قاتل کون؟ - نصیر احمد ناصر

’’مردان واقعہ ملکی تاریخ کا المناک ترین سانحہ ہے‘‘،’’مشال خان کا قتل انسانیت کے نام پر بدنما دھبہ ہے ‘‘۔ــ’’پاکستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی جنونیت ملکی استحکام کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کیلئے بے رحم اقدامات کی ضرورت ہے ‘‘۔’’قانون وانصاف کے ہوتے ہوئے ولی خان یونیورسٹی جیسے واقعات شرمناک ہیں، حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے ‘‘۔’’یونیورسٹی میں جو کچھ ہوا، جانور بھی ایسا نہیں کرسکتے ‘‘۔

یہ اور ایسے ہی سیکڑوں فقرے گزشتہ کئی روز کاحاصل مطالعہ ہیں۔ اخباری بیانات، کالمز،بلاگز،سوشل میڈیا کمینٹس،الیکٹرونک میڈیا کے لائیو وریکارڈڈ مذاکرے اور مباحثے سن اور پڑھ کریہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک خوبصورت، کڑیل اور معصوم نوجوان کو وحشی درندوں نے خاک وخوں میں غلطاں کردیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک ہنستا بستا گھرانہ جنونیوں کے ہاتھوں اجاڑ دیا گیا ہے۔ پہلی بار ایک ماں کی کوکھ ویران کردی گئی ہے۔ مذہبی غلبہ کے زیر اثر آئے گمراہ جوانوں نے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جوان کو مارڈالا ہے، جس کے خلاف کوئی جرم بھی ثابت نہیں ہوسکا۔ چند افراد نے قانون وانصاف کا مُثلہ بنا کر بھرے چوک میں لٹکا دیا ہے، اورحکومتی رٹ کو تار تار کر کے رکھ دیا ہے۔

بخدا علم کے نام پر ایسی جہالت بانٹنے، ظلمت کو ضیاء ثابت کرنے، صر صر کو صباء قرار دینے، دشت وبیاباں کو گلستان منوانے اور عقل وشعور کے حامل کروڑوں عوام کو دن دیہاڑے بے وقوف بنانے کی ایسی پیہم، منظم اورنپی تلی جارحانہ مہم اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ ہی سنی۔ مشال خان کا قتل بلا شک وشبہ ایک انتہائی غلط اور ظالمانہ اقدام تھا، جس کی ملکی قانون یا شریعت محمدیہ میں کوئی گنجائش ہے اور نہ اس اقدام کا کوئی جواز یاتاویل پیش کی جاسکتی ہے۔ لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ایسی شدت صرف ایسے ہی واقعات پرنظر آتی ہے جب متاثرہ فریق پر توہین مذہب یا توہین رسالت کا الزام زیرگردش ہو۔ تمام تر دانشور،جید صحافی، ملک وقوم کے درد میں بے حال سیاسی وسماجی رہنما حکومتی سرپرستی میں مختلف مذہبی وسیاسی گروہوں کے مسلح جتھوں کے ہاتھوں ہزاروں بے گناہ شہریوں کے قتل عام پر ایسی سرگرمی دکھانے سے گھبراتے ہیں۔ امن عامہ کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمہ کے عنوان پر سرکاری اداروں کے ذریعے حکومتی مخالفین کو صفائی وثبوت کے مواقع دیئے بغیر بے دست وپا زندگی کے حق سے محروم کردیاجائے تو کوئی آواز بلند نہیں ہوتی۔ حکومتی اداروں کی دانستہ نااہلی، بدعنوانی اور کوتاہیوں کے سبب سالانہ تیس ہزارافرادکی ٹریفک حادثات میں دردناک اموات پر بھی کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ملاوٹ شدہ خوراک، ادویات اورزہر کو تریاق بناکر عوام کے حلق سے اتارنے والے قاتل دندناتے پھریں تو یہ ان کا مسئلہ ہی نہیں۔ سالہا سال تک انصاف اور حق کے حصول کی خواہش دل میں لئے اپنا کل اثاثہ مقدمات کی پیروی میں خرچ کرنے کے باوجود جرم بے گناہی کی سزا بھگتتے قبروں میں سوجانے والے ہزاروں افراد کی بے کسی پر کسی کا دل نہیں پسیجتا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک کے سیاہ وسفید پر قابض پتھر دل طبقہ اشرافیہ، سیاسی قیادتیں اور سرکاری اداروں میں بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہوس زر میں مبتلا سیاہ دل اسٹیبلشمنٹ ایک لمحہ کیلئے بھی اس قتل وقتال کے خاتمہ کی متحمل نہیں ہوسکتی،کیونکہ ان کی روزی روٹی انارکی وشدت پسندی کے اس مکروہ کھیل سے وابستہ ہے، جب تک قوم ان حالات سے دوچار رہے گی، آپس میں تقسیم ہوکر حکمران طبقہ کے کھیل تماشے کا ذریعہ بنی رہے گی، اس میں تبدیلی اور انقلاب کی صفت پیدا ہوسکے گی اور نہ ہی ایماندار اور مخلص قیادت کا انتخاب اس تقسیم شدہ اور جذباتیت زدہ قوم کا مطمعِ نظرقرار پاسکے گا۔ اجتماعی سود وزیاں کے عملی شعور سے بے بہرہ انسانوں کی بھیڑ ہی اس نسل کیلئے ایک آئیڈیل سیاسی ماحول کی بنیاد ی اکائی ہے، شعر میں معمولی ردوبدل پر شاعر سے پیشگی معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہوں گا کہ

غارت گری میں ہاتھ انہی کا ہے حضور

پرچم ہے جن کے ہاتھ میں امن وامان کا