اصل مسئلہ گُستاخ رسول کی سزا نہیں - عادِل سُہیل ظفر

ہے تو حیرت کی بات، کہ ہمارا پاکستان، اپنوں اور غیروں میں اب تک "اِسلام کا قلعہ" کہلاتا ہے۔ اللہ جلّ و عُلا کی حِکمت وہی جانتا ہے کہ، اُس کی، اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بے شُمار اور کُھلے عام نا فرمانیوں سے بھرے ہوئے معاشرے پر مُشتمل اِس مُلک کو یہ معزز خطاب اُس نے دِلوایا رکھا ہے۔ اس کی حِکمت کے بھید کوئی جان نہیں سکتا، ہاں، اُنہیں سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، اِسی کوشش میں، مجھے یہ سُجھائی دیتا ہے کہ اِس ملک کو اللہ تعالیٰ اُس کے دِین کی کامیابی کے لیے اِستعمال فرمائے گا۔ اِسلام کے پہلے خیر والے ادوار کے بعد والے مُسلمانوں کی تاریخ اِس بات کی گواہ ہے کہ خواب غفلت کے مزے لوٹنے والے مُسلمان اُسی وقت جاگتے ہیں جب اُنہیں اِسلام دُشمن کاری ضرب لگاتے ہیں، اور شاید ایسا ہی کچھ اب ہم پاکستانیو ں کے ساتھ ہو رہا ہے، کہ ہمارے اِس "اِسلام کے قلعے" میں مسلسل چار سُو نقب زنی کی جا رہی ہے۔

کہیں ایسے "مُفکران اِسلام " اِس قلعے کی بنیادیں کھودنے میں لگے ہوئے ہیں جنہیں اِسلام کے بنیادی قواعد و قوانین تک کا عِلم نہیں، جِن کا اِسلام اُن کی ذاتی سوچوں اور فلسفوں میں محصور ہے۔ کہیں ایسے "محسن اِنسانیت " اِس قلعے کی دیواروں کو کھرچ رہے ہیں، جنہیں ساری اِنسانیت، اِنسانیت کا حقیقی درس دینے والے رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات سے باہر ہی دِکھائی دیتی ہے۔ کہیں ایسے "آزاد منش (لبرلز)" اِس قلعے کے دراڑیں ڈالنے کی کوشش میں ہیں، کہ جِنہیں اپنے ابلیسی افکار اور اعمال کی تکمیل کے عِلاوہ کوئی بھی کام کرنا "خِلاف آزادی" لگتا ہے۔ اِن میں سے کئی تو ایسے ہیں جو جان بُوجھ کر اللہ تعالیٰ کے دِین سے دُشمنی کرنے والے ہیں، اور کچھ ایسے ہیں جو اِن دُشمنوں کی چرب زُبانی، لفاظی، فلسفوں اور مختلف ناموں سے مُزین شیطانی نعروں میں گم ہو کر، حقیقت کا ادراک رکھے بغیر، لا شعوری طور پر اِسلام کے دُشمنوں کے ہاتھوں چابی والا کھلونا بن جاتے ہیں، بلکہ آج کل کی تعبیرات میں تو یہ کہنا چاہیے کہ پروگرامڈ روبوٹ بن جاتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو دُنیا کی چند آسائشیں پانے کے لیے اپنی آخرت کی خیر اور آسائشوں بیچ ڈالتے ہیں، اور وقتی زندگی کی کچھ راحتوں کے بدلے اللہ جلّ جلالہُ کا عذاب مول لیتے ہیں۔ اِن لوگوں کی تازہ ترین کوششوں میں سے ایک کوشش "گستاخ رسول کی سزا موت " کے خِلاف ایسا ماحول پیدا کرنا ہے، جِس کی وجہ سے اِس سزا کو منسوخ کروایا جا سکے۔

کچھ دِن پہلے مردان یونیورسٹی میں ایک قتل ہوا، جس کا سبب یہی توہین رسالت بتایا گیا، اور کل پسرور کے علاقے میں ایک آدمی کو تین خواتین نے قتل کر دِیا، اور اُس کے قتل کا سبب بھی یہی بتایا گیا۔ کیا آپ صاحبان کے اذاہان میں کبھی یہ سوال نہیں آتا کہ یہ "قلعہ اِسلام " جِس میں لاکھوں مُسلمان ہر سال اپنی محبت رسول (عِشق رسول ) کے اظہار کے لیے ہزاروں محفلیں سجاتے ہیں، جلسے جلوس منعقد کرتے ہیں، اِس محبت زدہ معاشرے میں اُسی رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شان میں گستاخوں کی کثرت کیوں نمودار ہو رہی ہے ؟؟؟

یہ مسئلہ ، یعنی" رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی گستاخی کرنے والے کو موت کی سزا دینا "ہمارے معاشرے میں بار بار ہم مُسلمانوں کے جذبات کی مختلف کیفیات اور قوتوں کے ساتھ ظاہر ہوتا آ رہا ہے، بلکہ یہ کہا جانا زیادہ مُناسب معلوم ہوتا ہے کہ ظاہر کروایا جا رہا ہے، اور اِس کے ذریعے اللہ تعالیٰ، اُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اور اللہ تعالیٰ کے دِین کے خِلاف کام کرنے والے اپنے ایک مذموم مقصد کی تکمیل کو کوشش کر رہے ہیں اور وہ مقصد"گستاخ رسول کی سزا موت" کو ناقابل قبول بنانا ہے، یا، اِس کے نفاذ کو اِس قدر گھمبیر کہ وہ تقریباً نا ممکن سا ہوجائے، تا کہ اُن لوگوں کی خواہش کے مُطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات پاک کی شان میں گستاخی بھی اُسی طرح ایک حق رائے کی آزادی سمجھ لیا جائے جِس طرح کئی دیگر معاشروں میں انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کو سمجھ لیا گیا ہے۔

افسوس اُن دُشمنوں کی چالبازی کا نہیں، بلکہ اپنے مُسلمان بھائی بہنوں کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت سے دُوری ، اور دُشمن کی چال کو سمجھنے اور اُس کو ناکام بنانے کی حِکمت سے مبراء ہونے کا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا موت ہونے کے بارے میں کِسی بھی ایسے مُسلمان کو شک نہیں ہو سکتا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا مُقام، رُتبہ اور حقوق جانتا ہے۔ لیکن، اِس میں بھی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ہر کس و ناکس کو یہ سزا نافذ کرنے کی کھلی اجازت نہیں دی گئی۔

ہم سب جانتے ہیں کہ دِین کے بہت سے مسائل ایسے ہیں جِن کے حل وقت ، حالات، اور اُمت کی اجتماعی خیر اور بھلائی کے پیش نظر مختلف ہوسکتے ہیں، ہمارے دور میں، اور ہمارے معاشرے میں جہاں ہم عوام واقعتاً "عوام کالانعام"کا مصداق ہیں، اِس سزا کے نفاذ کا ہر کسی کو حقدار سمجھنا بہت ہی بڑے فتنے کا سبب ہے۔

اللہ ہی جانے کہ لوگوں کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتا کہ، اِسلام اور مُسلمانوں کے دُشمن اُنہیں ایک دفعہ پھر "حب رسول" کی آڑ میں اِن کی اپنی ہی دُنیا اور آخرت بگاڑنے والے کام پر لگا رہے ہیں۔ ایک طرف تو وہ دُشمن اپنے کارندوں کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان مُبارک میں گستاخیاں کرواتے ہیں، پھر دُوسری طرف سے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سزا موت ہونے کے خِلاف آراء کا غوغا بلند کرواتے ہیں۔ جِس کا لامحالہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے محبت کرنے والوں کے جذبات اِس قدر برانگیختہ ہو ئے جاتے ہیں کہ وہ اپنے اُسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات کی خِلاف ورزی کرنے لگتے ہیں، اور کِسی گستاخ کی گستاخی کو ثابت کیے بغیر، منظر عام پر لائے بغیر اُس کو خود ہی مار نے لگتے ہیں ۔

تو، اصل مسئلہ "توہین رسول کی سزا موت " نہیں، بلکہ، اِس سزا کے نفاذ کا طریقہ ہے، جس کا سبب حکومت اور دِینی رہنماؤں کی غیر سنجیدگی ہے، جی ہاں، میری اِس بات پر غصہ مت کیجیے گا، اور نہ ہی اِسے کِسی قِسم کی سیاسی موشگافی سمجھا جائے، واقع یہی ہے، کہ، ہمارےحکمران طبقہ کو چاہیے کہ اِس مسئلے کو، جو کہ سو فیصد دِینی مسئلہ ہے، غیر اِسلامی قوانین کی پابند عدالتوں اور نام نہاد"اِنسانی حقوق " کے علمبرداروں کے شور و غوغا کے ذریعے دبانے کی موافقت کرنے کی بجائے، عُلماء کرام کو پابند کریں کہ وہ مل کر اِس سزا کے نفاذ کا قانون بنائیں، اور عُلما کرام کو چاہیے کہ کم از کم اِس مسئلے میں، جس پر پاکستان میں مروج سب ہی مذاہب اتفاق رکھتے ہیں، اپنے مسلکی، مذہبی اور جماعتی تعصبات اور مفادات کو چھوڑ کر عملی طور پر اتفاق کر ہی لیں۔

اگر ہم واقعتاً، اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو جہنم کی طرف روانہ کروانا چاہتے ہیں، اور اپنے پاکستان کی حد تک اِس سزا کو ایک باقاعدہ قانون بنوانا چاہتے ہیں، تو، ہمیں عوام کو، اور ہمارے عُلماء کرام کو اتفاق کرنا ہی پڑے گا، ورنہ بجائے فائدے کے نقصان کا سبب بن جائیں گے۔

یاد رکھیے، ہمارے معاشرے میں پھوٹنے والے نئے فساد کا اصل مسئلہ "گستاخ رسول کی سزا " نہیں، بلکہ اِس سزا کی آڑ میں کروائے جانے والے قتل ہیں، جنہیں اِستعمال کر کے اِس سزا کو ختم کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایک دفعہ اگر دِین کے کِسی بھی معاملے کے خِلاف ہرزہ سرائی کا راستہ کھول دِیا گیا تو پھر شاید ہزاروں کے خون بہنے کے بعد بھی یہ راستہ بند نہ ہو پائے گا۔