نظم : مجھے بھائی جیسا پڑھا میرے بابا - سردار فہد

شاعر: سردارفہد

‏کہتا رہا اس کو سارا زمانہ
کہ بیٹی کو اپنی کبھی مت پڑھانا

کہ ہے اس کی دنیا میں اک بند کمرا
کبھی جھاڑو دینا ہے کھانا پکانا

وہ باہر کی دنیا میں اب کیا کرے گی
وہ کیوں علم سیکھے گی کیوں کر پڑھے گی

سلائی کڑھائی سکھا دینا اس کو
کتابوں کے بستے سے کیا لینا اس کو

مگر چار برسوں کی بیٹی ہوئی جب
کتابوں سے پھر آشنا وہ ہوئی جب

وہ پنسل اٹھاتی، وہ تتلی بناتی
وہ رنگوں سے کاغذ پہ کشتی بناتی

پرندے بناتی وہ اونچی فضاء میں
غبارے بنا کر اڑاتی ہوا میں

الف ب بھی سیکھا سہیلی سے اس نے
پھر اک دو بھی لکھا ہتھیلی سے اس نے

رکھا اس نے ہاتھوں کو پھر اپنے سر پر
وہ آ کر کے رونے لگی اپنے گھر پر

مجھے بھی کتابیں دلا میرے بابا
مجھے بھائی جیسا پڑھا میرے بابا

میں اونچا اڑوں گی پرندوں کے جیسے
نہیں رہنا مجھ کو درندوں کے جیسے

میں تتلی ہوں مجھ کو بھی اڑنا سکھاؤ
مجھے بند کمرے میں یوں نہ بٹھاؤ

نہ جانے کہ بابا کے دل میں کیا آیا
تبھی جا کے اسکول داخل کرایا

کتابیں دلائیں تھی بستہ دلایا
وہ ننھی پری کو پڑھایا لکھایا

بڑا عرصہ بیتا تھا اس ماجرے کو
وہ سب بھول بیٹھا تھا اس واقعے کو

وہ بیٹی ابھی اس کی شادی شدہ تھی
وہ پیارے سے ننھے سے بچوں کی ماں تھی

پہلی دفعہ بابا گھر اس کے آیا
نواسوں کو چاہت سے سینے لگایا

مگر دیکھ کر باپ حیران سا تھا
عجب سا تھا ماحول جو اس کے گھر کا

بڑے با ادب تھے نواسے بھی اس کے
عجب سا ہی اک نور تھا ان کے رُخ پہ

وہ پڑھنے لگے بیٹھ کر اپنی ماں سے
کہ ماں آشنا کرتی ان کو جہاں سے

سناتی تھی ماں ان کو سچ کی کہانی
دِکھاتا ہے سِکّے کیوں حضرت جیلانی

یہ بھی پڑھیں:   غافلوں کے ليے پیغام بیداری - اشفاق پرواز

سچائی کی باتوں کا تم ساتھ دینا
شرافت محبت سے دنیا میں رہنا

محنت میں عظمت ہے اے میرے بچو !
وطن سے محبت ہو اے میرے بچو !

ستاروں کو چھو کر دکھانا ہے تم نے
ستاروں سے آگے بھی جانا ہے تم نے

یہ سب دیکھ کر باپ رونے لگا تھا
بڑے فخر سے آج کہنے لگا تھا

اگر میری بیٹی بھی ان پڑھ سی ہوتی
تو بچوں کی ایسی پرورش نہ کرتی

اندھیرا ہی ہوتا جہالت نہ مٹتی
کبھی گھر میں یہ روشنی بھی نہ ہوتی

قوموں کی عزت پڑھی لکھی ماں ہے
تبھی تو ستاروں سے آگے جہاں ہے

بچیوں کو اسکول داخل کرا دو
میرے اس چمن سے جہالت مٹا دو

ٹیگز