ایک درخواست - وسیم گل

اللہ تعالی نے انسان کو ’’احسن تقویم‘‘ پیدا کیا ہے تاہم ان میں مرد اور عورت کی جنس پیدا کی اور جو اپنی جسمانی و نفسیاتی ساخت و صلاحیتوں کے لحاظ سے مختلف و منفرد ہیں۔ اسی طرح یہ اللہ کی حکمت و مصلحت ہے کہ بعض انسانوں میں کوئی کمی بیشی رکھی۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ
اللہ نے اس مختصر زندگی میں جسے عطا کیا یا جسے محروم رکھا تو دونوں ہی صورتوں میں انسان کے لیے صبر و شکر کے حوالے سے امتحان و آزمائش ہے۔ یہ کسی ایک انسان کی کسی دوسرے انسان پر برتری کا ثبوت ہرگز ہرگز نہیں۔

لہذا
کسی بھی انسان کو اس کی کسی جسمانی محرومی کی بنا پر تضحیک کا نشانہ بنانہ بلکل غلط اور اخیر درجے ناشائستہ بات ہے۔ مجھے تو یہ گناہ بلکہ گناہ کبیرہ محسوس ہوتا ہے۔

کیا کبھی ہم نے سوچا کہ.
جب ہم انسانی جسم و نفسیات میں موجود کمی کو نشانہ بناتے یا اسے بطور مثال اپنی جملہ بازی میں استعمال کرتے ہیں تو اس کمی کے حاملین کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس تکلیف کو سمجھنے کے لیے کبھی خود کو صرف فرضی طور پر ان کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں۔ روح چیخ اٹھے گی۔

پس ہر ایک سے درخواست ہے کہ
کسی کے لیے بھی لفظ ’’کھ‘‘ وغیرہ استعمال نہ کیا جائے اور نہ اسے بطور تشبیہہ و استعارہ استعمال کیا جائے کیونکہ اللہ کے نزدیک برتری کا معیار جسمانی ساخت نہیں بلکہ تقوی ہے۔

اللہ تعالی مجھے، ہم سب کو راہ حق و ہدایت پر قائم فرما دے۔ آمین

Comments

وسیم گل

وسیم گل

وسیم گل چین میں شعبہ اتصالات سے وابستہ ہیں اور ایریکسن کمپنی کی مختلف اسائنمنٹس کے سلسلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں