہ یا ترقی علم کی بدولت پہلے سے بہتر خیالات و نظریات پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس نظریہ کے ساتھ ساتھ اقبال کی شاعری میں بھی وسعت فکری پیدا ہوئی اور ان کی شاعری کا عمومی مخاطب امت مسلمہ اور خاص طور پر نوجوانان ملت ٹھہرا۔ ان کی شاعری کسی مخصوص خطہ زمین کے باسیوں تک محدود رہنے کی بجائے آفاقی حیثیت اختیار کر گئی۔ آپ نے امت خوابیدہ کو جگانے، اپنی قوم کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھیں، خواتین کو بھی اپنی شاعری میں بلند مقام دیا، جیسے " وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ" او ر عام لوگوں کے دکھ درد کو بھی بیان کیا، " ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات"

مختصر یہ کہ وہ ہر طبقہ کےشاعر تھے، ان کا مخاطب خاص طور پر مسلمان بحیثیت ایک قوم تھا ہی، لیکن ان کا پیغام آفاقی تھا۔مسلمانوں کی رفعت اور بلندی میں ہی وہ ساری دنیاکی بہتری اور بھلائی کا اصل راستہ دیکھتے تھے، کیونکہ اسلام ہی ایک مکمل ظابطہ حیات اور عدل وانصاف پر مبنی نظام پیش کرتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں بڑوں کی عزت کی جائے، نوجوانوں کی بے راہ روی کا سدباب، نئی تہذیب کی چکاچوند سےمتاثر ہو کے اپنی تہذیب و ثقافت سے دور ہونے سے روکنے اور ان کی صلاحیتوں کے مثبت استعمال کے لئے مناسب رہنمائی کا انتظام ہو۔ بچوں کا پورا پورا خیال رکھا جائے، ان کی بہترین پرورش کی جائے اور ان کی اچھی تعلیم و تربیت کا بندوبست کیا جائے، اس کے لئے ضروری ہے کہ مائیں اپنی یہ ذمہ داری نبھائے اوراپنا فرض ادا کرے، اور ماؤں سے بڑھ کر بچوں کا خیر خواہ اور ہمدرد کون ہو سکتا ہے۔ ان ماؤں کو بھی اولاد کی طرف سے زندگی میں عزت و احترام ملے اور فوت ہونے کے بعد بھی ان کو یاد رکھے اور ان کے لئے دل سے دعائیں نکلیں، " آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے" ۔ عام بندے کی مشکلات اور بندہ مزدور کے تلخ اوقات کے خاتمے کے لئے ضروری ہوگا کہ معاشی نا ہمواریوں کو ختم کیا جائے، انصاف پر مبنی معاشرہ ہو اور غریب لوگوں کے دکھوں کا مداوا اور ان کی مشکلات کا خاتمہ ہو۔ معاشرے کے ہر فرد کو اس کا جائز حق ملے اور عزت سے رزق کمانے کے ذرایع مہیا ہوں۔ یعنی ایک فلاحی معاشرہ اور فلاحی مملکت قائم ہو، پھر ہی ہم صحیح معنوں میں ایک اسلامی ملک کہلانے کے حقدار ہوں گے اور قوت مذہب سے ملک و قوم کو استحکام نصیب ہوگا۔ نہیں تو فکر اقبال لائبریریوں، تقریروں اور یونیورسٹی کے پروفیسرز کے لیکچرز میں ہی رہ جائے گا جبکہ اقتدار کے ایوانوں اور پالیسی ساز اداروں میں اس کا داخلہ ممنوع ہوگا۔

علامہ اقبال کو ہم نے قومی شاعر تو قرار دے دیا مگر ابھی تک اس خطاب کا صحیح معنوں میں حق ادا نہ کر سکے۔صرف ان کے نام پہ ایک عدد اوپن یونیورسٹی بنانے، ایوان اقبال کی بلند و بالا عمارت کھڑی کرنے اور اقبال اکادمی کے زیر اہتمام ڈھیر ساری کتابیں شایع کرکے الماریوں میں سجانے سے ہی ان کا حق ادا نہیں ہوگا او ر نہ ہی سڑکوں، پارکوں اور آبادیوں کے "اسماء گرامی" اقبال کے نام پہ رکھنے سے ہی پوری بات بنے گی۔ اقبال اگر مصور پاکستان تھا تو انہوں نے جس طرح کے ملک ومعاشرہ کا خواب دیکھا تھا، وہ خواب بھی تو پورا کیجئے، ورنہ اگر صرف یوم ولادت اور یوم وفات پر بوٹوں کی چاپ، پھولوں کے چادر کی چڑھائی اور گارڈز کی تبدیلی ہو، چند تقریبات اور تقریریں ہوں یا صرف کتابی و نصابی باتیں ہوں اور پھر بھی انکو قومی شاعر کہنے پہ اصرار ہو تو ہم یہ کہنے کی جسارت ضرور کریں گے کہ خدارا اقبال کے فکر و فلسفہ کو عام کیجئے، ان کے آفاقی پیغام کو افق کےاس پار سے اس پار تک پہنچنے کے لئے راستے اور وسیلے پیدا کیجئے، اور اقبال پہ کسی خاص ملک، قوم یا مذہب کی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اقبال کو آزاد کر دیجئے۔